وجہ اختلافات نہیں فٹنس ہے، انضمام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کرکٹ ٹیم ورلڈ کپ سے قبل سب سے بڑے امتحان کا سامنا کرنے جنوبی افریقہ روانہ ہوگئی جہاں وہ تین ٹیسٹ اور پانچ ون ڈے انٹرنیشنل کھیلے گی۔ پاکستانی ٹیم میں فاسٹ بولر شعیب اختر کو شامل نہ کیے جانے پر سابق ٹیسٹ کرکٹرز عمران خان اور سرفرازنواز نے تنقید کی ہے۔ ان دونوں کا خیال ہے کہ شعیب اختر کو ٹیم میں شامل ہونا چاہیے تھا ۔ شعیب اختر کا ٹیم میں شامل نہ ہونا ہمیشہ سے اہم معاملہ بن کر سامنے آتا ہے اور میڈیا اسے کپتان انضمام الحق کی پسند یا ناپسند کے تناظر میں دیکھنا شروع کردیتا ہے لیکن کپتان انضمام الحق اس کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔ انضمام الحق نے ٹیم کی روانگی سے پہلے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دورۂ جنوبی افریقہ کے لیے شعیب اختر کو ٹیم میں شامل نہ کیے جانے کی صرف اور صرف ایک وجہ ہے اور وہ ان کی فٹنس ہے۔ انضمام الحق جن کی قیادت میں پاکستانی ٹیم نے28 میں سے10 ٹیسٹ میچز جیتے ہیں کہتے ہیں کہ اگر شعیب اختر ٹیم میں شامل ہوتے تو یقیناً ٹیم کو اس کا فائدہ ہوتا لیکن وہ یہ سمجھتے ہیں کہ کھلاڑی کو مکمل فٹ ہونا چاہے۔ شعیب اختر نے پچھلے نو ماہ کے دوران صرف تین چار میچز کھیلے ہیں اسی لیے سلیکٹرز نے انہیں ٹیم میں شامل نہیں کیا۔ سب کا یہی خیال تھا کہ وہ تین چار فرسٹ کلاس میچز کھیل کر میچ فٹنس اور ردھم میں آجائیں جس کے بعد یقیناً ان کے سلیکشن پر بات ہوگی۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال جنوری میں بھارت کے خلاف کراچی ٹیسٹ کے بعد سے اب تک شعیب اختر کوئی ٹیسٹ نہیں کھیل سکے ہیں جبکہ گزشتہ ستمبر میں انگلینڈ کے خلاف ٹرینٹ برج کے ون ڈے کے بعد سے وہ کوئی ون ڈے انٹرنیشنل بھی نہیں کھیل پائے ہیں۔ انضمام الحق کا کہنا ہے کہ محمد آصف کی شمولیت سے بولنگ اٹیک مضبوط ہوا ہے لیکن وہ اسے بولنگ سے زیادہ بیٹسمینوں کا سخت امتحان سمجھتے ہیں تاہم انضمام کو یقین ہے کہ بیٹسمین ذمہ داری کا مظاہرہ کرینگےاور انہیں بیٹنگ لائن پر بھروسہ ہے کیونکہ اوپنرز نے بھی آخری سیریز میں عمدہ کارکردگی دکھائی ہے۔ پاکستانی کپتان اس تاثر سے اتفاق نہیں کرتے کہ ورلڈ کپ سے قبل جنوبی افریقہ کے اہم دورے میں خراب کارکردگی سے ٹیم کا مورال ورلڈ کپ میں گرجائے گا۔ انضمام الحق کے مطابق اس سوچ کے ساتھ آج کے دور میں کرکٹ نہیں کھیلی جاسکتی۔ کامیابی اگلی سیریز میں بھی جیت کی ضمانت نہیں ہوتی اور شکست کا مطلب اگلی سیریز یا مقابلے میں بھی ناکامی نہیں ہوتا۔ پاکستانی ٹیم چھ جنوری کو کمبرلی میں سہ روزہ میچ سے دورے کا آغاز کرے گی۔ تین ٹیسٹ میچوں کا پہلا ٹیسٹ گیارہ جنوری سے سنچورین میں کھیلا جائے گا۔ |
اسی بارے میں جنوبی افریقہ کے لیے ٹیم کا اعلان29 December, 2006 | کھیل شعیب اختر: تنازعوں تا ڈوپنگ 16 October, 2006 | کھیل ’شعیب شاید واپس نہ آسکیں‘07 November, 2006 | کھیل شعیب اوول ٹیسٹ سے باہر16 August, 2006 | کھیل ’تین ہفتوں میں فٹ ہو جاؤں گا‘16 March, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||