کرکٹ لیگ: انڈیا میں تنازعہ جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مہذب لوگوں کا کھیل سمجھا جانے والا کرکٹ ہمیشہ عجیب وغریب تنازعات کا شکار ہوتا رہا ہے ۔کرکٹ کی تاریخ میں شاید ہی ایسا کوئی برس آیا ہو جب کوئی نیا تنازعہ پیدا نہ ہوا ہو۔ اس وقت ہندوستانی کرکٹ ایک نئے قسم کے تنازعہ سے دوچار ہے جس میں کہ انڈین کرکٹ لیگ اور بی سی سی آئی کے درمیان جنگ جاری ہے ۔ قصہ یہ ہے کہ نو تشکیل آئي سی ایل یعنی ’انڈین کرکٹ لیگ‘ نے اس سال کے آخر میں ایک ٹؤنٹی ٹؤنٹی سیریز کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔ آئی سی ایل کے اس فیصلہ کے سبب گزشتہ دنوں سے ملک میں کرکٹ کے مداح کرکٹ میچوں کی بجائے آئی سی ایل اور بی سی سی آئی کے درمیان جاری بیان بازی اور مقابلے سے محظوظ ہو رہے ہیں۔ آئی سی ایل کی معاونت ہندوستان کے بعض کاروباری لوگوں سمیت ایشاء کی سب سے بڑی ٹی وی نیٹ ورک کپمنی ’زی ٹیلی فلم‘ کر رہی ہے۔ آئی سی ایل کے فیصلے پر بھارتی کرکٹ بورڈ یعنی بی سی سی آئی نے سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے اورگزشتہ جمعہ کو بورڈ کے سکریٹری نرنجن شاہ نے آئی سی ایل کے سیریز میں حصلہ لینے والے کھلاڑیوں پر بی سی سی آئی کی جانب سے تاحیات پابندی کی وارننگ دی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’جو کھلاڑی آئی سی ایل میں حصہ لیں گے وہ ہندوستان کے لیے دوبارہ نہيں کھیل سکتے۔ اب اس بات کاانحصار کھلاڑیوں پر ہے کہ وہ کیا کرنا چاہتے ہیں۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ پابندی ان کھلاڑیوں پر بھی ہوگی جنہوں نے اب تک ملک کی نمائندگی نہیں کی ہے اور ایسے کھلاڑیوں کے لیے ملک کے اندر یعنی ڈومیسٹک کرکٹ کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ اس معاملے میں بی سی سی آئی کے سربراہ شرد پوار کا بیان زیادہ خوش تدبیر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اگر کوئی ابھرتے نوجوانوں کو کوچ کرنا چاہتا ہے توغلط بات نہيں ہے بلکہ یہ ملک کے لیے فائدہ مند ہی ہے لیکن اگر کوئی آزاد ادارہ کھول کر کسی ٹورنامنٹ کا انعقاد کرتا ہے تو یہ بی سی سی آئی کے لیے پریشانی کا سبب ہے۔‘ بی سی سی آئی کی جانب سے کھلاڑیوں پر تاحیات پابندی کی دھمکی پر جوابی حملہ کرتے ہوئے آئی سی ایل نے کہا ہے ’بی سی سی آئی ایک پرائیوٹ ادارہ ہے اور اسے کھلاڑیوں کو اس طرح کی ہدایت جاری کرنے کا کوئی اختیار نہيں ہے۔‘ آئی سی ایل کے اعلیٰ حکام نے اسے غیر اخلاقی رویہ قرار دیا۔ آئی سی ایل کے ایگزیکٹو بورڈ کے صدر کپیل دیو نے بی سی سی آئی پر نکتہ چینی کی اور کہا کہ بی سی سی آئی کے بیان سے انہیں مایوسی ہوئي ہے۔ ’ہماری کرکٹ پروگرام کے مطابق جاری رہے گی، کوئی بھی کسی کو کرکٹ کھیلنے سے نہيں روک سکتا، یہ شرمناک ہے کہ بی سی سی آئی نے اس طرح کا رویہ اپنایا ہے۔‘
انہوں نے الزام لگایا کہ بی سی سی آئی نے پہلے کرکٹ کے فروغ کی جانب کام کیا اوراب وہ ہی کرکٹ سے لوگوں کو دور کرنا چاہتی ہے۔ بقول ان کے بی سی سی آئی، آئی سی ایل سے خطرہ محسوس کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ بعض ماہرین کا خيال ہے کہ آئی سی ایل کرکٹ کو ایک نئے طرز میں پیش کرکے نہ صرف شائقین کو کھیل سے لطف اندوز ہونے کا موقع فراہم کرے گی بلکہ کھلاڑی بھی بھاری رقوم کمائیں گے۔ آئی سی ایل کے اس نئے طرز کے کھیل میں کپیل دیو کے علاوہ کوئی بڑا نام اب تک کھل کر شامل نہيں ہوا ہے۔ کپیل دیو نے آئی سی ایل سے جُڑے بڑے کھلاڑیو ں کے نام بتانے سے احتراز کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق آئی سی ایل دینا کے بہترین اور نامور کھلاڑیوں سے رابطہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان میں پاکستان کے انضمام الحق، ویسٹ انڈیز کے برائن لارا، آسٹریلیا کے شین وارن، سری لنکا کے سنت جیا سوریہ اور نیوزی لینڈ کے کرس کیرن کے نام شامل ہیں۔ |
اسی بارے میں انڈین لیگ: کرکٹرز کے قانونی مشورے02 August, 2007 | کھیل انڈین لیگ کھیلیں: سابق کرکٹرز03 August, 2007 | کھیل انڈیا لیگ، شعیب اختر کا انکار03 August, 2007 | کھیل انڈین کرکٹ لیگ ناقابل قبول02 August, 2007 | کھیل ’ہمیں ٹیم میں شامل نہ کیا جائے‘07 July, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||