BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 March, 2007, 02:21 GMT 07:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انضمام، آج کل سے مختلف

انضمام پر ون مین شو کا الزام
کل تک جو لوگ انضمام الحق کو ٹیم کو متحد رکھنے کا محرک قرار دے رہے تھے آج وہ انہیں ٹیم کی بکھری حالت کا ذمہ دار سمجھ کر کٹہرے میں لا کھڑا کرچکے ہیں۔ گزشتہ تین برسوں کے دوران ٹیم کے اچھے نتائج کا کریڈٹ ان کے کھاتے میں ڈالنے والوں کے نزدیک آج وہ شکست کی واحد وجہ ہیں۔

ان کے ساتھ کھیلے ہوئے کرکٹرز دوست ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ اور کپتانی سے ان کی رخصتی کو ناکافی قرار دے کر انہیں ٹیسٹ کرکٹ بھی چھوڑنے کا مشورہ دے رہے ہیں اور پاکستانی کپتان کی اس وقت کیفیت اس طرح ہے کہ:

دیکھا جو تیر کھاکے کمیں گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہوگئی

ہر کرکٹر کو اپنی باری مکمل کرکے میدان سے رخصت ہونا ہے۔ ظاہر ہے انضمام الحق اس سے کیسے مبرا رہ سکتے تھے، انہیں بھی کرکٹ کو الوداع لینی تھی لیکن شاید کسی کے وہم وگمان میں بھی یہ بات نہ تھی کہ ان کی زندگی کے سب سے اہم ترین لمحات ان کے لئے تلخ بن جائیں گے اور وہ جس ورلڈ کپ کو اپنے لئے یادگار بنانے کا سوچ رہے ہیں وہ ان کے لئے بھیانک خواب بن جائے گا۔

انضمام الحق کا بین الاقوامی کریئر چار سال قبل جنوبی افریقہ میں منعقدہ ورلڈ کپ میں تقریباً ختم ہوگیا تھا۔ چھ میچوں میں صرف انیس رنز کی انتہائی مایوس کن کارکردگی کے بعد انہوں نے ریٹائرمنٹ کے بارے میں سوچ لیا تھا تاہم بنگلہ دیش کے خلاف ملتان ٹیسٹ میں شاندار سنچری نے انہیں نئی سانس دے دی۔

اختلاف: انضمام الحق کے فیصلے
 اس میں شک نہیں کہ بعض معاملات پر مخصوص کھلاڑیوں پر انضمام الحق کا اصرار غلط بھی ثابت ہوا۔ لیکن اس میں وہ اکیلے شریک نہیں بلکہ انہوں نے اس بارے میں کوچ باب وولمر سے بھی مشاورت کی۔ مثلاً جنوبی افریقہ کے دورے پر ان فٹ عمر گل اور شعیب ملک کو ٹیم میں رکھنا اور ان فٹ شبیر احمد کو طلب کیا جانا انضمام الحق کے غلط فیصلے کہے جاسکتے ہیں اور پھر اظہرمحمود اور عمران نذیر کو ورلڈ کپ اسکواڈ میں شامل کرنے کے فیصلے ان کے خلاف جاتے ہیں۔
قیادت کی ذمہ داری ملنے کے بعد وہ ٹیم کو جیت کی راہ پر گامزن کرتے بھی دکھائی دیے۔ ان فتوحات میں ان کی اپنی بیٹنگ بھی کلیدی کردار ادا کرتی رہی۔ ایک سال پہلے تک ہر چیز معمول کے مطابق بھی لیکن اوول ٹیسٹ کے بعد پاکستانی کرکٹ کے غیرمعمولی صورتحال سے دوچار ہونے کے اثرات پوری ٹیم خصوصاً انضمام الحق پر بھی ظاہر ہوئے۔

ڈاکٹر نسیم اشرف طوفان کی طرح پاکستان کرکٹ بورڈ میں آئے اور انہوں نے ہر معاملے کو بڑی تیزی اور جارحانہ انداز میں نمٹانے کی کوشش کی۔

انضمام الحق پر آئی سی سی کی جانب سے عائد کردہ چار میچوں کی پابندی کی وجہ سے پاکستانی ٹیم وقتی طور پر قیادت کے بحران سے دوچار ہوئی جس کا نتیجہ چیمپئنز ٹرافی میں خراب کارکردگی کی صورت میں سامنے آیا، رہی سہی کسر ڈوپنگ کے تنازعے نے پوری کردی۔

یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ انضمام الحق کے تعلقات شہریارخان سے جس قدر خوشگوار تھے ڈاکٹر نسیم اشرف سے ان کی وہ ذہنی ہم آہنگی نہ ہوسکی۔ اوول ٹیسٹ میں بال ٹمپرنگ کے الزام کے بعد ٹیم کو میدان سے باہر لانے پر تنقید، مذہبی رجحان کے بارے میں وارننگ اور فارم اور فٹنس پر عدم اعتماد پر مبنی بیانات سے اندازہ لگانا مشکل نہ تھا کہ ڈاکٹر نسیم اشرف انضمام الحق کی اننگز کو جلد ختم کرنے کے بارے میں سوچ چکے ہیں۔

انضمام الحق کی قیادت پر یہ اعتراض ہوتا رہا ہے کہ وہ ’ون مین شو‘ رہے ہیں اور انہوں نے بعض کھلاڑیوں پر ضرورت سے زیادہ اعتماد کیا اور ان کی موجودگی میں سلیکشن کمیٹی بے اختیار تھی۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کا ایسا کون سا کپتان ہے جس نے اپنے اختیارات استعمال نہیں کیے؟

اعتراض: ون مین شو
 چیف سلیکٹر وسیم باری نے یہ بات بھی ریکارڈ پر رکھ دی ہے کہ عمران خان تو سلیکشن کمیٹی کے اجلاس میں آنے کے بجائے انتخاب عالم کے ذریعے پرچی بھجوادیتے تھے کہ فلاں کھلاڑی کو منتخب کرلیا جائے اور وہ کھلاڑی منتخب کرلیا جاتا تھا۔ وسیم باری نے جس دور کی مثال دی ہے اس وقت بھی وہ سلیکشن کمیٹی میں شامل تھے۔
چیف سلیکٹر وسیم باری نے یہ بات بھی ریکارڈ پر رکھ دی ہے کہ عمران خان تو سلیکشن کمیٹی کے اجلاس میں آنے کے بجائے انتخاب عالم کے ذریعے پرچی بھجوادیتے تھے کہ فلاں کھلاڑی کو منتخب کرلیا جائے اور وہ کھلاڑی منتخب کرلیا جاتا تھا۔ وسیم باری نے جس دور کی مثال دی ہے اس وقت بھی وہ سلیکشن کمیٹی میں شامل تھے۔

وسیم باری کی اس بات سے یہ بات بہرحال ثابت ہوتی ہے کہ وہ ہر دور میں اسی طرح ماتحتی کے انداز میں کام کرتے رہے ہیں اوراگر یہ سب کچھ انہیں ضمیر کے خلاف محسوس ہوتا رہا ہے تو وہ طویل عرصے تک سلیکشن کمیٹیوں میں کیوں رہے ہیں۔

اس میں شک نہیں کہ بعض معاملات پر مخصوص کھلاڑیوں پر انضمام الحق کا اصرار غلط بھی ثابت ہوا۔ لیکن اس میں وہ اکیلے شریک نہیں بلکہ انہوں نے اس بارے میں کوچ باب وولمر سے بھی مشاورت کی۔ مثلاً جنوبی افریقہ کے دورے پر ان فٹ عمر گل اور شعیب ملک کو ٹیم میں رکھنا اور ان فٹ شبیر احمد کو طلب کیا جانا انضمام الحق کے غلط فیصلے کہے جاسکتے ہیں اور پھر اظہرمحمود اور عمران نذیر کو ورلڈ کپ اسکواڈ میں شامل کرنے کے فیصلے ان کے خلاف جاتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ انضمام الحق میں وہ قائدانہ صلاحیت نہیں تھی جو جاوید میانداد، عمران خان اور مشتاق محمد میں تھی لیکن اس کے باوجود ان کے نتائج برے نہیں رہے اور ان کی قیادت میں پاکستان نے بھارت انگلینڈ سری لنکا اور جنوبی افریقہ اور ویسٹ انڈیز کی مضبوط ٹیموں کو شکست دی۔

انضمام الحق پر لاکھ اعتراضات سہی لیکن ان کے بحیثیت کرکٹر مقام کے بارے میں دو آراء نہیں ہوسکتیں۔ پاکستانی کرکٹ کو حنیف محمد اور جاوید میانداد کے بعد اگر کوئی تیسرا بڑا بیٹسمین میسر آیا جس نے طویل عرصے اپنی ذمہ دارانہ بیٹنگ سے پاکستانی بیٹنگ کو سہارا دئے رکھا وہ انضمام الحق ہیں۔

انضمامانضمام کا کیریئر
ورلڈ کپ سے عروج، ورلڈ کپ پر اختتام
سلیکٹرز بھی مستعفی
وسیم باری، اقبال قاسم، احتشام الدین بھی مستعفی
اپنے ’لڑکوں‘ کیساتھ
باب وولمر کی پاکستانی ٹیم کے ساتھ چند تصاویر
باب وولمر تعزیت، خراج تحسین
وہ پاکستانی ٹیم کی دنیا تھے: ڈکی برڈ
انضمام الحق’حوصلے بلند ہیں‘
آخری ورلڈ کپ کو یادگار بنانا چاہتا ہوں
انضمام الحقاختتام عمران جیسا !
انضمام اپنا آخری ورلڈ کپ جیتنا چاہتے ہیں
انضمام الحق’میں کپتان بن گیا‘
کرکٹ چھوڑنے لگا تھا مگر۔۔۔: انضمام
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد