BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 03 August, 2007, 14:15 GMT 19:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انڈین لیگ کھیلیں: سابق کرکٹرز

انڈین کرکٹ لیگ میں کھیلنے کی پیشکش پرکشش بتائی گئی ہے
انڈین کرکٹ لیگ میں کھیلنے کی پیشکش پرکشش بتائی گئی ہے
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کرکٹرز کا کہنا ہے کہ پاکستان کے جن کھلاڑیوں کو انڈین لیگ کھیلنے کی پیشکش ہوئی ہے انہیں یہ پیشکش قبول کر لینی چاہیے۔

انڈین کرکٹ لیگ کے منتظمین کی جانب سے پاکستانی کرکٹرز کو لیگ کھیلنے کے لیے ایک بھاری معاوضے کی پیشکش نے پاکستان کے کرکٹ حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ انضمام الحق کے علاوہ پاکستان کی ٹیم کے دیگر کھلاڑیوں کو بھی اس پیشکش کی خبریں ہیں۔

پیشکش اتنی پر کشش بتائی جاتی ہے کہ کسی کے منہ میں بھی پانی بھر آئے اور اس کے اختیار میں ہو تو فورا یہ پیشکش قبول کر لے لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف کا موقف ہے کہ جو انڈین کرکٹ لیگ کھیلے گا اس پر پاکستان کی ٹیم کے دروازے بند۔

دوسری جانب آج کل پاکستان کرکٹ بورڈ کا سینیئر کھلاڑیوں کے ساتھ رویہ بھی بہت اچھا نہیں ہے۔ انضمام الحق کو سنٹرل کانٹریکٹ نہیں دیا گیا اور اب عبدالرزاق اور محمد یوسف کو بھی ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے ٹیم میں نہ رکھنے کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ اسی وجہ سے محمد یوسف کراچی کا کیمپ چھوڑ کر واپس چلے گئے۔

 مسئلہ تو یہی ہے کہ جب آپ کے ملک میں آپ کی قدر نہیں اور ایک کرکٹر ملک کو پچیس تیس سال دیتا ہے لیکن اسے اچھی نوکری نہیں ملتی تو جس وقت اس کا عروج ہوتا ہے اگر اسے ایسا موقع ملتا ہے تو اسے اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
جاوید میاں داد
اب وہ کرکٹرز جن کے پاس نام تو بہت ہے لیکن بین الاقوامی کرکٹ کھیلنے کے لیے وقت کم رہ گیا تو انہیں کیا کرنا چاہیے؟

پاکستان کی ٹیم کے سابق کپتان اور کوچ جاوید میاں داد کا کہنا ہے کہ مسئلہ تو یہی ہے کہ جب آپ کے ملک میں آپ کی قدر نہیں اور ایک کرکٹر ملک کو پچیس تیس سال دیتا ہے لیکن اسے اچھی نوکری نہیں ملتی تو جس وقت اس کا عروج ہوتا ہے اگر اسے ایسا موقع ملتا ہے تو اسے اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ایک کرکٹر کے پاس بہت لمبا عرصہ بھی نہیں ہوتا کہ وہ ساری زندگی کے لیے بہتر وسائل اکٹھے کر لے یا تو کرکٹ بورڈ ان کو ایسی پیشکش جیسا معاوضہ دے تو پھر وہ ایسی پیشکش کے بارے میں نہیں سوچیں گے، نہیں تو انہیں حق ہے کہ وہ ایسی پیشکش کو قبول کر لیں۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے ایک اور سابق کپتان اور سابق کوچ انتخاب عالم کہتے ہیں: ’میرا ذاتی خیال ہے کہ اس میں کوئی غلط بات نہیں اور بورڈ کو چاہیے کہ اس پر اتنا زیادہ سخت موقف نہ رکھیں بلکہ کچھ آزادی دینی چاہیے اور اگر انڈین لیگ کے منتظمین کسی کو پیشکش کر رہے ہیں تو اسے قبول کرنی چاہیے۔‘

انہوں نے مشورہ دیا کہ پاکستان میں بھی ایسی لیگ ہونی چاہیے اور لوگوں کو باہر سے بلوانا چاہیے۔ ’ایک نئی چیز متعارف ہو رہی ہے تو اس میں جانے سے روکنا درست نہیں اور اگر انضمام کو کوئی پیشکش ہوئی ہے تو اسے اس میں جا کر کھیلنا چاہیے۔‘

گگلی گیند کروانے میں شہرت رکھنے والے ماضی کے زبردست سپنر عبدالقادر نے کرکٹ بورڈ کے سربراہ ڈاکٹر نسیم اشرف کے کھلاڑیوں کو اجازت نہ دینے کے فیصلے پر کہا کہ کرکٹ بورڈ کے ارباب اختیار جو کہ کرکٹرز نہیں ہیں وہ ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر فیصلے کر تے ہیں۔ ’انہیں یہ سوچنا چاہیے کہ کرکٹر کی زندگی بار بار نہیں ملتی اور نہ ہی ہر کرکٹر کو ایسی پیشکش ہوتی ہے اور یہ تو کسی کرکٹر کی روزی روٹی پر ضرب لگانے کے برابر ہے۔‘

 ماضی میں جب کیری پیکر نے کرکٹ شروع کی تو اس سے کرکٹرز اور کرکٹ کے کھیل کو فائدہ ہوا، کرکٹرز کی تنخواہیں بڑھیں، کرکٹ کو اشتہارات ملے ۔ انڈین لیگ سے بھی اگر ایسا فائدہ ہوتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں لیکن اسے آئی سی سی سے متصادم نہیں ہونا چاہیے۔
عبدالقادر
عبدالقادر کا کہنا تھا کہ کرکٹرز کو تو جہاں کرکٹ اور پیسہ ملے اسے ضرور خوش آمدید کہیں۔

لیکن پاکستان کی ٹیم کے ایک اور سابق کپتان بیٹسمین عامر سہیل کی رائے کچہ مختلف تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انڈین لیگ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اور دیگر کرکٹ بورڈز سے متصادم نہیں تو اس میں جانے سے کوئی حرج نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’ماضی میں جب کیری پیکر نے کرکٹ شروع کی تو اس سے کرکٹرز اور کرکٹ کے کھیل کو فائدہ ہوا، کرکٹرز کی تنخواہیں بڑھیں، کرکٹ کو اشتہارات ملے ۔‘ ان کے خیال میں انڈین لیگ سے بھی اگر ایسا فائدہ ہوتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں لیکن اسے آئی سی سی سے متصادم نہیں ہونا چاہیے۔

چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف نے بھی یہی کہا ہے کہ اگر آئی سی سی اس لیگ کو منظور کر لے تو انہیں بھی کوئی اعتراض نہیں ہوگا لیکن ابھی کسی کرکٹر کو اسے کھیلنے کی اجازت نہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ توقیر ضیاء بھی موجودہ چیئرمین کے ہم خیال ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کھلاڑی کو پیسے کے لیے کھیلنا ہے تو جہاں پیسہ ہے وہاں جائے، ملک کی نمائندگی کی کیا ضرورت ہے؟ اگر باہر ہی کھیلنا ہے تو اپنے بورڈ کے ساتھ سنٹرل کنٹریکٹ کیوں کرتے ہیں اور اس سنٹرل کنٹریکٹ میں مراعات حاصل کرنے کے لیے لڑتے ہیں۔

سابق چیئرمین نے کہا کہ ان کے خیال میں ان کرکٹرز کو انڈین لیگ کھیلنے کے لیے نہیں جانا چاہیے اور اس ضمن میں موجودہ چیئرمین کا فیصلہ بالکل درست ہے۔

اب جن کھلاڑیوں کو یہ پیشکش ہوئی ہے وہ کس کا مشورہ مانتے ہیں یہ تو بعد میں معلوم ہوگا البتہ یہ کھلاڑی اس پیشکش پر سوچ بچار اور باہمی مشورے کر رہے ہیں بلکہ اطلاعات ہیں کہ یہ قانونی مشورے بھی کر رہے ہیں۔

انڈین کرکٹ لیگ
بھارت میں نجی چینل کی کرکٹ لیگ
انضمام الحق انضمام: انڈین لیگ
انضمام الحق کو انڈین لیگ کھیلنے کی پیشکش
برطانیہ میں پاکستانی نثراد فٹبال کھلاڑیٹیلنٹ کی تلاش
پاکستان فٹبال ٹیم برٹش کھلاڑیوں کی منتظر
 سچن تینڈولکر کرکٹ بورڈ کے فیصلے
اشتہارات میں کمی ٹیم کے لیے نئے ضوابط
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد