BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 02 March, 2007, 19:59 GMT 00:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شعیب اور آصف معافی مانگیں: راجہ

 رمیز راجہ
شعیب اور آصف اپنے کیے کے خود ذمہ دار ہیں
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ شعیب اختر اور محمد آصف کو قوم سے معافی مانگنی چاہیے کیونکہ ان کی وجہ سے ورلڈ کپ کے لیے ٹیم اور پوری قوم کی توقعات کو زبردست دھچکہ پہنچا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے رمیز راجہ نے کہا کہ اگر شعیب اختر اور محمد آصف انفرادی کھیل میں ہوتے تو ان کی اس حرکت سے انہی کی ذات کو نقصان پہنچتا لیکن ایک ٹیم گیم کا حصہ ہونے کی وجہ سے نہ صرف ٹیم بلکہ پوری قوم کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ بات طے ہے کہ ممنوعہ ادویات کرکٹ بورڈ نے ان کے جسموں میں داخل نہیں کیں لہذا وہ اپنے کیے کے خود ذمہ دار ہیں اور اب انہیں قوم سے معافی مانگنی چاہیے کیونکہ ورلڈ کپ میں وہ پاکستانی ٹیم کی توقعات کا محور تھے اوران امیدوں کو دھچکہ پہنچا ہے۔

رمیز راجہ نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی مشکل صورتحال میں ایمانداری اور جرات مندی سے فیصلوں کی ضرورت ہوتی ہے اور پاکستان کرکٹ بورڈ کو چاہیے کہ وہ شکوک وشبہات ختم کرنے کے لیے ان دونوں بولرز کے دوبارہ ڈوپ ٹیسٹ کراکر یہ واضح کرے کہ انہیں محض فٹنس کی وجہ سے ٹیم سے باہر کیا گیا ہے۔

رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے موجودہ کرتادھرتا لوگوں کو اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ پی سی بی ایک اہم ادارہ ہے اور دنیا میں پاکستانی کرکٹ کی بڑی اہمیت ہے اس تنازعے کی وجہ سے اس کی بہت جگ ہنسائی ہوئی ہے۔

سابق کپتان کے خیال میں جس وقت شعیب اختر اور محمد آصف پر پابندی عائد کی گئی تھی اگر اسی وقت جرات مندی کا مظاہرہ کیا جاتا تو آج صورتحال مختلف ہوتی لیکن بورڈ نے جتنے یوٹرن لیے اتنے ہی مسائل بڑھتے گئے۔

رمیز راجہ نے کہا کہ اس تنازعے کی وجہ سے کپتان انضمام الحق کو سب سے زیادہ نقصان پہنچاہے جو ورلڈ کپ میں اچھی کارکردگی کے لیے ان دونوں بولرز کو اہم سمجھ رہے تھے ان کی حکمت عملی متاثر ہوئی ہے۔ انہیں چاہیے کہ وہ کھلاڑیوں کو باور کرائیں کہ جو ہونا تھا وہ ہوچکا اب ہمیں نئے جذبے کے ساتھ میدان میں اترتا ہے اور پاکستانی ٹیم کا یہ طرہ امتیاز ہے کہ مشکل صورتحال میں وہ گرتی نہیں ہے بلکہ سنبھل کر ایک سخت جاں حریف کے طور پر سامنے آتی ہے۔

اسی بارے میں
سو فیصد فٹ ہوں:شعیب اختر
01 April, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد