BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 19 March, 2007, 13:45 GMT 18:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وہ پاکستانی ٹیم کی دنیا تھے: ڈکی برڈ
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ اور انگلینڈ کے سابق ٹیسٹ کھلاڑی باب وولمر کی اچانک موت پر کرکٹ کی دنیا سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔

اٹھاون سالہ وولمر اتوار کو ورلڈ کپ کے دوران ایک ہوٹل کے کمرے میں بے ہوش پائے گئے اور بعد ازاں ہسپتال میں انتقال کر گئے تھے۔



ویسٹ انڈیز کے سابق فاسٹ بالر اور موجودہ تجزیہ کار مائیکل ہولڈنگ کا کہنا تھا ’یہ کھیلوں کی دنیا اور کرکٹرز کے لیے ایک افسردہ دن ہے۔‘

انگلینڈ کے کپتان مائیکل وان نے کہا ’ہم جانتے ہیں کہ کرکٹ پر ان کے اثرات کتنے گہرے تھے۔ وہ بہت یاد آئیں گے۔‘

ابھی تک باب وولمر کی موت کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے تاہم کہا جا رہا ہے کہ ان کی موت حرکت قلب بند ہونے سے ہوئی ہے۔

سنیچر کے روز آئرلینڈ سے غیر متوقع شکست کے بعد پاکستان ورلڈ کپ سے باہر ہو گیا تھا۔

مائیکل ہولڈنگ نے اپنے بات بڑھاتے ہوئے کہا : یہ ایک بالکل غیر متوقع واقعہ ہے۔ مجھے معلوم تھا کہ وہ ٹھیک نہیں تھے اور سخت ذہنی دباؤ میں تھے لیکن کوئی نہیں سوچ سکتا تھا کہ وہ انتقال کر جائیں گے۔ میں ان کے گھرانے سے تعزیت کرتا ہوں۔‘

مائیکل ہولڈنگ نے مزید کہا ’ میں اپنے پہلے بیرون ملک دورے پر انگلینڈ ہی گیا تھا جہاں ان سے ملاقات ہوئی تھی۔ ہمارا بحیثیت کرکٹرز اور دوست رشتہ کئی برسوں پر پھیلا ہوا تھا۔ میں نے ہمیشہ ان کے ساتھ کی قدر کی ہے۔‘

انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے سربراہ ڈیوڈ کولیئر نے باب وولمر کے انتقال پر کہا: ’ ان کے انتقال سے ورلڈ کپ 2007 پر غم کے بادل چھا گئے ہیں۔ باب دنیا کے عظیم ترین کرکٹ کوچز میں سے تھے، اور بطور کھلاڑی انیس سو پچہتر میں انکی 149 رنز کی اننگز، جب انہوں نے آٹھ گھنٹے سے زیادہ دیر ڈینس للی اور جیف تھامسن کی بولنگ کا سامنا کیا، اس سے نہ صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ کتنے ہنر مند کھلاڑی تھے بلکہ یہ بھی کہ انگلینڈ کی ٹیم کا سویٹر پہننے میں کتنا فخر محسوس کرتے تھے۔‘

’لیکن شاید باب کو سب سے زیادہ ایک بہترین کوچ کی حیثیت سے یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے کھیل میں نت نئی تبدیلیوں کو خوش دلی سے قبول کیا بلکہ کئی تبدیلیوں کے لیے تو وہ پیش پیش تھے۔ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ ایک عظیم دوست سے محروم ہو گیا ہے۔‘

باب وولمر کی موت پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ( آئی سی سی) کے سربراہ میلکم سپیڈ نے بھی تعزیت کی ہے۔ ’ وہ کرکٹ کی دنیا کے عظیم شخص تھے۔ان کی زندگی کرکٹ کے لیے وقف تھی۔ انہوں نے ساری زندگی یہ کھیل کھیلا، اس کی تربیت دی یا اس کے ساتھ بطور مبصر منسلک رہے۔‘

باب وولمر نے پاکستانی ٹیم کی کوچنگ کی ذمہ داری دو ہزار چار میں سنبھالی اور کچھ عرصہ پہلے تک پاکستان کے کرکٹ کے نتائج میں مثبت تبدیلیاں لانے میں کامیاب ہوئے۔

پاکستان کے لیے ان کی خدمات پر صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیر اعظم شوکت عزیز نے انکی تعریف کی ہے۔

کاؤنٹی وارکشائر کے چیف ایگزیکٹو اور باب وولمر کے دیرینہ دوست ڈینس امس نے ان سے حالیہ دنوں میں اپنی ایک گفتگو کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا ’ میں نے اسی ہفتے فون کیا تھا وہ ٹھیک ٹھاک تھے، نتائج کی وجہ سے کچھ پریشان لیکن غیر جذباتی اور پرسکون تھے۔ وہ جانتے تھے کہ کبھی دن اچھے ہوتے ہیں تو کبھی برے۔‘

ڈینس امس نے مزید کہا کہ انہیں یاد ہے کہ وولمر کہا کرتے تھے ’میرا کام ان کو تیار کرنا ہے، میں ان کی جگہ میدان میں جا کر کھیل نہیں سکتا۔‘

باب وولمر کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ڈینس امس کا کہنا تھا ’ انہیں بہت عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ کرکٹ کا کھیل ایک پیارے انسان اور ایک عظیم کوچ سے محروم ہو گیا ہے۔‘

