’فٹنس کا نہیں ڈوپنگ کا مسئلہ ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شعیب اختر اور آصف کو کرکٹ ورلڈ کپ میں شامل نہ کیے جانے پر اکثر سابق کرکٹرز کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ فٹنس نہیں ڈوپنگ کا ہے۔ راشد لطیف راشد لطیف کا کہنا ہے کہ صدر پرویز مشرف کو اس معاملے میں مداخلت کرنی چاہیے۔ اس سوال پر کہ اس صورتحال میں کیا ٹیم کا مورال گرے گا؟ راشد لطیف نے کہاکہ کپتان اور ٹیم مینجمنٹ کو یقیناً صورتحال کا پہلے سے پتہ ہوگا اور وہ ذہنی طور پر اس کے لیے تیار ہوں گے۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم اس قسم کی بحرانی صورتحال کی عادی ہوچکی ہے لہذا وہ نہیں سمجھتے کہ اس کی کارکردگی پر فرق پڑسکتا ہے۔
معین خان سابق وکٹ کیپر اور1992 ورلڈ کپ کی فاتح ٹیم کے رکن معین خان کا کہنا ہے کہ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اگر یہ معاملہ ڈوپنگ کا ہے تو کرکٹ بورڈ اسے کیوں چھپا رہا ہے؟ جتنی بدنامی ہونی تھی وہ تو ہوچکی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ حقائق سامنے لاتا کہ شعیب اختر اور محمد آصف کے جسم میں اب بھی ممنوعہ ادویات کے اثرات موجود ہیں اس لیے انہیں نہیں کھلایا جارہا لیکن صورتحال اس کے برعکس ہے کہ کپتان کہتا ہے کہ دونوں بولرز جسمانی طور پر فٹ ہیں اور بورڈ کے اعلی عہدیداروں کے بیانات اس سے یکسر مختلف ہیں۔ معین خان کا کہنا ہے کہ اب ٹیم میں شامل دوسرے بولرز کو ذمہ داری سنبھالنی ہوگی۔ موجودہ صورتحال 92 ورلڈ کپ سے مختلف نہیں اس وقت بھی صرف تین بولرز وسیم اکرم۔ عاقب جاوید اور مشتاق احمد فٹ تھے اور انہوں نےبولنگ کا شعبہ خوش اسلوبی سے سنبھالے رکھا تھا۔ وقاریونس
وقاریونس کے خیال میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ٹیم پر اس کا منفی اثر پڑے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ٹیم اس معاملے کو بھلاکر میدان میں اترے۔ سابق کپتان نے انضمام الحق اور باب وولمر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں مثبت سوچ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس قسم کے بیانات سے گریز کرنا چاہیے تھا کہ دونوں بولرز کے بغیر کامیابی کا حصول مشکل ہوگیا ہے۔ انتخاب عالم مدثر نذر
عاقب جاوید پاکستان کی ٹیم کے سابق فاسٹ بالر اور نیشنل کرکٹ اکیڈمی کے چیف کوچ عاقب جاوید کے مطابق ان دونوں کے نا ہونے سے پاکستان کی بالنگ کی قوت 60 فیصد کم ہو گئی ہے۔ہم پہلے ہی پاکستان کو پہلی چھ ٹیموں میں شامل کر رہے تھے لیکن ان دونوں کے عالمی کپ سے باہر ہونے سے پاکستان کی ٹیم پہلی چھ ٹیموں سے بھی باہر ہی لگتی ہے اور جیتنے کے امکانات بہت ہی کم ہیں اب تو صرف اگر بہت بہادری سے پاکستان کی ٹیم خصوصا بیٹسمین میدان میں اتریں تب ہی کوئی حیران کن نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔ انضمام کو چاہیے کہ اوپنگ کرے تاکہ آنے والے بیٹس مینوں پر دباؤ کم ہو ۔ دانش کنیریا ایسی بالنگ کرے جیسی 1992 میں مشتاق احمد نے کروائی تھی۔انہوں نے کہا کہ عمر گل کی فٹنس بھی بہت ضروری ہے اور اگر نئے بال کے لیے شاہد نذیر کو بھیجا جاتا تو زیادہ بہتر تھا کیونکہ جو بالر اس وقت ٹیم کے ساتھ ہیں وہ پرانی بال پر زیادہ مؤثر ہیں اس لیے اگرشاہد نزیر کو بھیجتے تو بہتر ہوتا۔ عامر سہیل
اعجاز احمد سابق بیٹس مین اعجاز احمد نے کہ جہاں تک عالمی کپ کا تعلق ہے تو ان دونوں کے نا ہونے کا نقصان ناقابل تلافی ہے لیکن ایک طرح سے یہ کرکٹ بورڈ کا اچھا فیصلہ ہے کیونکہ ہم سب جانتے ہیں کہ وہ ڈوپنگ کے مسئلے کے سبب نہیں جا رہے اور اگر وہ چلے جاتے تو ان کا کیرئر داؤ پر لگ سکتا تھا اس لیے ان کا نا جانا ان کے لیے بہتر ہے۔ جہاں تک پاکستان کی ٹیم کا تعلق ہے سپنرز کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ یاسر عرفات ویسٹ انڈیز کے حالات کے سبب کافی بہتر انتخاب ہے کیونکہ وہاں بال نیچے رہتا ہے اور یاسر عرفات نیچا بال کرتا ہے جس سے بیٹس مین مشکل میں آ سکتے ہیں۔ بیٹس مینوں کو ذمہ داری سے بیٹنگ کرنی ہو گی۔ |
اسی بارے میں فٹنس یا ڈوپنگ، حقیقت کیا ہے؟01 March, 2007 | کھیل شعیب اور آصف ورلڈ کپ سے باہر01 March, 2007 | کھیل مسئلہ صرف فٹنس کا،’یقین نہیں آتا‘01 March, 2007 | کھیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||