شعیب اختر کا کیا بنے گا؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ورلڈ کپ کے لیے پاکستان کی پندرہ رکنی کرکٹ ٹیم کا انتخاب جنوبی افریقہ کے خلاف ون ڈے سیریز کے دوران ہونا ہے اس مقصد کے لیے چیف سلیکٹر وسیم باری جنوبی افریقہ روانہ ہوچکے ہیں جہاں وہ کپتان انضمام الحق سے مشورے کے بعد ٹیم کو حتمی شکل دینگے۔ ورلڈ کپ سکواڈ کے ضمن میں یہ سوال ہرخاص وعام کی زبان پر ہے کہ کیا فاسٹ بولر شعیب اختر ورلڈ کپ میں پاکستان کی نمائندگی کرسکیں گے؟ شعیب اختر خود اس خواہش کا اظہار کرچکے ہیں کہ وہ ورلڈ کپ میں اپنے ملک کے لیے تیسری مرتبہ کھیلنا چاہتے ہیں لیکن بین الاقوامی کرکٹ میں دو مرتبہ سو میل فی گھنٹہ کی حد عبور کرنے والے ’راولپنڈی ایکسپریس‘ کے لیے پاکستانی ٹیم میں واپسی آسان نظر نہیں آتی اس کی وجہ ان کی فٹنس اور ٹیم منیجمنٹ سے ناخوشگوار تعلقات ہیں۔ شعیب اختر کو پہلے منتخب نہ کرنے کے بعد جنوبی افریقہ بھیجاگیا لیکن ایک اننگز میں بولنگ کے بعد ہی وہ ان فٹ ہوگئے۔ستم بالائے ستم کوچ باب وولمر کے ساتھ جھگڑے کے نتیجے میں ان پر ٹیم کے منیجر طلعت علی نے جرمانہ بھی عائد کیا۔
شعیب اختر جنوبی افریقہ جس تیزی سے گئے تھے اتنی ہی تیزی سے وطن واپس آکر اپنی فٹنس بحال کرنے میں مصروف ہوگئے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے باب وولمر کے ساتھ اپنے جھگڑے پر لب کشائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ جھگڑے کا سبب باب وولمر کا ان کے ان فٹ ہونے پر شک ظاہرکرنا تھا۔ چیف سلیکٹر وسیم باری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے واضح کردیا ہے کہ مکمل فٹ شعیب اختر ہی پاکستانی ٹیم میں شامل کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ شعیب اختر کا ان فٹ ہوجانا ٹیم کو مہنگا پڑتا ہے اور اس بات کو یقینی مان کر کہ شعیب اختر فٹ ہیں انہیں ٹیم میں شامل کیا جائے گا۔ شعیب اختر اپنے کریئر میں مختلف مسائل سے دوچار رہے ہیں جن میں مشکوک بولنگ ایکشن، فٹنس، ڈسپلن کی خلاف ورزی اور ڈوپنگ قابل ذکر ہیں۔
سابق کپتان رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ شعیب اختر کے ذہن میں غالباً یہ بات موجود ہے کہ ان کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے اور وہ خود صحیح ہیں جبکہ ان کے بارے میں یہ تاثر بھی عام ہے کہ وہ ٹیم منیجمنٹ کے لیے مسئلہ بن جاتے ہیں شاید یہی وجہ ہے کہ ان فٹ ہونے کے باوجود ٹیم منیجمنٹ انہیں ساتھ رکھ کر فٹنس بحال کرانے کے لیے تیار نہیں۔ رمیز راجہ کے خیال میں شعیب اختر کو اپنے رویے پر توجہ دینی چاہیے اور دوسروں کو اپنے بارے میں منفی رائے قائم کرنے کا موقع ہی نہیں دینا چاہیے۔ شعیب اختر نے جب نوسال قبل پہلا ٹیسٹ کھیلا تو ہارون رشید پاکستانی ٹیم کے کوچ تھے۔ ہارون رشید شعیب اختر کی مرحلہ وار کارکردگی اور کامیابی کو توقعات کے مطابق قرار نہیں دیتے اور ان کا کہنا ہے کہ شہرت ملنے کی وجہ سے وہ اپنے مقصد سے ہٹ گئے۔ سابق کپتان اور کوچ جاوید میانداد کا کہنا ہے کہ کرکٹر اپنے کیے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔اگر وہی اپنا خیال نہیں رکھے گا کوئی دوسرا اس پر کتنی توجہ دے سکتا ہے۔ شعیب اختر اپنی فٹنس پر مکمل توجہ دینے میں ناکام رہے ہیں۔
سابق کپتان عمران خان ہمیشہ سے شعیب اختر کے زبردست حامی رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ شعیب اختر ورلڈ کلاس اور میچ ونر ہے اور اگر وہ ان فٹ ہوتا ہے تو یہ مسئلہ دوسرے بولرز کے ساتھ بھی درپیش رہتا ہے۔ شعیب اختر کو احتیاط سے استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین لیفٹننٹ جنرل ( ریٹائرڈ) توقیرضیا کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ کرنا پاکستان کرکٹ بورڈ کا کام ہے کہ شعیب اختر پاکستانی ٹیم کی ضرورت ہیں یا نہیں۔ اگر وہ ٹیم کے لیے ضروری ہیں تو ٹھیک ورنہ اگر بورڈ سمجھتا ہے کہ وہ ٹیم کے لیے مسئلہ ہیں تو انہیں باہر کردینے میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔ |
اسی بارے میں شعیب اور عمر پاکستان روانہ23 January, 2007 | کھیل شعیب جنوبی افریقہ پہنچ گئے12 January, 2007 | کھیل شعیب اور آصف شامل نہیں 05 December, 2006 | کھیل شعیب اختر کا برائن لارا کو ڈنر14 November, 2006 | کھیل ’شعیب شاید واپس نہ آسکیں‘07 November, 2006 | کھیل شعیب اپیل کریں گے: ڈاکٹر نعمان02 November, 2006 | کھیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||