’انضمام، وولمر اور باری استعفیٰ دیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی آئرلینڈ جیسی ایک نسبتاً ناتجربہ کار ٹیم کے ہاتھوں شکست پر کرکٹ ٹیم کے سابق کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ اس شکست کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کے اربابِ اختیار اور خاص طور پر کپتان انضمام الحق کو فوری طور پر اپنے عہدے چھوڑ دینے چاہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق سربراہ لیفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) توقیر ضیاء نے لیفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) توقیرضیاء نے کہا کہ انہیں حیرت اس بات پر ہے کہ چیف سلیکٹر وسیم باری نے ابھی تک استعفیٰ کیوں نہیں دیا؟ انہیں تو اب تک استعفیٰ دے کر گھر چلے جانا چاہیے تھا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق سربراہ نے کہا کہ 2003 کے ورلڈ کپ میں بھی پاکستانی ٹیم نے کوئی کمال نہیں کیا تھا لیکن کم از کم وہ آئرلینڈ جیسی ٹیم سے تو نہیں ہاری تھی۔
توقیر ضیاء نے کہا کہ دوسال کے دوران یہی ٹیم جیتی بھی ہے تو اس کامطلب یہ ہے کہ کچھ گڑبڑ ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ایک شخص بہت زیادہ طاقتور ہے اور باقی بے بس ہیں۔ توقیرضیا نے کہا کہ کچھ کھلاڑی ایسے ہیں جنہیں اب خود ہی ’تھینک یو‘ کہہ کر چلے جانا چاہیے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان جاوید میانداد کا کہنا ہے کہ یہ پاکستان کی کرکٹ کی تاریخ کا سیاہ ترین دور ہے اور اس شکست سے تمام پاکستانیوں کو شدید دھچکا پہنچا کیونکہ کوئی بھی ایسی بد ترین کارکردگی کی توقع نہیں کر رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس شکست کی ذمہ داری ٹیم مینجمنٹ اور کرکٹ بورڈ کو قبول کرنی چاہیے کیونکہ قوم ان سے جواب مانگتی ہے۔ جاوید میانداد نے ٹیم کے انتخاب پر بھی کڑی تنقید کی اور کہا کہ عالمی کپ کے لیے تو کھلاڑیوں کو تیار کرنے کا عمل تو تین چار سال پہلے ہی مکمل کر لینا چاہیے تھا لیکن ٹیم میں ایسے کھلاڑی شامل کیے گئے جو کافی عرصے سے ٹیم سے باہر تھے۔
جاوید میانداد کے مطابق اس شکست سے پاکستان کے کرکٹ کے مستقبل کو دھچکا پہنچا ہے اور اب بہتری کے لیے بہت کام کرنا ہو گا۔ سابق کرکٹر اعجاز احمد نے شکست کا ذمہ دار موجودہ پاکستان کرکٹ بورڈ اور اس بورڈ کو قرار دیا جس نے باب وولمر کے ساتھ معاہدہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ باب وولمر اتنے قابل کوچ نہیں ہیں اور نہ ہی انہیں کرکٹ کھیلنے کا کوئی تجربہ ہے۔ ’ آئر لینڈ سے شکست بہت شرمناک ہے اور یہ دکھ کی بات ہے کہ جب ہم نے ٹیم کو چھوڑا تو ٹیم میں تمام میچ وننگ کھلاڑی تھے اور اب یہ حالات ہیں کہ ٹیم میں تمام میچ ہارنے والے کرکٹرز ہیں‘۔ اعجاز نے کپتان انضمام الحق کو بھی اس شکست کا ذمہ دار قرار دیا اور کہا کہ آخر میں ذمہ داری تو کپتان کی ہوتی ہے جس نے میدان میں ٹیم کو کھلانا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ گزشتہ ایک سال سے کہہ رہے تھے کہ کپتانی محمد یوسف کو ملنی چاہیے کیونکہ وہ میچ جتوانے والے کھلاڑی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس شکست کے بعد سب سے پہلے انضمام کو استعفیٰ دینا چاہیے اور بورڈ کے سربراہ کو شکست کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنا عہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ میں ایسے لوگ آنے چاہئیں جو بااصول ہوں اور انہوں نے اچھی کرکٹ بھی کھیلی ہو۔
انہوں نے سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین وسیم باری پر بھی تنقید کی اور کہا کہ وہ سلیکشن کرنے میں با اختیار نہیں لہذا کوئی ایسا شخص آئے جو ٹیم سلیکشن میں انصاف سے کام لے۔ پاکستان کی ٹیم کے سابق فاسٹ بالر عاقب جاوید نے کہا کہ ان کے لیے یہ شکست بہت زیادہ غیر متوقع نہیں کیونکہ یہ تجزیہ پہلے ہی کیا جا رہا تھا کہ اگر آئر لینڈ کی ٹیم ٹاس جیتی اور پاکستان کو پہلے بیٹنگ کرنی پڑی تو آئر لینڈ کے بالرز ان کے لیے مشکلات کا سبب بنیں گے کیونکہ پاکستان کی بیٹنگ کی یہ کمزوری سب پر عیاں ہے کہ جب بھی وکٹ میں اچھال ہو تو پاکستان کے بلے بازوں کے لیے کھیلنا مشکل ہو جاتا ہے اور ان کی تکنیکی کمزوری سامنے آجاتی ہے۔ کیونکہ پاکستان میں ایسی وکٹیں بنتیں ہیں جن میں باؤنس نہیں ہوتا۔ عاقب جاوید نے کوچ باب وولمر اور کپتان انضمام پر شدید تنقید کی اور کہا کہ اس شرمناک شکست پر وہ دونوں ہی قوم کے سامنے جواب دہ ہیں اور انہیں قوم کو بتانا ہوگا کہ ایسا کیوں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ باب وولمر نے تین سال میں پاکستانی بیٹسمینوں کی کمزوریاں دور نہیں کیں۔ عاقب جاوید نے کہا کہ کافی عرصے سے پاکستان کی ٹیم کی کارکردگی انتہائی ناقص تھی۔ انگلینڈ اور جنوبی افریقہ کے خلاف شکست، آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں پہلے راؤنڈ میں ٹورنامنٹ سے باہر اور اب آئر لینڈ سے شکست تو ناقابل برداشت ہے۔ اس سے زیادہ برا دن اور برا وقت تو شاید پاکستان پر پہلے کبھی نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ اتنے عرصے سے سامنے آنے والی کمزوریوں کو درست نہیں کیا گیا۔ عاقب نے کہا کہ کپتان اور کوچ کو ایک لمحے کی تاخیر کے بغیر کرکٹ چھوڑ دینی چاہیے۔
پاکستان کی ٹیم کے ایک اور سابق کپتان اور 1992 کی فاتح کرکٹ ٹیم کے کوچ انتخاب عالم کے مطابق ٹیم کی کچھ عرصے سے جو حالت تھی اس کے پیشِ نظر ٹیم سے بہت اچھی توقعات تو نہیں تھیں لیکن آئر لینڈ جیسی نو آموز ٹیم سے ہارنے کی توقع نہیں کی جا رہی تھی۔ یہ پاکستان کی کرکٹ کی تاریخ کا سیاہ ترین دور ہے۔ انتخاب عالم نے پاکستان بورڈ کے موجودہ چیئرمین پر شدید تنقید کی اور کہا کہ وہ ایسی حرکتیں کر رہے ہیں جس سے جگ ہنسائی ہوئی۔ بورڈ کا کوئی چیئرمین اس وقت ویسٹ انڈیز میں موجود اپنی ٹیموں کے معاملات میں دخل نہیں دے رہا ہے، نہ ہی ان میں سے کسی نے ٹیم کے ساتھ آفیشل تصویر بنوائی، صرف پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ہی ایسی حرکتیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ تمام معاملات کو صحیح طریقے سے ہینڈل نہیں کر پا رہا اس میں شعیب اور آصف کا معاملہ ہو یا ٹیم کی مجموعی کارکردگی۔ انتخاب عالم نے باقی تمام سابق کرکٹرز کی طرح باب وولمر کو آڑے ہاتھوں لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وولمر تین سال سے ٹیم کے ساتھ ہیں لیکن انہوں نے کسی بھی کھلاڑی کی کمزوری کو دور نہیں کیا۔ انتخاب عالم کے بقول اس شکست کے پاکستان کی کرکٹ پر بہت برے اثرات مرتب ہوں گے اور ٹیم کو دوبارہ سے بنانا ہوگا۔
سابق فاسٹ بولر سرفراز نواز کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ کے لیے جو تیاری ہونی چاہیے تھی، وہ نہیں ہوئی، تجربات ہوتے رہے اور بے یقینی کی کیفیت رہی جس کے ذمہ دارکوچ باب وولمر ہیں جنہوں نے تین سال کے عرصے میں نہ اوپننگ پیئر تشکیل دیا اور نہ ہی ٹیم کی دوسری خامیاں درست کیں۔ کرکٹ بورڈ کو چاہیے کہ ان کا لیپ ٹاپ ضبط کرکے انہیں فارغ کردے۔ سرفراز نواز نے کہا کہ شہریار خان اور اب ڈاکٹر نسیم اشرف نے قوم کو ورلڈ کپ کے معاملے میں سہانے سپنے دکھا کر اندھیرے میں رکھا۔ سابق چیف سلیکٹر صلاح الدین صلو نے ورلڈ کپ سے پاکستانی ٹیم کے اخراج کا ذمہ دار موجودہ بورڈ کوقرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر کرکٹ بورڈ کی باگ ڈور کسی ایسے شخص کے پاس ہوتی جو اس کھیل کی سمجھ رکھتا تو حالات اس نہج پر نہ پہنچتے۔ انہوں نے کہا کہ ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر ٹیم منتخب کرنے والے وسیم باری، کوچ باب وولمر اور کپتان تینوں اس شکست سے خود کو بری الذمہ نہیں کہہ سکتے۔ |
اسی بارے میں پاکستان ورلڈ کپ سے باہر17 March, 2007 | کھیل پاکستان بمقابلہ آئرلینڈ: سکور کارڈ17 March, 2007 | کھیل بیٹنگ ناکام، پاکستان میچ ہار گیا13 March, 2007 | کھیل میچ مشکل ہوگا: وولمر17 March, 2007 | کھیل کرکٹ کا ’سیاہ‘ سنیچر18 March, 2007 | کھیل جنوبی افریقہ کے خلاف فتح09 March, 2007 | کھیل انگریزی بولنے پر پابندی12 March, 2007 | کھیل ورلڈ کپ کی خبریں اور فیچر07 March, 2007 | کھیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||