جنوبی افریقہ کے لیے ٹیم کا اعلان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی فاسٹ بالر اور ممنوعہ ادویات کے الزام سے حال ہی میں بری ہونے والے شعیب اختر دورۂ جنوبی افریقہ کے لیے سترہ رکنی پاکستانی ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ شعیب اختر کو ڈوپنگ کیس میں واڈا کی اپیل کا سامنا ہے اور ان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انہیں میچ فٹنس نہ ہونے کی وجہ سے ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا۔ سلیکٹرز نے شعیب اختر پر محمد سمیع کو ترجیح دی ہے جنہوں نے انگلینڈ کے دورے میں تین ٹیسٹ کھیلے تھے لیکن 25ء58 کی بھاری اوسط سے صرف 8 وکٹیں حاصل کر پائے تھے۔ شعیب اختر کے ساتھ ڈوپنگ کیس میں پابند اور پھر بری ہونے والے فاسٹ بالر محمد آصف کو ٹیم میں شامل کر لیا گیا ہے البتہ مشکوک بولنگ ایکشن کی وجہ سے ایک سالہ پابندی مکمل کرنے والے فاسٹ بولر شبیراحمد کی بھی واپسی نہیں ہوسکی ہے۔ مڈل آرڈر بیٹسمین عاصم کمال ایک بار پھر سلیکٹرز کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ بارہ ٹیسٹ میچوں میں آٹھ نصف سنچریوں کی مدد سےسات سو سترہ رن بنانے والے عاصم کمال گزشتہ سال انگلینڈ کے خلاف لاہور ٹیسٹ کے بعد سے ٹیم سے باہر تھے۔ فاسٹ بولنگ کے شعبے کو رانا نویدالحسن، عمرگل، محمد آصف، محمد سمیع اور شاہد نذیر سے مضبوط کیا گیا ہے جبکہ اسپن بولنگ میں دانش کنیریا تنہا ذمہ داری نبھائیں گے۔
دورہ طویل ہونے کی وجہ سے ٹیم میں کامران اکمل کے ساتھ دوسرے وکٹ کیپر کے طور پر لاہور سے تعلق رکھنے والے بیس سالہ ذوالقرنین حیدر کو شامل کیا گیا ہے۔ ٹیسٹ سیریز کے لیے اعلان کردہ سترہ رکنی ٹیم ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے۔ انضمام الحق( کپتان) عمران فرحت۔ محمد حفیظ۔ یاسرحمید۔ یونس خان۔ محمد یوسف۔شعیب ملک۔ کامران اکمل۔عاصم کمال۔ فیصل اقبال۔ محمد آصف۔ رانا نوید الحسن۔ شاہد نذیر۔ محمد سمیع۔ عمرگل۔ دانش کنیریا اور ذوالقرنین حیدر۔ جنوبی افریقہ میں پاکستانی ٹیم تین ٹیسٹ اور پانچ ون ڈے انٹرنیشنل میچز کھیلے گی۔ | اسی بارے میں کمزور حریف نہیں ہیں: انضمام18 December, 2006 | کھیل جوہانسبرگ: بھارت کی تاریخی فتح18 December, 2006 | کھیل ’شعیب شاید واپس نہ آسکیں‘07 November, 2006 | کھیل آئی سی سی نے شبیرکو کلیئر کردیا 21 December, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||