BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 01 March, 2007, 13:56 GMT 18:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فٹنس یا ڈوپنگ، حقیقت کیا ہے؟

شعیب اور آصف کی جانب کرکٹ بورڈ کی پالیسی واضح کیوں نہیں رہی؟
ایک باب بند ہوا یا ایک نئی کہانی شروع ہوئی، اس کا فیصلہ تو وقت کرے گا لیکن فی الحال پاکستانی کرکٹ ٹیم انتہائی مشکلات میں گھری ہوئی ہے۔ ورلڈ کپ کے لئے اس کے بلند ارادوں کو فٹنس اور ڈوپنگ کے مسائل نے بری طرح جھنجھوڑ دیا ہے۔

آل راؤنڈر عبدالرزاق کے بعد فاسٹ بولرز شعیب اختر اور محمد آصف بھی ٹیم سے باہر ہوگئے ہیں۔

شعیب اختر اور محمد آصف کی ٹیم میں شمولیت کا آخری وقت تک انتظار کرنے کے بارے میں سوچنے والے پاکستان کرکٹ بورڈ نے یہ اندازہ لگالیا کہ وقت کی رفتار شعیب اختر کی گیندوں سے زیادہ تیز ہے اور محمد آصف بھی وقت کو پیچھے نہیں چھوڑ سکیں گے۔ لہذا ان دونوں کو پیچھے چھوڑ کر ٹیم ویسٹ انڈیز روانہ ہوگئی ہے۔

کئی روز سے جاری بے یقینی کی صورتحال مایوسی کے عالم میں ختم ہوئی ہے۔ ٹیم منیجمنٹ کو کم از کم اب یہ پتہ چل گیا ہے کہ ان کو ورلڈ کپ دونوں فاسٹ بولرز کے بغیر کھیلنا ہے۔

انضمام کا بیان ریکارڈ پر
 انضمام الحق کا یہ بیان بھی ریکارڈ پر موجود ہے کہ دونوں بولرز جسمانی طور پر فٹ ہیں تو پھر اچانک آخری لمحات میں جسمانی طور پر یہ فٹ بولرز ان فٹ کیسے ہوگئے؟
اگر یہ صورتحال بہت پہلے پتہ چل جاتی تو کپتان انضمام الحق اور کوچ باب وولمر کو حکمت عملی وضع کرنے میں آسانی رہتی جو ماضی میں شعیب اور محمد آصف کے بغیر بھی اچھی کارکردگی کے عزائم بیان کرتے آئے ہیں لیکن اس مرتبہ انتہائی اہمیت کے حامل اس مقابلے کے لئے دونوں بولرز کے فٹ ہونے کی امید لگائے بیٹھے تھے۔

حریف ٹیموں نے بھی یقیناً اطمینان کا سانس لیا ہوگا کہ انہیں ترکش کے جن مہلک تیروں کا سامنا کرنا ہوگا ان پر شعیب اختر اور محمد آصف کے نام درج نہیں ہونگے۔

شعیب اختر اور محمد آصف کے ’آؤٹ‘ ہونے کے بارے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف کو پریس کانفرنس میں یہ بات واضح کرنی پڑی ہے کہ اس معاملے کا تعلق دونوں کی فٹنس سے ہے، کسی خفیہ ڈوپ ٹیسٹ سے نہیں۔

وجہ یہ ہے کہ جب سے دونوں ورلڈ کپ اسکواڈ میں فٹنس سے مشروط شامل کیے گئے یہ سوال اپنی جگہ اہم رہا کہ یہ دونوں ڈوپ ٹیسٹ میں کلیئر ہوسکیں گے کیونکہ گزشتہ سال چیمپئنز ٹرافی سے قبل مثبت ڈوپ ٹیسٹ کے سبب انہیں ٹیم سے دستبردار کرالیا گیا تھا اور یہ بات سب کے علم میں تھی کہ دوسری مرتبہ ڈوپ ٹیسٹ مثبت ہونے کی صورت میں انہیں تاحیات پابندی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

