’ہار کی وجہ انضمام کا آمرانہ رویہ تھا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ کی ایویلیوایشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ عالمی کپ میں پاکستان کی بری کارکردگی کی بڑی وجہ انضمام الحق کا آمرانہ رویہ تھا جبکہ اس شکست میں میچ فکسنگ کے کوئی عوامل نہیں تھے۔ کمیٹی کے سربراہ اعجاز بٹ نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں ان اسباب کے بارے میں بتایا جو عالمی کپ میں شکست کی وجہ بنے۔ دس صفحات پر مشتمل کمیٹی کی رپورٹ میں پاکستان میں کرکٹ کی بہتری کے لیے تجاویز بھی دی گئیں۔ عالمی کپ میں آئر لینڈ کے ہاتھوں پاکستانی ٹیم کی شکست کی وجوہات بتاتے ہوئے کمیٹی کے سربراہ اعجاز بٹ نے کہا کہ انضمام الحق بلا شبہ بہت عظیم کرکٹر ہیں لیکن بحثیت کپتان انہوں نے اپنا کردار صحیح طور پر نہیں نبھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ انضمام کے ’آمرانہ رویے‘ سے پاکستان کی ٹیم کو نقصان پہنچا۔ وہ ہر سطح پر اپنی بات کو حرف آخر سمجھتے تھے۔ ٹیم کے انتخاب میں بھی ان کا عمل دخل زیادہ ہوتا تھا۔‘ انہوں نے کہا کہ ایک سلیکٹر عالمی کپ کے دوران ویسٹ انڈیز خاص طور پر پلئنگ الیون کی سلیکشن میں مشورے کے لیے موجود تھے مگر انہیں ٹیم میٹنگ میں بھی نہیں بلوایا جاتا تھا اور سب فیصلے انضمام ہی کرتے تھے۔
اعجاز بٹ نے کہا کہ پوچھ گچھ کے دوران کمیٹی نے انضمام سے دریافت کیا کہ آپ پر الزام ہے کہ کھلاڑیوں کے انتخاب میں دخل دیتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ جب میں سلیکشن کمیٹی کو کسی کھلاڑی کو ٹیم میں رکھنے کے لیے کہتا ہوں تو وہ اس کھلاڑی کو رکھ لیتے ہیں اس میں میرا کیا قصور ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی تجویز ہے کہ انضمام کو نہ تو ٹیم کی قیادت دی جائے بلکہ انہیں کسی قسم کی کرکٹ کے لیے بھی ٹیم میں نہ رکھا جائے۔ اعجاز بٹ نے سابق سلیکشن کمیٹی پر بھی کڑی تنقید کی اور کہا کہ ٹیم کی سلیکشن میں ان کا کردار نہ ہونے کہ برابر تھا۔ اعجاز بٹ کا کہنا تھا کہ عالمی کپ کے لیے سکواڈ پندرہ کھلاڑیوں کا نہیں بلکہ بارہ کھلاڑیوں کا تھا دو فاسٹ بالر ان فٹ ہونے کے سبب نہیں گئے تھے جبکہ شاہد آفریدی پر دو میچز کی پابندی تھی۔ سلیکشن کمیٹی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان فٹ کھلاڑیوں کو منتخب کرنے کے سبب ٹیم کا کم کھلاڑیوں کے ساتھ عالمی کپ میں جانا بھی ایک غلط بات تھی۔
اعجاز بٹ نے کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین پر بھی کڑی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی کپ میں شریک تمام ممالک نے کافی پہلے سے عالمی کپ کے لیے تیاری کر رکھی تھی لیکن پاکستان کی کوئی تیاری نہیں تھی۔’ ہم سے تو بہتر بنگلہ دیش کی ٹیم کی تیاری تھی اور اس کے ذمہ دار کرکٹ بورڈ کے سابق اہلکار ہیں۔