اپیلٹ کمیٹی کی کاروائی شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فاسٹ بالرز شعیب اختر اور محمد آصف پر ’ڈوپنگ‘ کے الزام کے تحت لگنے والی پابندی کے خلاف دونوں کھلاڑیوں کی اپیل سننے کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ کی طرف سے تشکیل دی گئی کمیٹی کا پیر کو باقاعدہ اجلاس ہوا ہے۔ تین رکنی اپیلٹ کمیٹی کا اجلاس لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں منعقد ہوا، جو صبح گیارہ بجے سے شروع ہو کر شام ساڑھے چار بجے تک جاری رہنے کے بعد مزید کاروائی کے لیے اگلے روز تک ملتوی کر دیا گیا۔ اجلاس کے بعد کمیٹی کے چیئرمین اور سندھ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس فخر الدین جی ابراہیم نے صحافیوں کو بتایا کہ پیر کو محمد آصف کے وکیل آفتاب گل نے اپنے دلائل پیش کیے اور اب منگل کو شعیب اختر کے وکیل عابد حسن منٹو اپنے دلائل دیں گے۔ فخر الدین جی ابراہیم نے کہا کہ اس اپیل پر جلد فیصلہ کرنا مشکل ہے ’کیونکہ ابھی تو باقاعدہ کام شروع ہوا ہے اور بہت سا ریکارڈ ہے جسے کھنگالنا ہے‘۔ انہوں نے بتایا کہ پی سی بی نے اس معاملے پر ایک غیر ملکی وکیل کی خدمات حاصل کیں تھیں جو اپنی رپورٹ دے کر واپس جا چکے ہیں، اب اس رپورٹ کو پڑھ کر شعیب اور آصف کے وکیل اپنا اپنا جواب دائر کریں گے اور ہو سکتا ہے کہ بورڈ کے وکیل بھی اس کا جواب دیں۔ انہوں نے کہا ’اس لیے یہ کافی طویل کاروائی ہوگی، لیکن اسے جلد نمٹانے کی کوشش کی جائے گی‘۔ اپیلٹ کمیٹی کے ایک رکن سابق کرکٹر حسیب احسن کے اس بیان پر کہ اینٹی ڈوپنگ کمیشن نے ورلڈ ڈوپنگ ایجنسی کے قوانین پرمکمل عمل نہیں کیا اور پی سی بی کے ڈاکٹر سہیل سلیم نے پیشاب کے نمونے لیتے ہوئے بھی قوائد و ضوابط کا خیال نہیں رکھا، فخر الدین جی ابراہیم کا کہنا تھا ’اس بیان سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن انہیں ایسا بیان نہیں دینا چاہیے تھا‘۔ | اسی بارے میں شعیب پر دو آصف پر ایک سال01 November, 2006 | کھیل ڈوپنگ کمیٹی کی تشکیل مکمل 20 October, 2006 | کھیل قومی مفاد کا خیال کریں: توقیر ضیاء03 November, 2006 | کھیل آصف نے اپیل کر دی06 November, 2006 | کھیل شعیب اختر نے اپیل دائر کر دی08 November, 2006 | کھیل ڈوپنگ اپیلیں، سماعت ملتوی16 November, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||