BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 16 July, 2007, 15:01 GMT 20:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انضمام سینٹرل کنٹریکٹ سے باہر

انضمام
انضمام الحق نے ورلڈ کپ کے بعد کپتانی چھوڑنے کے ساتھ ون ڈے کرکٹ سے ریٹائر ہونے کا اعلان کر دیا تھا
سابق کپتان انضمام الحق نیا سینٹرل کنٹریکٹ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئرمین ڈاکٹرنسیم اشرف نے پیر کو سینٹرل کنٹریکٹ حاصل کرنے والے جن بیس کرکٹرز کے ناموں کا اعلان کیا ان میں انضمام الحق شامل نہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئرمین نے انضمام الحق کو سینٹرل کنٹریکٹ نہ دیے جانے پر کہا ہے کہ وہ یہ تاثر ختم کرنا چاہتے ہیں کہ بورڈ انضمام الحق کے خلاف ہے۔ انہوں نے گیند سلیکشن کمیٹی کے کورٹ میں ڈالتے ہوئے کہا کہ اگر سلیکٹرز نے انہیں منتخب کیا تو وہ ضرور کھیلیں گے تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کر دیا کہ سلیکٹرز کو واضح ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سلیکشن کے وقت کھلاڑی کی سو فیصد فزیکل فٹنس کو مدِنظر رکھیں۔

انہوں نے کہا کہ سینٹرل کنٹریکٹ حاصل کرنے والے بیس کھلاڑیوں کا انتخاب سلیکشن کمیٹی کے پیش کردہ تینتیس ناموں میں سے کیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ انضمام الحق ان تینتیس کھلاڑیوں میں بھی شامل نہیں تھے۔

انضمام الحق خود سر اور آمر قرار
انضمام الحق کو سینٹرل کنٹریکٹ نہ دینے کا فیصلہ اس لیے غیرمتوقع نہیں کہ ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کی تمام تر ذمہ داری انضمام کو خود سر اور آمر قرار دے کر انہی پر عائد کردی گئی تھی

ڈاکٹر نسیم اشرف نے کہا کہ ضروری نہیں کہ جو کرکٹرز سینٹرل کنٹریکٹ حاصل نہیں کرسکے ہیں وہ ٹیم میں منتخب نہیں ہوسکتے دنیا بھر میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں کہ کرکٹرز بورڈ سے معاہدے میں نہیں ہوتے لیکن انہیں ٹیم میں شامل کیا جاتاہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئرمین نے یہ بھی کہا کہ جن بیس کرکٹرز کو سینٹرل کنٹریکٹ دیا گیا ہے وہ دونوں طرز کی کرکٹ یعنی ون ڈے اور ٹیسٹ کے سلیکشن کے لیے دستیاب ہیں۔ ان کا اشارہ انضمام الحق کی طرف تھا جنہوں نے ون ڈے کرکٹ کو ورلڈ کپ کے بعد خیرباد کہہ دیا ہے۔

انضمام الحق کو سینٹرل کنٹریکٹ نہ دینے کا فیصلہ اس لیے غیرمتوقع نہیں کہ ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کی تمام تر ذمہ داری انضمام کو خود سر اور آمر قرار دے کر انہی پر عائد کردی گئی تھی اور جب آنے والے کرکٹ سیزن کی تیاری کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ نے قومی کیمپ تین مرحلوں میں لگانے کا فیصلہ کیا تو پہلے دو کیمپوں میں بھی انضمام الحق کو شامل نہ کر کے یہ پیغام دے دیا گیا کہ ان کے مستقبل کا فیصلہ کیا جاچکا ہے۔

ورلڈ کپ کے فوراً بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے کھلاڑیوں کے سینٹرل کنٹریکٹ معطل کردیے تھے اور چھ ماہ کے مختصر عرصے کے لیے یہ کنٹریکٹ دیے گئے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئرمین نے بتایا کہ آئی سی سی کی موجودہ رینکنگ میں کھلاڑیوں کی کارکردگی کی بنیاد پر کھلاڑیوں کو سینٹرل کنٹریکٹ دیا جارہا ہے تاہم آئندہ سال جنوری میں نیا سینٹرل کنٹریکٹ دیتے وقت پاکستان کرکٹ بورڈ پرفارمنس، سنیارٹی، فٹنس اور ڈسپلن کے فارمولے کو بنیاد بنائے گا۔

جنوری سے کنٹریکٹ کا فارمولہ
 آئندہ سال جنوری میں نیا سینٹرل کنٹریکٹ دیتے وقت پاکستان کرکٹ بورڈ پرفارمنس، سنیارٹی، فٹنس اور ڈسپلن کے فارمولے کو بنیاد بنائے گا
نسیم اشرف

جن بیس کھلاڑیوں کو کنٹریکٹ دیے گئے ہیں ان میں آٹھ کرکٹرز شعیب ملک، محمد یوسف، یونس خان، شعیب اختر، شاہد آفریدی، عمرگل، محمد آصف اور عبدالرزاق کو اے کیٹگری میں رکھا گیا ہے۔

بی کیٹگری میں سات کھلاڑی سلمان بٹ، محمد سمیع، عمران فرحت، محمد حفیظ، یاسرحمید، دانش کنیریا اور کامران اکمل شامل ہیں۔

جب کہ سی کیٹگری عمران نذیر، راؤ افتخار، فیصل اقبال، مصباح الحق اور یاسرعرفات پر مشتمل ہے۔

انضمامانضمام کا کیریئر
ورلڈ کپ سے عروج، ورلڈ کپ پر اختتام
سابق کپتان انضمام الحقورلڈ کپ میں ہار
انضمام کا آمرانہ رویہ: انکوائری رپورٹ
پاکستان کی شکست
انضمام نہیں، بورڈ ذمہ دار: سابق ٹیسٹ کرکٹرز
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد