BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 01 March, 2007, 18:42 GMT 23:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’فٹنس کا نہیں ڈوپنگ کا مسئلہ ہے‘

 فاسٹ بولرز شعیب اختر اور محمد آصف
فاسٹ بولرز شعیب اختر اور محمد آصف
شعیب اختر اور آصف کو کرکٹ ورلڈ کپ میں شامل نہ کیے جانے پر اکثر سابق کرکٹرز کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ فٹنس نہیں ڈوپنگ کا ہے۔

راشد لطیف
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان راشد لطیف کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے فاسٹ بولرز شعیب اختر اور محمد آصف کے معاملے میں حقائق چھپائے ہیں کیونکہ یہ فٹنس کا نہیں ڈوپنگ کا معاملہ ہے۔ اس تمام صورتحال کی ذمہ داری صرف دونوں بولرز پر عائد نہیں جاسکتی بلکہ کوچ فزیو اور ٹرینر سب اس کے برابر کے ذمہ دار ہیں۔

راشد لطیف کا کہنا ہے کہ صدر پرویز مشرف کو اس معاملے میں مداخلت کرنی چاہیے۔

اس سوال پر کہ اس صورتحال میں کیا ٹیم کا مورال گرے گا؟ راشد لطیف نے کہاکہ کپتان اور ٹیم مینجمنٹ کو یقیناً صورتحال کا پہلے سے پتہ ہوگا اور وہ ذہنی طور پر اس کے لیے تیار ہوں گے۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم اس قسم کی بحرانی صورتحال کی عادی ہوچکی ہے لہذا وہ نہیں سمجھتے کہ اس کی کارکردگی پر فرق پڑسکتا ہے۔

راشد لطیف
پاکستانی کرکٹ ٹیم اس قسم کی بحرانی صورتحال کی عادی ہوچکی ہے

معین خان
سابق وکٹ کیپر اور1992 ورلڈ کپ کی فاتح ٹیم کے رکن معین خان کا کہنا ہے کہ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اگر یہ معاملہ ڈوپنگ کا ہے تو کرکٹ بورڈ اسے کیوں چھپا رہا ہے؟ جتنی بدنامی ہونی تھی وہ تو ہوچکی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ حقائق سامنے لاتا کہ شعیب اختر اور محمد آصف کے جسم میں اب بھی ممنوعہ ادویات کے اثرات موجود ہیں اس لیے انہیں نہیں کھلایا جارہا لیکن صورتحال اس کے برعکس ہے کہ کپتان کہتا ہے کہ دونوں بولرز جسمانی طور پر فٹ ہیں اور بورڈ کے اعلی عہدیداروں کے بیانات اس سے یکسر مختلف ہیں۔

معین خان کا کہنا ہے کہ اب ٹیم میں شامل دوسرے بولرز کو ذمہ داری سنبھالنی ہوگی۔ موجودہ صورتحال 92 ورلڈ کپ سے مختلف نہیں اس وقت بھی صرف تین بولرز وسیم اکرم۔ عاقب جاوید اور مشتاق احمد فٹ تھے اور انہوں نےبولنگ کا شعبہ خوش اسلوبی سے سنبھالے رکھا تھا۔

وقاریونس
2003ء کے ورلڈ کپ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کی قیادت کرنے والے وقاریونس کا کہنا ہے کہ شعیب اختر اور محمد آصف کا غیرضروری طور پر انتظار کیا گیا اور انہیں بہت زیادہ اہمیت دی گئی جس سے دوسرے کھلاڑیوں کو یقیناً یہ پیغام ملا ہوگا کہ ان کی کوئی اہمیت ہی نہیں ہے۔

 وقاریونس
شعیب اختر اور محمد آصف کا غیرضروری طور پر انتظار کیا گیا

وقاریونس کے خیال میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ٹیم پر اس کا منفی اثر پڑے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ٹیم اس معاملے کو بھلاکر میدان میں اترے۔

سابق کپتان نے انضمام الحق اور باب وولمر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں مثبت سوچ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس قسم کے بیانات سے گریز کرنا چاہیے تھا کہ دونوں بولرز کے بغیر کامیابی کا حصول مشکل ہوگیا ہے۔

انتخاب عالم
پاکستان کی ٹیم کے سابق کپتان انتخاب عالم کا کہنا ہے کہ شعیب اختر اور محمد آصف کے ٹیم میں نہ ہونے سے ٹیم بہت مشکل میں آ گئی ہے اور سیمی فائنل میں پہنچنے کے پاکستان کے امکانات کافی معدوم ہو گئے ہیں کیونکہ بالنگ کے دونوں اینڈ خالی ہو گئے ہیں۔ ان دونوں کا عالمی کپ سے باہر ہونا ٹیم کے لیے کافی بڑا دھچکا تو ہے لیکن یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ ان دونوں نے باہر ہونا ہی تھا اور بورڈ نے یہ کہہ کر کہ یہ دونوں ان فٹ ہونے کے سبب نہیں جا سکتے حقائق چھپانے کی کوشش کی ہے کیونکہ سب جانتے ہیں کہ ان کے نہ جانے کے در پردہ ڈوپنگ کا مسئلہ تھا۔

مدثر نذر
پاکستان ٹیم کے سابق اوپنر اور نیشنل کرکٹ اکیڈمی کے ڈاریکٹر مدثر نذر کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لیے اب عالمی کپ میں اچھی کارکردگی دکھانا کافی کٹھن ہو گا کیونکہ یہ دونوں نئی بال کے بالر تھے چلیں اگر ایک اینڈ پر عمر گل ہے تو دوسرے اینڈ پر ان میں سے کم از کم ایک ہوتا لیکن اب تو صورتحال ہی بدل گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ میچ جتوانے میں بالنگ کا بہت کردار ہوتا ہے اور پاکستان کی بالنگ کافی کمزور ہو گئی ہے۔ مدثر نذر نے کہا کہ اب کپتان انضمام کو چاہیے کہ دانش کنیریا کو ٹرمپ کارڈ کے طور پر استعمال کریں۔

عاقب جاوید
پاکستان کی بالنگ کی قوت 60 فیصد کم ہو گئی ہے

عاقب جاوید
پاکستان کی ٹیم کے سابق فاسٹ بالر اور نیشنل کرکٹ اکیڈمی کے چیف کوچ عاقب جاوید کے مطابق ان دونوں کے نا ہونے سے پاکستان کی بالنگ کی قوت 60 فیصد کم ہو گئی ہے۔ہم پہلے ہی پاکستان کو پہلی چھ ٹیموں میں شامل کر رہے تھے لیکن ان دونوں کے عالمی کپ سے باہر ہونے سے پاکستان کی ٹیم پہلی چھ ٹیموں سے بھی باہر ہی لگتی ہے اور جیتنے کے امکانات بہت ہی کم ہیں اب تو صرف اگر بہت بہادری سے پاکستان کی ٹیم خصوصا بیٹسمین میدان میں اتریں تب ہی کوئی حیران کن نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔ انضمام کو چاہیے کہ اوپنگ کرے تاکہ آنے والے بیٹس مینوں پر دباؤ کم ہو ۔ دانش کنیریا ایسی بالنگ کرے جیسی 1992 میں مشتاق احمد نے کروائی تھی۔انہوں نے کہا کہ عمر گل کی فٹنس بھی بہت ضروری ہے اور اگر نئے بال کے لیے شاہد نذیر کو بھیجا جاتا تو زیادہ بہتر تھا کیونکہ جو بالر اس وقت ٹیم کے ساتھ ہیں وہ پرانی بال پر زیادہ مؤثر ہیں اس لیے اگرشاہد نزیر کو بھیجتے تو بہتر ہوتا۔

عامر سہیل
سابق کپتان اور بیٹس مین عامر سہیل کا کہنا تھا کہ یہ تو سب کو پہلے ہی معلوم تھا کہ یہ دونوں عالمی کپ نہیں کھیل سکیں گے اور میرے خیال میں 1992 کے عالمی کپ کی طرح پاکستان کی ٹیم مینجمنٹ کو کوئی خاص منصوبہ بندی کرنی چاہیے کہ کچھ بہتر کارکردگی دکھا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ذمہ داری اب کوچ باب وولمر اور کپتان انضمام کی ہے اور ویسے بھی کوچ باب وولمر کے سبب ہی پاکستان کی ٹیم کی یہ حالت ہوئی ہے کہ پاکستان کے لیے انہوں نے تین سالوں میں بھی ’بیک اپ‘ میں کوئی اچھا بالر تیار نہیں کیا جو ان بالرز کے متبادل کے طور پر ہوتا۔

عامر سہیل
ذمہ داری اب کوچ باب وولمر اور کپتان انضمام کی ہے

اعجاز احمد
سابق بیٹس مین اعجاز احمد نے کہ جہاں تک عالمی کپ کا تعلق ہے تو ان دونوں کے نا ہونے کا نقصان ناقابل تلافی ہے لیکن ایک طرح سے یہ کرکٹ بورڈ کا اچھا فیصلہ ہے کیونکہ ہم سب جانتے ہیں کہ وہ ڈوپنگ کے مسئلے کے سبب نہیں جا رہے اور اگر وہ چلے جاتے تو ان کا کیرئر داؤ پر لگ سکتا تھا اس لیے ان کا نا جانا ان کے لیے بہتر ہے۔ جہاں تک پاکستان کی ٹیم کا تعلق ہے سپنرز کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ یاسر عرفات ویسٹ انڈیز کے حالات کے سبب کافی بہتر انتخاب ہے کیونکہ وہاں بال نیچے رہتا ہے اور یاسر عرفات نیچا بال کرتا ہے جس سے بیٹس مین مشکل میں آ سکتے ہیں۔ بیٹس مینوں کو ذمہ داری سے بیٹنگ کرنی ہو گی۔
ڈوپ ٹیسٹ کی تلوار
’شعیب،آصف کے بنا کھیلناسیکھ لینا چاہیے‘
شعیب اخترورلڈ کپ کھیلو گے؟
گھٹنے کی وجہ سے امکان فِفٹی فِفٹی ہے، شعیب
مشروط شمولیت
زخمی شعیب، آصف اور عمر گل ٹیم میں شامل
شعیب اختر’شعیب کا مستقبل‘
کیا ہوگا کیا نہیں ہوگا؟ سینئر کھلاڑیوں کی رائے
شعیب اخترنیا عزم، نیا جذبہ
’جنوبی افریقہ میں پچھلی کمی پوری کروں گا‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد