BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 07 December, 2006, 00:40 GMT 05:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آئی سی سی کی پاکستان پر تنقید
پرسی سون
کرکٹ میں ڈوپنگ کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے فاسٹ بالرز شعیب اختر اور محمد آصف پر لگے ’ڈوپنگ‘ کے الزام سے نمٹنے کے طریقہ کار کے حوالے سے پاکستان پر تنقید کی ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی طرف سے تشکیل دیئے گئے ایک تین رکنی اپیلٹ بورڈ نے کارکردگی بڑھانے کی ایک ممنوعہ دوا استعمال کرنے کے جرم میں دونوں کھلاڑیوں پر لگی پابندی کو اکثریت رائے سے ختم کرنے کا فیصلہ سنایا ہے۔

جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے آئی سی سی کے صدر پرسی سون کا کہنا ہے کہ اپیلٹ کمیٹی کے فیصلے سے پاکستان میں ڈوپنگ کی روک تھام کے طریقہ کار میں پائی جانے والی بے قاعدگیاں نمایاں ہوئی ہیں۔

اپیلٹ کمیٹی کے ایک رکن ڈاکٹر دانش ظہیر نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ دوبارہ کھیلنے کی اجازت دینے سے پہلے دونوں کھلاڑیوں کا ایک مرتبہ پھر ڈوپنگ ٹیسٹ ہونا چاہیے۔ (کمیٹی کے ارکان میں ڈاکٹر ظہیر ڈوپنگ معاملات کے واحد ماہر تھے)۔

شعیب اختر پر دو سال جبکہ محمد آصف پر ایک سال کی پابندی لگائی گئی تھی۔ دونوں فاسٹ بالرز نے کھیلنے پر لگی پابندی کے خلاف اپیل میں موقف اختیار کیا تھا کہ انہوں نے ممنوعہ دوا ’نیندرولون‘ جان بوجھ کر استعمال نہیں کی تھی۔ اپیلٹ کمیٹی نے دونوں کھلاڑیوں کے اس موقف کو تسلیم کیا۔

شعیب اور آصف
اپیلٹ کمیٹی نے اکثریت رائے سے دونوں کھلاڑیوں پر لگی پابندی ختم کرنے کا فیصلہ کیا

بدھ کو جاری کیے گئے ایک بیان میں اپیلٹ کمیٹی کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے پرسی سون کا کہنا تھا ’کرکٹ میں ڈوپنگ کے مسئلے سے نمٹنے کے حوالے سے مناسب اقدامات کیے گئے ہیں، لیکن اس (فیصلے) سے ثابت ہوا ہے کہ ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے‘۔

آئی سی سی کے صدر کے مطابق کھیل کو ممنوعہ ادویات سے پاک کرنے کے لیے کھلاڑیوں کو آگاہی دینے اور اس حوالے سے (کرکٹ کونسل کے) رکن ممالک کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات میں مطابقت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

پرسی سون نے اپنے بیان میں زور دے کر کہا ’کرکٹ کھیلنے والے ممالک کو ڈوپنگ کے خلاف اپنے قوانین آئی سی سی اور ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی کے ضوابط کے مطابق ترتیب دینے چاہیں‘۔

ادھر ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی کے ترجمان فریڈوک ڈونزے نے اپنے بیان میں اپیلٹ کمیٹی کے فیصلے کو نامناسب قرار دیا ہے۔

سابق پاکستانی کھلاڑی رمیض راجہ کا بھی کہنا ہے کہ دنیا اس سارے عمل کو ’دھوکہ‘ کہے گی۔ سابق کپتان مشتاق محمد نے اسے ’ڈوپنگ ڈرامہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سارے قضیے میں پاکستان نے اپنا مذاق ہی اڑوایا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد