’شعیب نے وولمر کو تھپڑ مارا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے دوران پاکستانی کرکٹ ٹیم کے بھارتی رابطہ افسر کے اس بیان پر آئی سی سی سے باضابطہ شکایت کرنے کا فیصلہ کیا ہے کہ شعیب اختر نے باب وولمر کو تھپڑ مارا تھا۔ رابطہ افسر کرنل ( ریٹائرڈ) انیل کول نے بدھ کے روز بھارتی چینل این ڈی ٹی وی پر یہ انکشاف کیا تھا کہ جے پور میں ٹیم کی بس میں گانا سننے پر باب وولمر اور شعیب اختر کے درمیان جھگڑا ہوا اور اس دوران شعیب اختر نے باب وولمر کو تھپڑ دے مارا تھا۔ رابطہ افسر کے مطابق شعیب اور چند دوسرے کھلاڑی کسی بھارتی فلم کا گانا سن رہے تھے جبکہ وولمر انگریزی گانا سننا چاہتے تھے۔ انیل کول نے یہ الزام بھی لگایا کہ شعیب نے ڈسکو میں ایک لڑکی کے ساتھ بدتمیزی کی اور پھر ہوٹل میں بھارتی ٹیم کے کوچ گریگ چیپل کے کمرے کا دروازہ زور زور سے پیٹنا شروع کردیا، جس پر چیپل کی بیگم باہر نکل آئیں۔ انیل کے مطابق اس موقع پر شعیب نے چیپل کی اہلیہ سے کچھ ایسا کہا جس کے
شعیب اختر اور باب وولمر دونوں نے اس واقعہ کی سختی سے تردید کی ہے۔ شعیب نے این ڈی ٹی وی سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا ’ایسا واقعہ سرے سے ہوا ہی نہیں اور میرے وولمر کے ساتھ انتہائی خوشگوار تعلقات ہیں‘۔ باب وولمر نے بھی جمعرات کو قذافی سٹیڈیم میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اس واقعہ سے انکار کیا ہے۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے منیجر طلعت علی نے انیل کول کے الزامات کو ’مضحکہ خیز اور بے بنیاد‘ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا ’ کسی معاملے پر بحث و تکرار ہونا الگ بات ہے لیکن یہ جھوٹ ہے کہ شعیب نے باب وولمر پر ہاتھ اٹھایا‘۔ پی سی بی کے ڈائریکٹر آپریشنز سلیم الطاف کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ ٹورنامنٹ آئی سی سی کا ایونٹ تھا اور تمام سکیورٹی اور رابطہ افسر آئی سی سی نے ہی رکھے تھے اس لیے اس بارے میں اسی سے شکایت کی جارہی ہے۔ | اسی بارے میں شعیب اختر نے اپیل دائر کر دی08 November, 2006 | کھیل ’شعیب شاید واپس نہ آسکیں‘07 November, 2006 | کھیل ’راولپنڈی ایکسپریس پٹڑی سے اترگئی‘02 November, 2006 | کھیل وولمر ڈوپِنگ کمیٹی کے سامنے طلب28 October, 2006 | کھیل شعیب اختر پھر ان فٹ ہوگئے10 February, 2006 | کھیل ’شعیب بلاشبہ بہت تیز بالر ہے‘24 January, 2006 | کھیل شعیب کو ’گینگسٹر‘ بننے کی پیشکش14 May, 2005 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||