انڈین کرکٹ لیگ ناقابل قبول | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف نے کہا ہے کہ انڈین کرکٹ لیگ کھیلنے والا کرکٹر پاکستان کی طرف سے کھیلنے کا اہل نہیں ہوگا۔ واضح رہے کہ انڈین کرکٹ لیگ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان انضمام الحق سے معاہدے میں دلچسپی رکھتی ہے اور یہ اطلاعات بھی ہیں کہ متعدد دوسرے پاکستانی کرکٹرز کو بھی پرکشش معاوضوں پر لیگ کھیلنے کی پیشکش ہوئی ہے۔ نیشنل اسٹیڈیم میں جاری قومی کیمپ کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر نسیم اشرف کا کہنا تھا کہ انڈین کرکٹ لیگ بڑا ایشو نہیں ہے اس میں ان کرکٹرز کی دلچسپی ہے جو یا تو ریٹائر ہوچکے ہیں یا پھر ریٹائرمنٹ کے قریب ہیں اور ان کا خیال ہے کہ وہ اس مرحلے پر ایک بڑی رقم کماسکتے ہیں لیکن چونکہ یہ لیگ آئی سی سی سے منظور شدہ نہیں لہذا وہ اسے پاکستانی کرکٹ کے مفاد سے متصادم سمجھتے ہیں اور وہ اس کی قطعاً حمایت نہیں کرینگے۔ ڈاکٹر نسیم اشرف نے کہا کہ کوئی بھی کرکٹر انڈین لیگ میں کھیلنا چاہتا ہے وہ خوشی سے جاسکتا ہے لیکن اس کے بعد اس کے لئے پاکستانی کرکٹ ٹیم میں جگہ نہیں ہوگی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی اس بارے میں پالیسی واضح ہے تاہم اگر مستقبل میں آئی سی سی انڈین لیگ کو قبول کرلیتی ہے تو پاکستان کرکٹ بورڈ بھی اپنی پالیسی پر نظرثانی کرے گا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ جمعہ کو بیس کرکٹرز کو سینٹرل کنٹریکٹ دینے والا ہے اس بارے میں ڈاکٹر نسیم اشرف نے کہا کہ اس میں باقاعدہ شق موجود ہے کہ کرکٹر بغیر بورڈ کی اجازت نہ کاؤنٹی کھیل سکتا ہے اور نہ کسی اشتہار میں کام کرسکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ یونس خان، یاسرعرفات اور دانش کنیریا بورڈ کی اجازت سے کاؤنٹی کھیل رہے ہیں جبکہ عمرگل اور محمد آصف کو بورڈ نے کاؤنٹی کھیلنے کی اجازت نہیں دی ہے۔ البتہ ان کے ممکنہ مالی نقصان کی تلافی کی گئی لیکن انڈین لیگ اس سے بالکل مختلف معاملہ ہے۔ | اسی بارے میں ’ کھلاڑی یا اہلکار ملوث نہیں‘23 March, 2007 | کھیل نسیم اشرف کا استعفی نامنظور30 March, 2007 | کھیل اشرف کے خلاف تحریک استحقاق06 June, 2007 | کھیل انضمام سینٹرل کنٹریکٹ سے باہر؟17 June, 2007 | کھیل انضمام سینٹرل کنٹریکٹ سے باہر16 July, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||