‘ اعجاز بٹ سے دریافت کیا گیا کہ اگر سابق بورڈ اس کا ذمہ دار ہے تو یہ ذمہ داری کیا اس کمیٹی کے ایک رکن سلیم الطاف پر عائد نہیں ہوتی کیونکہ وہ سابق بورڈ میں ڈاریکٹر کرکٹ آپریشن تھے اس بات کا جواب سلیم الطاف نے خود دیا اور کہا کہ ٹیم کی تیاری اور انتخاب کی ذمہ دار سلیکشن کمیٹی ہوتی ہے اور ڈاریکٹر کرکٹ آپریشنز کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ اعجاز بٹ نے ایک اور وجہ کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ تمام ملکوں سے آفیشلز ویسٹ انڈیز میں وکٹیں دیکھنے گئے لیکن پاکستان سے کسی نے جا کر وکٹوں کا جائزہ لینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ بی بی سی نے بعد ازاں اعجاز بٹ سے دریافت کیا کہ کیا وکٹوں کا جائزہ نہ لینے کی ذمہ داری موجودہ بورڈ کی ہے اور دو ان فٹ فاسٹ بالرز شعیب اختر اور محمد آصف کو آخری وقت میں ٹیم میں رکھنے پر بھی کیا موجودہ بورڈ ذمہ دار ہو سکتا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ وہ کسی کو پن پوائنٹ نہیں کر سکتے اور ان کو موجودہ بورڈ نے یہ کام دیا تھا کہ وہ شکست کے اسباب کا جائزہ لے کر اپنی سفارشات پیش کریں البتہ انہوں نے یہ ضرور کہا کہ اس شکست کا ذمہ دار کسی ایک کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا سب ہی اس کے ذمہ دار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دس صفحات کی اس رپورٹ میں کمیٹی نے ملک میں کرکٹ کی ترقی کے لیے تجاویز دی ہیں جن میں انفرا سٹرکچر کو بہتر بنانا گراؤنڈز اور وکٹس کو بہتر کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتنی اچھی نیشنل کرکٹ اکیڈمی کو ماضی میں استعمال نہیں کیا گیا۔ اعجاز بٹ کے مطابق کھلاڑیوں کی فٹنس اور نظم و ضبط پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے اور کرکٹ بورڈ کے آئین کو فوری طور پر نافذ کیا جانا چاہیے۔ عالمی کپ میں پاکستان کی ٹیم کے میڈیا مینجر پی جے میر کے پاکستان کی ٹیم کے مذہبی رجحان کے متعلق بیان دینے پر اعجاز بٹ کا کہنا تھا کہ یہ پی جے میر کی ایک نان سینس بات تھی انہوں نے کمیٹی کو تو ایسی کوئی بات نہیں کی اور باہر جا کر میڈیا میں ہی فضول بیان دے دیا جو کہ ان کا ایک غلط اقدام تھا۔ عالمی کپ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کی آئر لینڈ سے شکست کے بعد پہلے مرحلے سے باہر ہو جانے کی وجوہات جاننے کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ نے سابق ٹیسٹ کرکٹر اعجاز بٹ کی سربراہی میں یہ تین رکنی ایویلیوایشن کمیٹی بنائی تھی جس نے تقریبًا ایک ماہ تک اس ہار کے عوامل جاننے کے لیے پاکستان کی کرکٹ ٹیم، سابق کرکٹرز بورڈز کے موجودہ اور سابق اہلکاروں سے بات چیت کرنے کے بعد یہ رپورٹ تیار کی ہے۔ |
اسی بارے میں نمازیں شکست کی وجہ نہیں: انضمام07 April, 2007 | کھیل وجہ اختلافات نہیں فٹنس ہے، انضمام 03 January, 2007 | کھیل انضمام اور اکثر کھلاڑی وطن واپس28 March, 2007 | کھیل انضمام، آج کل سے مختلف23 March, 2007 | کھیل انضمام الحق مستعفی ہو گئے19 March, 2007 | کھیل انضمام: اچھا نہ کھیلنے پر معذرت22 March, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||