BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 18 March, 2007, 00:20 GMT 05:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہند و پاک کرکٹ کا ’بلیک سیٹر ڈے‘

انضمام الحق
مغموم انضمام سبینا پارک کی گراؤنڈ سے پولین کی طرف جاتے ہوئے
کیا یہ کرکٹ کی تاریخ کا تاریک دن تھا یا کہ ایک روشن باب؟

بنگلہ دیش نے انڈیا اور آئرلینڈ نے پاکستان کے ساتھ وہ سلوک کیا جو کہ ایک ’شریف‘ آدمی اپنے دشمن کے ساتھ بھی نہیں کرتا۔ مطلب کہ سرِ عام بے عزتی۔ ویسے بھی تو کرکٹ جنٹیلمینوں کا کھیل ہے مگر ویسٹ انڈیز میں جنوبی ایشیا کے جنٹیلمین کہیں کے نہ رہے۔

انڈیا کا ذکر تو بعد میں پہلے 1992 کے ورلڈ کپ چیمپئنز کی آئرلینڈ کے ہاتھوں شکست کا حال۔ پاکستان نے جب 1992 میں ورلڈ کپ جیتا تھا تو اسی ٹورنامنٹ میں اس نے انگلینڈ کے خلاف 74 رنز بنائے تھے جو کہ ورلڈ کپ کے پانچ کم ترین سکورز میں سے ایک ہے۔ لیکن اُس وقت کوئی کسی سے ہار گیا اور کوئی کسی سے جیت گیا اور نتیجہ پاکستان کے پاس ورلڈ کپ کی صورت میں آیا۔ لیکن اس مرتبہ حالت بالکل مختلف ہے۔ کوئی کسی سے ہارے یا کوئی کسی سے جیتے پاکستان ورلڈ کپ سے باہر ہے۔ وجہ: اپنے گروپ میں پاکستان کا صرف زمبابوے سے ہارنا باقی ہے۔ اس کے علاوہ اسے اب کسی اور سے خطرہ نہیں۔

ایسا کیوں ہوا؟

جواب: پاکستان کرکٹ کھیلنا بھول گیا ہے۔

آپ کرکٹ بڑے سکور کرنے یا سو میل سے زیادہ تیز گیند کرنے کے لیے نہیں کھیلتے بلکہ کرکٹ کے لیے کھیلتے ہیں۔ پاکستان کرکٹ کے لیے نہیں کھیلا اور شاید عمران کی قیادت کے بعد کبھی بھی نہیں کھیلا۔ کبھی جوئے کے پیسوں کے لیے، کبھی ریکارڈز کے لیے اور کبھی نوکریاں بچانے کے لیے۔ کرکٹ کے لیے نہیں۔ نہیں تو کھلاڑی اس مقام پر پہنچ کر یا تو ریٹائر ہو جاتے ہیں یا کارکردگی دکھاتے ہیں۔ عمران خان، سنیل گواسکر، مارک وا، سٹیو وا، شین وارن اور جسٹن لینگر کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔

اوبرائن
اوبرائن نے پاکستانی کھلاڑیوں کو بتایا کہ وکٹ پر کس طرح کھڑا ہوا جاتا ہے

پاکستان کے کوچ باب وولمر شاید ولی اللہ ہیں کیونکہ انہوں نے میچ سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ آئرلینڈ کے ساتھ میچ مشکل ہو گا۔ اور وہی ہوا۔ بلکل اس لطیفے کی طرح جس میں لڑکی نے رات کو اپنی ماں سے کہا تھا کہ صبح گھر میں ایک فرد کم ہو گا۔ اور وہی ہوا۔ وہ لڑکی کسی کے ساتھ بھاگ گئی۔

وولمر کرکٹ کو زیادہ جانتے ہیں اور اتنے عرصے سے پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ رہنے کے بعد وہ پاکستانی کھلاڑیوں کو بھی بہتر جاننے لگے ہیں۔ جب کوچ کا ایسی ٹیم کے متعلق یہ خیال ہو جو کہ کرکٹ کے اس بڑے ٹورنامنٹ میں ہی مشکل سے آئی ہے تو پھر ٹیم سے امید لگانا بھی میرے خیال سے دماغ کا خلل ہے۔

لیکن بات جہاں کرکٹ کی ہو اور پاکستان اور انڈیا کے چیمپئنز کی تو دماغ میں خلل بھی ٹھیک ہے۔ امید ضرور ہونی چاہیئے۔ ہاں یہی بات کھلاڑیوں پر بھی لاگو ہوتی ہے۔

محمد سمیع
سمیع جذبات پر قابو نہ رکھ سکے

اب ذرا کپتان انضمام کو لیں۔ مجھے اس پر رحم آ رہا ہے۔ ایک اچھے کیریئر کے بعد یہ انجام۔ لیکن اگر کوئی دو تین سو میچ کھیل کے بھی آئرلینڈ جیسے معمولی بولروں کے قابو میں آ جائے تو اسے کیا کہیں۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف بھی یہی ہوا۔ کیا ٹیم آئی ہی ہارنے کے ’مائنڈ سیٹ‘ کے ساتھ تھی۔ یہی بات یونس اور یوسف پر لاگو آتی ہے۔ باقی پلیئر بھی اگرچہ بڑے میچ کھیل چکے ہیں لیکن میں انہیں نئے کہتے ہوئے ذمہ داری سے بری کرتا ہوں۔

پاکستان ٹیم تو ورلڈ کپ میں اپنے بہترین بولرز کے بغیر آئی تھی، بیٹسمینوں کے بغیر تو نہیں۔ وہی بیٹسمین تھے جو کہ شعیب، آصف اور رزاق کے ساتھ آنے تھے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ کوئی ایسا طریقہ ہوتا کہ یہ ورلڈ کپ کھیلنے کے لیے کوالیفائی ہی نہ کرتے۔ نہ ہی پاکستانیوں کی امیدیں بنتی اور نہ ہی اتنی جلدی ٹوٹتیں۔

آفریدی پر دو میچوں کی پابندی تھی، اب پاکستان کے باقی کھلاڑیوں نے ان کے ورلڈ کپ کھیلنے پر ہی پابندی لگا دی ہے۔ دوسری طرف ویسٹ انڈیز نہ آنے والے بھی کرکٹ کے شیدائیوں کی لعنت ملامت سے بچ گئے۔

آئرلینڈ کی ٹیم ایک اوسط درجے کی نئی ٹیم ہے۔ فرق صرف دونوں ٹیموں میں یہ ہے کہ آئرش جذبے سے کھیلے اور پاکستانی ڈرے ہوئے۔ نہ بیٹنگ کر سکے نہ بولنگ۔ آخری گیندوں کے دوران بھی پاکستانی بولرز کھیل پر حاوی نہیں تھے وہ ’کرکٹ کے بچے‘ آئرش بیٹسمین ہی ذرا نروس ہو گئے تھے۔ آخر ان کی مدد سینٹ پیٹرک نے کی جو کہ ان کے بڑے سینٹ ہیں اور جن کا کہ آج دن تھا۔ آئرلینڈ کے کپتان نے بھی انٹرویو میں کہا کہ یہ دن اور ٹاس کا جیتنا ان کے لیے لکی تھا۔

دوسری طرف بنگلہ دیش کے بولروں نے انڈیا کی منجھی ہوئی بیٹنگ لائن ڈھیر کرنے کے بعد بولروں کی پٹائی میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ لیکن اس جیت میں انڈیا کا قصور کم اور بنگلہ دیشیوں کی محنت زیادہ تھی۔ ان کے وارم اپ میچ میں نیوزی لینڈ کو ہرانے کے بعد ہی ایسا لگ رہا تھا کہ وہ ویسٹ انڈیز کوئی مقصد لے کر آئے ہیں۔ بولنگ، بیٹنگ اور فیلڈنگ ہر شعبے میں انہوں نے بہترین کارکردگی دکھائی اور آخر بہتر کھیلنے والی ٹیم جیت گئی۔ تاہم انڈیا کے پاس اب بھی موقع ہے کہ اپنی فارم میں واپس آ سکے۔ مگر بدقسمتی سے یہ موقع پاکستان کے پاس نہیں ہے۔

انڈیا بنگلہ دیش سے ہار گیا ہے اور پاکستان کپ سے باہر ہو گیا۔ میرے لیے یہ دن کرکٹ کا ’بلیک سیٹر ڈے‘ ہے۔

ایک تماشائیایک بڑا اپ سیٹ
آئرش جذبہ پاکستانی تجربے پر غالب
بنگلہ دیش کے بالرہمسائے آمنے سامنے
بنگلہ دیش کے بالرز میچ پر چھا گئے
دعا کے ساتھ دوا بھی
’ابتدائی شکست مایوس کن لیکن امید قائم‘
ایشین کھانا ٹیم کی مشکل
حلال حرام کھانا، اردو انگریزی پریس کانفرنس
انضمام الحق اور برائن لارا پاک، ویسٹ انڈیز
سوبرز اور حنیف سے انضمام اور لارا تک
عمران خانورلڈ کپ کی تاریخ
کرکٹ کے بڑے ٹورنامنٹ میں آج تک کیا کچھ ہوا
انضمام الحقاختتام عمران جیسا !
انضمام اپنا آخری ورلڈ کپ جیتنا چاہتے ہیں
اسی بارے میں
میچ مشکل ہوگا: وولمر
17 March, 2007 | کھیل
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد