غلط ترجمے اور لاہوری موٹرسائیکلٹس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ورلڈ کپ کے افتتاحی میچ سے پہلے، اس کے دوران اور اس کے بعد الگ الگ رنگ اپنی اپنی خوبصورتی لیے نظر آئے ہیں۔ پاکستانی کپتان انضمام الحق نے شکست کے بعد پریس کانفرنس کی جس میں ان سے میں نے پوچھا کہ ویسٹ انڈیز کی کونسی بات اچھی لگی اور ایسی کونسی چیز جو بہت بری لگی؟ جس پر انضمام کا برجستہ جواب تھا ’ویسٹ انڈیز اچھی جگہ ہے۔ لوگ بھی اچھے ہیں اور ٹیم بھی بہت اچھی ہے لیکن برا یہ لگا کہ ہم ہارگئے‘۔ پہلا میچ ہارنے کے باوجود انضمام الحق کا یہ کہنا تھا کہ وہ میچ ہارے ہیں حوصلہ نہیں۔ ان کی ٹیم ایک معرکہ ہاری ہے لیکن جنگ جیتنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ ویسٹ انڈین کپتان برائن لارا بھی اپنے ہم منصب کے لیے احترام اور تعظیم کا جذبہ لیے پریس کانفرنس میں آئے اور کہنے لگے ’انضمام الحق اور ان کی ٹیم بہت اچھی ہے۔دراصل پاکستانی ٹیم یہ میچ نہیں ہاری بلکہ ویسٹ انڈین ٹیم میچ جیتی ہے‘۔ اپنی پریس کانفرنس میں انضمام الحق سوالوں کے جواب اچانک انگریزی میں دینے لگتے لیکن پھر خیال آتا کہ انہیں کہا گیا ہے کہ وہ اردو میں جواب دینگے ان کے ساتھ ڈائس پر میڈیا منیجر پی جے میر براجمان تھے جو اردو کا انگریزی میں ترجمہ کرتے لیکن ان کا ترجمہ بسا اوقات بعض نکات حذف کردیتا اور بسا اوقات یہ ترجمہ وہ بات بھی کہتا جو انضمام الحق نے سرے سے کہی ہی نہیں تھی۔ ویسٹ انڈیز کی جیت کے بعد اس کے حامیوں نے اسٹیڈیم کے دو اطراف سے بینڈ بجائے اور لڑکیوں نے بدن کے ہرانگ کو اجاگر کرتے ہوئے رقص کیے اور وہاں نصب جہازی سائز کی اسکرینز اسے زوم کرکے دکھاتی رہیں۔
افتتاحی میچ میں پاکستانی ٹیم کی حمایت کے لیے آئے ہوئے شائقین کی معمولی تعداد بھی موجود تھی جن کی کبھی کبھار پاکستان زندہ باد کی صدائیں سنائی دیتی رہیں۔ جیسے ہی یہ نعرے بلند ہوتے ویسٹ انڈین بینڈ طوفان مچادیتے۔ پنجابی اور بھنگڑے کی دھن بھی اسی کے ساتھ ہوجاتی تھی۔ ہر اوور کے بعد ویسٹ انڈین موسیقی حرکت میں آتی اور چھاجاتی کہ کرسی پر بیٹھا شخص بھی تھرکنے لگتا۔ میچ میں ویسٹ انڈیز کا چاہے ایک رن بنے یا فیلڈر ایک رن روکے شائقین کھل کر داد دیتے لیکن پاکستان کا چاہے چوکا لگے یا فیلڈر نہ رکنے والا شاٹ روک لے میدان میں خاموشی کا اکاؤنٹ کھل جاتا تھا۔ میدان میں پاکستان کے ساتھ ساتھ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کا پرچم بھی نظرآیا۔ پاکستانی ٹیم کی حمایت کرنے کے لیے میدان کا رخ کرنے والے پاکستانی شائقین میں کراچی، لاہور اور سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے بھی شامل تھے لیکن جب ان سے بات ہوئی تو پتہ چلا کہ یہ سب امریکہ میں رہتے ہیں۔ بعض پاکستانی خواتین اور لڑکیاں بھی پاکستانی ٹیم کے لیے نعرے لگاتی رہیں۔ان کا لباس بھی پاکستانی پرچم جیسا تھا۔ میچ سے پہلے دو پاکستانی نوجوان جن کا تعلق لاہور سے تھا سڑکوں پر موٹرسائیکل سرپٹ دوڑاتے نظر آئے۔انہوں نے پاکستانی پرچم بھی اٹھا رکھے تھے۔ سیاہ فام جمائیکن لوگوں کے لیے یہ دلچسپ منظر تھا کہ جب موٹرسائیکل ان کے قریب آتی تو وہ دہشت کے مارے ان کا راستہ چھوڑ دیتے تھے۔ یہ دونوں جو ہیلمٹ کے بغیر ڈبل سواری کی پابندی سے مکمل طور پر آزاد تھے۔ پہلے میچ کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ منشیات اور ممنوعہ اشیا کی کھوج لگانے والے خوفناک کتے بھی تھے۔ |
اسی بارے میں بیٹنگ ناکام، پاکستان میچ ہار گیا13 March, 2007 | کھیل جنوبی افریقہ کے خلاف فتح09 March, 2007 | کھیل نویں کرکٹ ورلڈ کپ کا افتتاح ہوگیا12 March, 2007 | کھیل سوبرز اور حنیف سے انضمام اور لارا تک09 March, 2007 | کھیل پاکستان کی ٹیم ’ناقابل بھروسہ‘08 March, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||