’دلبرداشتہ وولمرانتقال کر گئے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کرکٹ ٹیم کی آئرلینڈ کے ہاتھوں شکست کے بعد ورلڈ کپ سے باہر ہونے اور کوچ باب وولمر کی المناک موت کی خبر کو پاکستان کے تمام ہی اخبارات نے شہ سرخیوں میں جگہ دی ہے۔ ویسٹ انڈیز اور پاکستان کے وقت میں تقریباً آٹھ گھنٹے فرق کی وجہ سے پاکستانی شکست کی کوریج پیر کے اخبارات میں مفصل اور غیرمعمولی انداز میں ہوئی ہے لیکن باب وولمر کے اچانک انتقال کی خبر آئرلینڈ کے ہاتھوں شکست کی خبر پر حاوی دکھائی دیتی ہے۔ روزنامہ جنگ کراچی نے صفحہ اول پر خبر دی ’ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ باب وولمر دل کا دورہ پڑنے سے چل بسے۔‘ اخبار نے شہ سرخی کے ساتھ قومی ٹیم کی شکست پر ملک کے مختلف شہروں میں ہونے والے مظاہروں کی خبر بھی شائع کی ہے تاہم کھیلوں کے صفحے پر اس کی شہ سرخی سب کی توجہ حاصل کرتی ہے جو کچھ اس طرح ہے ’پاکستانی کرکٹ سبائنا پارک میں دفن ہوگئی۔‘ اسی اخبار نے ایک تصویر بھی شائع کی ہے جس میں پشاور کے مشتعل کرکٹ شائقین پاکستانی کپتان انضمام الحق، یونس خان اور شعیب ملک کے پوسٹر نذر آتش کر رہے ہیں۔ روزنامہ ’ایکسپریس‘ نے صفحہ اول پر لکھا ’ کرکٹ ٹیم کی شرمناک شکست پر ملک بھر میں غم وغصہ، کوچ باب وولمر دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے۔‘ اسی اخبار نے کھیلوں کے صفحات پر سابق ٹیسٹ کرکٹرز کا شکست پر شدید ردعمل بھی نمایاں انداز میں شائع کیا ہے۔ انگریزی اخبارات دی نیوز، نیشن اور ڈیلی ٹائمز نے بھی پہلے صفحات پر وولمر کے انتقال کی خبر شائع کی ہے جبکہ ڈان نے صفحہ اول پر وولمر کی تصویر کے ساتھ سرخی لگائی ہے dejected woolmer dead یعنی ’دلبرداشتہ وولمر انتقال کر گئے۔‘ |
اسی بارے میں مجھےہمیشہ بیٹا کہہ کر بلایا:شعیب18 March, 2007 | کھیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||