دعا کے ساتھ ساتھ دوا بھی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بے پناہ توقعات اور دعاؤں کے ساتھ ٹیم کو ورلڈ کپ کے لیے روانہ کرنے والی پاکستانی قوم ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں پہلے میچ میں شکست سے سخت مایوس ہے لیکن امید کی ڈور ابھی بندھی ہوئی ہے۔ متعدد شہریوں سے بات ہوئی تو وہ کہنے لگے’پاکستانی ٹیم کو ویسٹ انڈیز سے جیتنا چاہیے تھا لیکن بیٹسمینوں نے مایوس کیا۔ آنے والے میچوں میں اچھی کارکردگی دکھا کر ٹیم اگلے راؤنڈ میں جا سکتی ہے‘۔ ورلڈ کپ سے قبل ہی میچوں کے شیڈول والے کارڈز شائقین کے ہاتھوں میں آچکے تھے اور کمنٹری سننے کے شوقین افراد چھوٹے ریڈیو سیٹس خریدتے دیکھے گئے ہیں۔ کراچی اور لاہور کے فائیواسٹار ہوٹلز میں بڑی اسکرینز نصب کی گئی ہیں اور ماحول کو مزید پررونق بنانے کے لیے پاکستان اور دیگر ایشیائی ملکوں کے پرچم اور کرکٹ بیٹس سے سجاوٹ کی گئی ہے۔ ملازمت پیشہ اور کاروباری حضرات خوش ہیں کہ دن بھر کی مصروفیات کے بعد وہ رات کو اطمینان سے میچز دیکھ رہے ہیں لیکن طلبہ برادری کو اس بات کا گلہ ہے کہ صبح سویرے سکول، کالج جانے کی وجہ سے وہ ان میچوں سے لطف اندوز نہیں ہو سکتی۔ ورلڈ کپ پر صرف کرکٹرز کا حق نہیں۔ قومی ہاکی ٹیم کے منیجر اصلاح الدین اور سکواش کے سابق عالمی چیمپئن جہانگیرخان بھی اس کے سحر میں مبتلا ہیں۔ اصلاح الدین بھی راتوں کو جاگ کر ورلڈ کپ کے میچز دیکھ رہے ہیں۔ وہ بھی جہانگیرخان کے خیالات سے متفق ہیں کہ پاکستانی ٹیم باصلاحیت کرکٹرز پر مشتمل ہے اور وہ مناسب حکمت عملی کے ذریعے پہلی شکست کا ازالہ کرسکتی ہے۔
جاوید میانداد کے شارجہ کے یادگار چھکے نےگلوکار سلیم جاوید کو انہیں خراج تحسین پیش کرنے پر مجبور کر دیا تھا لیکن اب کوئی گلوکار انضمام الحق یا کسی دوسرے کرکٹر کے لئے نہیں گا رہا نہ ہی ورلڈ کپ کا کوئی گیت منظرعام پر آیا ہے۔ 1996ء ورلڈ کپ میں ایک قد آدم بیٹ تیار کرکے اسے شہر شہرگھمایا گیا تھا لیکن اس بار ورلڈ کپ کی کوئی علامت شہر میں نظر نہیں آئی ہے۔ تاہم جہاں تک کوریج کا تعلق ہے تو میچز، تصاویر، تجزیوں اور خبروں کی صورت میں عالمی کپ اخبارات کے صفحات پر پھیل چکا ہے اور ٹی وی چینلز بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ سابق ٹیسٹ کرکٹرز ماہرین کے روپ میں تبصروں اور کالمز میں ٹیم کو مفید مشورے دینے اور ٹیم کی کارکردگی کا تجزیہ کرنے میں مصروف ہیں۔ وسیم اکرم اور عمران خان ٹی وی اشتہارت میں نظر آرہے ہیں جہاں عمران خان پاکستانی کرکٹرز کو سولہ کروڑ عوام کے دل جیتنے کی تلقین کررہے ہیں۔ قوم تو دعا کر رہی ہے جیسا کہ وہ ہمیشہ کرتی رہی ہے لیکن درحقیقت پاکستانی ٹیم کو دعا کے ساتھ ساتھ ’دوا‘ کی بھی ضرورت ہے۔ | اسی بارے میں آئرش تماشائی اور حلال کھانا16 March, 2007 | کھیل غلط ترجمے اور لاہوری موٹرسائیکلٹس14 March, 2007 | کھیل بیٹنگ ناکام، پاکستان میچ ہار گیا13 March, 2007 | کھیل جنوبی افریقہ کے خلاف فتح09 March, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||