جب باب وولمر وارکشائر کے سربراہ تھے تو انہوں نے ویسٹ انڈیز کے برائن لارا کو بھی اپنی کاؤنٹی کی ٹیم میں شامل کیا۔ لارا اس وقت اپنے عروج پر تھے اور انہوں نے کاؤنٹی کی طرف سے کھیلتے ہوئے ایک میچ میں 501 رنز کیے تھے۔

برائن لارا کا کہنا تھا: ’ انیس سو چورانوے میں جب میں وارکشائر میں تھا میری باب سے بہت اچھی دوستی ہو گئی اور پھر آنے والے برسوں میں اگرچہ ہم دو مختلف ڈریسنگ رومز میں رہے لیکن ہماری دوستی بڑھتی گئی۔ وہ اپنا کام بہت توجہ سے کرتے تھے اور انہیں کھیل سے بہت محبت تھی۔ لیکن جو چیز ان میں سب سے شاندار تھی وہ اُن کھلاڑیوں سے پیار تھا جو ان کی زیر سرپرستی ہوتے تھے۔ ہر کھلاڑی کی ان کے دل میں کچھ نہ کچھ قدر ضرور تھی۔‘

برائن لارا کے علاوہ جنوبی افریقہ کے تیز بولر ایلن ڈونلڈ بھی وارکشائر میں باب وولمر کی قیادت میں کھیل چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا: ’ ان کے ہونے سے ٹیم پرسکون رہتی تھی اور اگر ان کی موت ذہنی دباؤ کے ہاتھوں ہوئی ہے تو میرے لیے یقین کرنا مشکل ہے۔‘

ایلن ڈونلڈ نے مزید کہا ’ میں نے اتوار کو سنا کہ انہیں ذیابیطس تھا، یہ ایک ایسی بات ہے جس کا مجھے علم نہیں تھا۔ میرے لیے ان کی موت کی خبر خاصا بڑا دھچکہ ہے کیونکہ ہم اس وقت ایک ایسے شخص کی بات کر رہے ہیں جو میرے کرکٹ کے کیریئر کے زیادہ تر حصے میں میرے بہت قریب رہا ہے۔‘

باب وولمر نے پیشہ ورانہ کرکٹ کا آغاز برطانیہ میں کینٹ کاؤنٹی سے کیا۔ کینٹربری کلب کے موجودہ کرکٹ ڈائریکٹر گراہم جانسن نے باب وولمر کے بارے میں کہا: ’ وہ کرکٹ کے زبردست تجزیہ کار تھے، ایک شاندار کوچ تھے اور باب وہ شخص تھے جن کی کوشش ہوتی تھی کہ ان کی ٹیم باقیوں سے ہمیشہ ایک قدم آگے ہو۔

’لوگوں کو شاید یاد ہو کہ انیس سو ننانوے کے ورلڈ کپ کے دوران انہوں نے کپتان اور اس کے بالرز کو کان میں لگانے والے آلے لے کے دیے تاکہ وہ ایک دوسرے سے رابطے میں رہ سکیں۔ اسے بعد میں غیر قانونی قرار دے دیا گیا لیکن اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ وہ کس قسم کے آدمی تھے۔

باب وولمر انگلینڈ کی طرف سے انیس ٹیسٹ کھیلے تھے اور جنوبی افریقہ کی ٹیم کو انیس سو ننانوے کے عالمی کپ کے سیمی فائنل تک لے گئے تھے۔

سابق ٹیسٹ امپائر ڈکی برڈ کا کہنا ہے: ’ وہ کھیل کے تمام پیچ و خم جانتے تھے جس نے انہیں ایک شاندار کرکٹ کوچ بنایا۔ مجھ پر یہ بات بالکل عیاں ہے کہ پاکستانی ٹیم انہیں سر آنکھوں پر بٹھاتی تھی۔‘

پاکستان کو ورلڈ کپ سے باہر کرنے والی آئرلینڈ کی ٹیم کے کوچ ایڈرین بِرل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’ میچ کے بعد میں نے ان سے بات کی تھی اور انہوں نے شکسٹت کو پوری خندہ پیشانی سے قبول کیا۔ انہوں نے کوئی بہانہ نہیں تراشا اور آئرلینڈ کی کارکردگی کو سراہا۔‘

’دنیائے کرکٹ کو انہوں نے بہت کچھ دیا۔‘

کلائیو لائڈ انیس سو پچہتر میں ورلڈ کپ جیتنے والی ویسٹ انڈیز کی ٹیم کے کپتا تھے اور موجودہ ٹیم کے مینیجر ہیں۔ ان کا کہنا تھا: ’باب ایک عظیم شخص اور عظیم کوچ تھے۔ یہ دکھ کی بات ہے کہ ورلڈ کپ کے دوران اس قسم کا سانحہ ہو گیا۔ مجھے ان کی فیملی کا سوچ کر دکھ ہو رہا ہے۔‘

وولمروولمر کا ’استعفیٰ‘
ایک مختلف ٹیم کی کوچنگ
اپنے ’لڑکوں‘ کیساتھ
باب وولمر کی پاکستانی ٹیم کے ساتھ چند تصاویر
پاکستان کی شکست
’انضمام الحق، باب وولمر اور باری استعفیٰ دیں‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد