انضمام سینٹرل کنٹریکٹ سے باہر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق کپتان انضمام الحق نیا سینٹرل کنٹریکٹ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئرمین ڈاکٹرنسیم اشرف نے پیر کو سینٹرل کنٹریکٹ حاصل کرنے والے جن بیس کرکٹرز کے ناموں کا اعلان کیا ان میں انضمام الحق شامل نہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئرمین نے انضمام الحق کو سینٹرل کنٹریکٹ نہ دیے جانے پر کہا ہے کہ وہ یہ تاثر ختم کرنا چاہتے ہیں کہ بورڈ انضمام الحق کے خلاف ہے۔ انہوں نے گیند سلیکشن کمیٹی کے کورٹ میں ڈالتے ہوئے کہا کہ اگر سلیکٹرز نے انہیں منتخب کیا تو وہ ضرور کھیلیں گے تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کر دیا کہ سلیکٹرز کو واضح ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سلیکشن کے وقت کھلاڑی کی سو فیصد فزیکل فٹنس کو مدِنظر رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ سینٹرل کنٹریکٹ حاصل کرنے والے بیس کھلاڑیوں کا انتخاب سلیکشن کمیٹی کے پیش کردہ تینتیس ناموں میں سے کیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ انضمام الحق ان تینتیس کھلاڑیوں میں بھی شامل نہیں تھے۔
ڈاکٹر نسیم اشرف نے کہا کہ ضروری نہیں کہ جو کرکٹرز سینٹرل کنٹریکٹ حاصل نہیں کرسکے ہیں وہ ٹیم میں منتخب نہیں ہوسکتے دنیا بھر میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں کہ کرکٹرز بورڈ سے معاہدے میں نہیں ہوتے لیکن انہیں ٹیم میں شامل کیا جاتاہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئرمین نے یہ بھی کہا کہ جن بیس کرکٹرز کو سینٹرل کنٹریکٹ دیا گیا ہے وہ دونوں طرز کی کرکٹ یعنی ون ڈے اور ٹیسٹ کے سلیکشن کے لیے دستیاب ہیں۔ ان کا اشارہ انضمام الحق کی طرف تھا جنہوں نے ون ڈے کرکٹ کو ورلڈ کپ کے بعد خیرباد کہہ دیا ہے۔ انضمام الحق کو سینٹرل کنٹریکٹ نہ دینے کا فیصلہ اس لیے غیرمتوقع نہیں کہ ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کی تمام تر ذمہ داری انضمام کو خود سر اور آمر قرار دے کر انہی پر عائد کردی گئی تھی اور جب آنے والے کرکٹ سیزن کی تیاری کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ نے قومی کیمپ تین مرحلوں میں لگانے کا فیصلہ کیا تو پہلے دو کیمپوں میں بھی انضمام الحق کو شامل نہ کر کے یہ پیغام دے دیا گیا کہ ان کے مستقبل کا فیصلہ کیا جاچکا ہے۔ ورلڈ کپ کے فوراً بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے کھلاڑیوں کے سینٹرل کنٹریکٹ معطل کردیے تھے اور چھ ماہ کے مختصر عرصے کے لیے یہ کنٹریکٹ دیے گئے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئرمین نے بتایا کہ آئی سی سی کی موجودہ رینکنگ میں کھلاڑیوں کی کارکردگی کی بنیاد پر کھلاڑیوں کو سینٹرل کنٹریکٹ دیا جارہا ہے تاہم آئندہ سال جنوری میں نیا سینٹرل کنٹریکٹ دیتے وقت پاکستان کرکٹ بورڈ پرفارمنس، سنیارٹی، فٹنس اور ڈسپلن کے فارمولے کو بنیاد بنائے گا۔
جن بیس کھلاڑیوں کو کنٹریکٹ دیے گئے ہیں ان میں آٹھ کرکٹرز شعیب ملک، محمد یوسف، یونس خان، شعیب اختر، شاہد آفریدی، عمرگل، محمد آصف اور عبدالرزاق کو اے کیٹگری میں رکھا گیا ہے۔ بی کیٹگری میں سات کھلاڑی سلمان بٹ، محمد سمیع، عمران فرحت، محمد حفیظ، یاسرحمید، دانش کنیریا اور کامران اکمل شامل ہیں۔ جب کہ سی کیٹگری عمران نذیر، راؤ افتخار، فیصل اقبال، مصباح الحق اور یاسرعرفات پر مشتمل ہے۔ |
اسی بارے میں انضمام کو کنٹریکٹ ملے گا؟02 June, 2007 | کھیل سچ کی جیت، پاکستان میں ردعمل12 June, 2007 | کھیل وولمر کیس:جواب طلب کرنا چاہیے12 June, 2007 | کھیل انضمام کی جگہ بنتی ہے، رمیز29 May, 2007 | کھیل ’جدید‘ کوچ چاہیے: نسیم اشرف28 May, 2007 | کھیل دس ہزار کا سوچ رہا ہوں: انضمام27 April, 2007 | کھیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||