کیا تاحات پابندی کا خطرہ تھا؟
 جب سے دونوں ورلڈ کپ اسکواڈ میں فٹنس سے مشروط شامل کیے گئے یہ سوال اپنی جگہ اہم رہا کہ یہ دونوں ڈوپ ٹیسٹ میں کلیئر ہوسکیں گے کیونکہ گزشتہ سال چیمپئنز ٹرافی سے قبل مثبت ڈوپ ٹیسٹ کے سبب انہیں ٹیم سے دستبردار کرالیا گیا تھا اور یہ بات سب کے علم میں تھی کہ دوسری مرتبہ ڈوپ ٹیسٹ مثبت ہونے کی صورت میں انہیں تاحیات پابندی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اس طرح کی خبریں بھی میڈیا میں آتی رہیں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان دونوں کو خفیہ ڈوپ ٹیسٹ کے لئے لندن بھیجا تھا ان مبینہ ڈوپ ٹیسٹ میں بدستور نینڈرلون کی مقدار کی موجودگی کا پتہ چلا تھا اور جب پاکستان کرکٹ بورڈ کو یہ اندازہ ہوگیا کہ عالمی کپ میں دونوں بولرز آئی سی سی اور واڈا کے ہدف یعنی ٹارگیٹ ڈوپنگ پر ہونگے تو اس نے دونوں بولرز کو ورلڈ کپ اسکواڈ سے دستبردار کرالیا۔

شعیب اختر اور محمد آصف کے بارے میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے دعوی کیا تھا کہ قومی کیمپ میں آتے ہی ان کے ڈوپ ٹیسٹ کے لئے یورین سمپلز حاصل کرلئے جائیں گے لیکن ایسا نہ ہوسکا اور دونوں بولرز برائے نام کیمپ میں آکر لندن چلے گئے۔

مبصرین اور عام شائقین کا کہنا ہے کہ ماضی میں مکمل فٹ نہ ہونے کے باوجود کئی مرتبہ کھلاڑیوں کو ٹیم میں رکھا گیا ہے اور حالیہ جنوبی افریقی دورے میں تو ان فٹ کھلاڑی تواتر کے ساتھ ٹیم کے ساتھ گئے اور واپس آئے تو پھر ورلڈ کپ جیسے اہم مقابلے کے لئے رسک کیوں نہیں لیا گیا؟ جبکہ انضمام الحق کا یہ بیان بھی ریکارڈ پر موجود ہے کہ دونوں بولرز جسمانی طور پر فٹ ہیں تو پھر اچانک آخری لمحات میں جسمانی طور پر یہ فٹ بولرز ان فٹ کیسے ہوگئے؟

یہاں یہ سوال بھی سامنے آیا ہے کہ جب شعیب اختر اور محمد آصف کے ساتھ یہی کچھ ہونا تھا تو پھر انہیں پابندی کے بعد اپیل ٹریبونل سے کلیئر کیوں کرایا گیا جس پر پاکستان کرکٹ بورڈ کو دنیا بھر کی تنقید اور واڈا کے چیلنج کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

شعیب اختر اور محمد آصف کا ورلڈ کپ خواب تو بکھر گیا لیکن اس کے بعد کیا ہوگا؟ کیا دونوں کی واپسی کے لئے پاکستان کرکٹ بورڈ اس وقت کا انتظار کرے گا جب ان کے جسم سے ممنوعہ دوا کی موجودگی ختم ہونے کا مکمل یقین ہوجائے گا۔

پرسی سون’ڈوپنگ ڈرامہ‘
آئی سی سی کے صدر کی پاکستان پر تنقید
انضمام الحق’یہ دونوں اپیل کریں،
انضمام الحق کا شعیب اور آصف کو مشورہ
شعیب اور آصفپاکستانی اخبارات:
’راولپنڈی ایکسپریس پٹڑی سے اترگئی‘
شعیبانضمام کہتے ہیں:
شعیب سے اختلافات نہیں، مسئلہ فسٹنس ہے
شعیب اختر’شعیب کا مستقبل‘
کیا ہوگا کیا نہیں ہوگا؟ سینئر کھلاڑیوں کی رائے
شعیب اختربورڈ کی مشکل
شیعب اختر، محمد آصف بورڈ کی پریشانی بن گئے
شعیب اخترورلڈ کپ کھیلو گے؟
گھٹنے کی وجہ سے امکان فِفٹی فِفٹی ہے، شعیب
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد