BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 February, 2007, 08:35 GMT 13:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ترجیح شعیب اور آصف کو مگر۔۔۔‘

باب وولمر
’سو فیصد فٹ شعیب ٹیم کے دوسرے کھلاڑیوں ہی کی طرح ہیں‘
پاکستان کرکٹ ٹیم کے کوچ باب وولمر کا ماننا ہے کہ شعیب اختر اور محمد آصف کے ڈوپ ٹیسٹ کی تلوار ٹیم پر لٹک رہی ہے۔

بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ’ٹیم کے لیے پہلی ترجیح تو یہی دونوں بالرز ہیں تاہم ان کے نہ ہونے کی صورت میں متبادل کھلاڑیوں پر انحصار کرنا ہوگا‘۔

انہوں نے کہا کہ شعیب اور آصف کی غیر موجودگی میں ان کے متبادل کھلاڑیوں پر ان جیسی بہتر کارکردگی دکھانے کے حوالے سے کافی دباؤ رہےگا لیکن ٹیم کو ان دونوں کے بغیر رہنا سیکھ لینا چاہیے۔ باب وولمر نے کہا کہ ان کے دل میں شعیب اختر کے لیے کوئی بغض نہیں اور سو فیصد فٹ شعیب ان کے لیے ٹیم کے دوسرے کھلاڑیوں ہی کی طرح ہیں۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے کوچ باب وولمر کا کہنا ہے کہ فاسٹ بالر عمرگل فٹ ہوگئے ہیں اور محمد آصف کی کہنی میں بھی اب کوئی تکلیف نہیں لہذٰا وہ ٹیم کی فٹنس کی بابت زیادہ پریشان نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹیم کا فٹنس لیول کافی حد تک بہتر ہے البتہ شعیب اختر کی فٹنس کے بارے میں باب وولمر یقین سے کچھ کہنے سے قاصر ہیں کیونکہ شعیب نےانہیں اپنی فٹنس کے بارے میں آگاہ نہیں کیا۔

ہمارا چانس بھی ہے
 عالمی کپ بالکل مختلف ٹورنامنٹ ہے اور پاکستان کے عالمی کپ جیتنے کے اتنے ہی امکانات ہیں جتنے کہ کسی بھی اور ٹیم کے
باب وولمر

پاکستانی کوچ کہتے ہیں کہ عالمی کپ میں میچوں کے دوران انہیں کچھ دن ملیں گے اور اس دوران وہ چھوٹے موٹے فٹنس مسائل سے نمٹ سکتے ہیں۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیم کی شکست کی وجہ فٹنس مسائل تھے لیکن اس کی وجہ میچوں کے درمیان وقفے کا نہ ہونا تھا۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی افریقہ کے دورے سے ٹیم نے بہت کچھ سیکھا ہے جس کا فائدہ عالمی کپ میں ہوگا۔ باب وولمر کے مطابق اگرچہ جنوبی افریقہ کے خلاف کارکردگی کی بناء پر لوگ پاکستان کی ٹیم سے کم توقعات رکھتے ہیں لیکن عالمی کپ بالکل مختلف ٹورنامنٹ ہے اور پاکستان کے عالمی کپ جیتنے کے اتنے ہی امکانات ہیں جتنے کہ کسی بھی اور ٹیم کے۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا کی موجودہ کارکردگی کےسبب اب اسے بھی فیورٹ نہیں سمجھا جا سکتا۔

جمعہ سے قذافی سٹیڈیم لاہور میں عالمی کپ کے لیے پاکستانی ٹیم کا تربیتی کیمپ شروع ہو رہا ہے اور باب وولمر کے مطابق کھلاڑیوں کو اس کیمپ میں انتہائی سنجیدگی سے تربیت کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ کیمپ میں تربیت کے لیے صرف پانچ چھ روز ملیں گے لہذٰا ان دنوں میں سخت محنت کرنا ہوگی۔

اوپنگ کے مسئلے کی بابت باب وولمر کا کہنا تھا کہ یہ مسئلہ پاکستان کے ساتھ ہی نہیں دوسری ٹیموں کے ساتھ بھی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی کپ میں اوپننگ کی ذمہ داری محمد حفیظ، عمران نذیر اور کامران اکمل بانٹیں گے اور یہ تینوں ہی زبردست بیٹسمین ہیں، صرف ضرورت اس بات کی ہے کہ تینوں عالمی کپ میں ذمہ داری کا ثبوت دیں۔

باب وولمر کا پاکستان کی ٹیم کے ساتھ عالمی کپ آخری ٹورنامنٹ ہو سکتا ہے کیونکہ اس کے بعد ان کا پاکستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ معاہدہ ختم ہو جائے گا انہوں نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ ان کی کوچنگ میں پاکستان کی ٹیم عالمی کپ کی فاتح ہو۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد