BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان کی ٹیم ’ناقابل بھروسہ‘

 پاکستان کی ٹیم
پاکستان کے پاس وقار یونس اور وسیم اکرم کا متبادل نہیں ہے
کرکٹ کی لغت میں ’ناقابل بھروسہ‘ کا لفظ سب سے زیادہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے لیے استعمال ہوتا ہے۔اس کی وجہ اس کی اتار چڑھاؤ کی حامل کارکردگی ہے جس میں اپنے سے بڑی ٹیم کو ہرانے کی حیرانگی بھی ہے تو اپنےسے کمتر ٹیم سے مات کھانے کی مایوسی بھی۔

ورلڈ کپ مقابلوں میں بھی یہی کچھ ہوتا رہا ہے۔1975 کے پہلے عالمی کپ میں پاکستانی ٹیم ویسٹ انڈیز سے جیتی بازی ہارگئی۔ اس عالمی کپ میں پاکستانی ٹیم کے کپتان آصف اقبال اپینڈ کس کے آپریشن کی وجہ سے وہ میچ نہیں کھیلے۔

آصف اقبال ان لمحات کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں’ نرس نے آ کر مجھے بتایا کہ ایجبسٹن گراؤنڈ سے ویسٹ انڈین کھلاڑی برناڈ جولین کا فون آیا ہے جنہوں نے کہا ہےکہ مجھے پاکستانی ٹیم کی جیت کی مبارکباد پہنچادی جائے لیکن تھوڑی دیر بعد عیادت کے لیے آنے والی میری بیگم اور عزیزوں نے مجھے بتایا کہ پاکستانی ٹیم ہار چکی ہے۔‘

آصف بتاتے ہیں ’میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ نرس کی بات پر یقین کروں یا اپنی بیگم کا۔ بہرحال بعد میں پتہ چلا کہ ویسٹ انڈین ٹیم سنسنی خیز مقابلے کے بعد ایک وکٹ سے جیت گئی ہے۔‘

اس دور میں پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان کانٹے کے مقابلے ہوئے تاہم ورلڈ کپ مقابلوں میں پاکستانی ٹیم سیاہ آندھی کی جیت کی راہ نہ روک سکی۔

75ء کے بعد 79 ء اور83ء عالمی کپ سیمی فائنلز میں بھی جیت ویسٹ انڈیز کی ہوئی۔

سرفراز نواز نہ صرف پہلے تین ورلڈ کپ کھیلے ہیں بلکہ تینوں مواقعوں پر ویسٹ انڈیز کو کامیابی حاصل کرتے دیکھا ہے ان کا کہنا ہے کہ یہ پاکستانی ٹیم کی بدقسمتی تھی کہ ہر بار ویسٹ انڈیز کی ٹیم مقابل آئی۔

دراصل اسوقت کی ویسٹ انڈین ٹیم بہت مضبوط تھی اگر بیٹنگ کمزور پڑتی تو بولنگ کمی پوری کر دیتی اور کبھی بولنگ کام نہیں دکھاتی تھی تو بیٹسمینوں کا جادو سرچڑھ کر بولتا تھا۔

1987 میں ہر شخص پاکستانی ٹیم کو فیورٹ سمجھ رہا تھا لیکن اپنے ہی ہوم گراؤنڈ پر اس کے خواب آسٹریلوی ٹیم نے بکھیر کر رکھ دیئے۔

1992 کا ورلڈ کپ پاکستانی کرکٹ کا نقطہ عروج ہے لیکن اس میں پاکستانی ٹیم کو کامیابی ایسے انداز میں حاصل ہوئی جب متواتر شکست کے بعد وہ بے یقینی کی کیفیت سے دوچار ہوکر وطن واپسی کی پوزیشن میں آگئی تھی لیکن وہ گر کر ایسی سنبھلی کہ پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔

آصف اقبال
1975 میں پاکستان نے ویسٹ انڈیز سے جیتا ہوا میچ ہار دیا
1996 کے عالمی کپ کے موقع پر پاکستان کے گلی کوچوں میں’ جذبہ جنون ہمت نہ ہار‘ گونج رہا تھا اور ہر شخص کو یقین تھا کہ اس مرتبہ بھی عالمی کپ اس کا ہے لیکن بنگلور کے کوارٹر فائنل نے اس جذبے کو ٹھنڈا کردیا۔

1999 کے ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش جیسی نو آموز ٹیم کے خلاف میچ ہارنے کے بعد وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے ورلڈ کپ کی تاریخ کے سب سے یکطرفہ فائنل میں آسٹریلوی ٹیم کے سامنے بھی گھٹنے ٹیک دیئے۔

2003ء ورلڈ کپ میں بھی نام بڑا درشن چھوٹے کے مصداق پاکستانی ٹیم پہلے مرحلے سے آگے نہ بڑھ سکی۔

اسوقت پاکستانی ٹیم جزائر غرب الہند میں ہے لیکن اس بار اس کا سامنا صرف ویسٹ انڈین ٹیم سے نہیں بلکہ عالمی اعزاز کے بڑے بڑے دعویداروں سے ہے۔

پاکستانی شائقین کرکٹ کی آس کی ڈوری پھر بندھی ہے۔ دیکھیں انضمام الحق اپنے الوداعی عالمی مقابلے کو اپنے اور ٹیم کے لیے یادگار بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں؟

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد