BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 07 November, 2006, 08:56 GMT 13:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’شعیب شاید واپس نہ آسکیں‘
شعیب نے کہا تھا کہ وہ بے گناہ ہیں اور انہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا
پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق نے کہا ہے کہ اگر شعیب اختر ڈوپنگ کیس میں سزا کی معیاد کم کروانے میں کامیاب نہیں ہوتے ہیں تو ان کا بالنگ کیرئر ختم ہو سکتا ہے۔

انضمام کا کہنا تھا کہ اکتیس سالہ فاسٹ بالر شعیب اختر کے لیئے دو سال بعد واپسی انتہائی دشوار عمل ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسا صرف شعیب کے لیئے ہی نہیں بلکہ ہر اس شخص کے لیئے ایک مشکل کام ہوگا جس کی عمر تیس سال سے زائد ہے اور وہ کھیل کے میدان سے دور ہو اور پھر وہ دوبارہ کھیلنا شروع کرے۔

ان کا کہنا تھا’میں جانتا ہوں کہ آسٹریلیا کے شین وارن کی عمر زیادہ تھی مگر ان پر صرف ایک سال کی پابندی لگائی گئی جو کسی بھی سپنر کے لیئے مشکل نہیں ہے‘۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے پاکستان کرکٹ کنٹرول بورڈ کے ڈوپنگ کمیشن کی جانب سے تیز رفتار بالر شعیب اختر پر ممنوعہ ادویات استعمال کرنے کے الزامات کے بعد دو سال کی پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

شعیب کی جانب سے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی جانی باقی ہے۔ شعیب کے ساتھ محمد آصف پر بھی ممنوعہ ادویات کے استعمال کے خلاف ایک سال کی پابندی عائد کی گئی ہے۔ انہوں نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

انضمام کا کہنا تھا کہ آصف اور شعیب کی عالمی کپ میں شرکت مشکوک ہے

انضمام نے اشارہ دیا کہ اگر دونوں کھلاڑوں کو دی گئی سزا کی معیاد کم بھی کردی گئی تو بھی اگلے سال مارچ میں ہونے والے کرکٹ کے عالمی کپ میں ان دونوں کھلاڑیوں کی شرکت مشکوک ہے۔

بگ سٹار کرکٹ ڈاٹ کام نامی ویب سائٹ پر اپنے کالم میں انضمام الحق نے کہا کہ کھلاڑیوں کے ٹیسٹوں کے مثبت ہونے کی وجہ پاکستان میں ڈوپنگ کے ایشوز پر معلومات نہ ہونے کے برابر ہیں اور یہ بہت ہی مشکل بات ہے کہ پاکستان میں اس قسم کے اشیوز کو سمجھا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں ممنوعہ ادویات کے استعمال کے بارے میں کوئی شعور نہیں ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہی وجہ ہے کہ دونوں کھلاڑیوں نے ممنوعہ ادویات استعمال کیں۔ آصف نے تو خاص طور پر ڈوپنگ پر دیے جانے والے کسی لیکچر میں بھی شرکت نہیں کی ہے‘۔

انضمام کا کہنا تھا کہ ’ویسٹ انڈیز کے خلاف شروع ہونے والی سیریز سے قبل دونوں کھلاڑیوں پر لگائے جانے والی یہ پابندی پاکستان ٹیم کے لیئے ایک بہت بڑا نقصان ہے‘۔ پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان سیریز اس ہفتے شروع ہو رہی ہے جبکہ پاکستان اگلے سال جنوبی افریقہ کا دورہ بھی کرے گا۔

کھلاڑیوں کے ٹیسٹوں کے مثبت ہونے کی وجہ پاکستان میں ڈوپنگ کے ایشوز پر معلومات نہ ہونے کے برابر ہیں
انضمام الحق

انضمام کا کہنا تھا’یہ دونوں اہم بالر ہیں تاہم ان دونوں کی غیر حاضری کے باوجود ہم جیتنے کی نیت سے ہی میدان میں اتریں گے خاص طور پر ورلڈ کپ میں‘۔

’ٹیسٹ میچوں میں کامیابی کے لیئے ٹیم کو صف اول کے بالروں کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ وکٹیں لینے میں کامیابی حاصل کر سکیں۔ اب بالنگ کے میدان میں ہمیں شدید مشکلات کا سامنا ہے‘۔

انضمام کا کہنا تھا کہ اس وقت ٹیم کے پاس صف اول کے دو ہی بالرز ہیں جن میں دانش کنیریا اور عمر گل شامل ہیں جبکہ محمد سمیع میں اعتماد کی کمی کے باوجود ایک فاسٹ بالر کی تمام خصوصیات موجود ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد