کمزور حریف نہیں ہیں: انضمام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق پرعزم ہیں کہ جنوبی افریقہ کے دورے کے دوران پاکستانی ٹیم کمزور حریف ثابت نہیں ہوگی۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم جنوری میں جنوبی افریقہ کا دورہ کرے گی جس میں وہ تین ٹیسٹ اور پانچ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں کے علاوہ ٹوئنٹی ٹوئنٹی کا میچ بھی کھیلے گی۔ جنوبی افریقہ میں ہونے والی اس سیریز کو پاکستانی ٹیم کے لیے ایک سخت امتحان قرار دیا جارہا ہے۔ اچھی کارکردگی کے لیے ٹیم اپنے تینوں تجربہ کار بیٹسمینوں انضمام الحق، محمد یوسف اور یونس خان پر نظریں لگائے ہوئی ہے تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ جنوبی افریقہ میں ان تینوں کا ریکارڈ متاثر کن نہیں ہے۔ انضمام الحق نے جنوبی افریقہ میں پانچ ٹیسٹ میچوں میں دو نصف سنچریاں بنائی ہیں۔ محمد یوسف کی تین ٹیسٹ میچوں میں ایک نصف سنچری ہے جبکہ یونس خان دو ٹیسٹ میچوں میں کوئی نصف سنچری نہیں بناسکے ہیں۔ انضمام الحق یہ تسلیم کرتے ہیں کہ یہ سیریز صحیح معنوں میں ایک امتحان ہے۔ جنوبی افریقہ میں کھیل کی صورت مختلف اور سخت ہوگی لیکن وہ یہ ماننے کے لیے بالکل تیار نہیں کہ پاکستانی ٹیم میزبان ٹیم کے لیے آسان حریف ثابت ہوگی۔ انضمام الحق کا کہنا ہے کہ وہ سیریز بہ سیریز اپنی توجہ مرکوز رکھتے ہیں اور جنوبی افریقی ٹور اس وقت ان کی اولین ترجیح ہے۔ انہیں اپنے کھلاڑیوں کی صلاحیتوں پر اعتماد ہے۔ مشکل حالات میں اچھی کارکردگی سے کھلاڑی کا اعتماد بڑھتا ہے اور ان کی ٹیم اس چیلنج کے لیے تیار ہے۔ انضمام الحق کو جنوبی افریقہ میں اپنی پیس بیٹری سے بڑی توقعات وابستہ ہیں ان کا کہنا ہے کہ فٹ ہوکر شعیب اختر اور محمد آصف کے ٹیم میں واپس آنے سے پاکستانی بولنگ مضبوط ہوگی۔ اگر پاکستانی ٹیم کو ویسی ہی وکٹیں ملتی ہیں جو بھارت کے خلاف سیریز میں بنائی گئی ہیں تو انہیں یقین ہے کہ پاکستانی ٹیم اس تاثر کو غلط ثابت کرے گی جو سیریز کے یکطرفہ ہونے کے بارے میں قائم کیا جارہا ہے۔ پاکستان نے جنوبی افریقہ میں چھ ٹیسٹ کھیلے ہیں جن میں سے ایک جیتا ہے چار میں اسے شکست ہوئی ہے جبکہ ایک ڈرا ہوا ہے۔ دورہ جنوبی افریقہ: ناموں کا اعلان جنوبی افریقہ کے دورے کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ کی سلیکشن کمیٹی نے پچیس کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان کردیا ہے جو چھبیس دسمبر سے لاہور میں شروع ہونے والے قومی کیمپ میں شریک ہوں گے۔ ان کرکٹرز میں فاسٹ بولرز شعیب اختر، محمد آصف اور شبیراحمد بھی شامل ہیں۔
شعیب اختر اور محمد آصف ممنوعہ ادویات کے استعمال کے ضمن میں اینٹی ڈوپنگ اپیل کمیٹی سے کلیئر ہونے کے بعد فرسٹ کلاس میچ کھیلے ہیں جبکہ شبیراحمد مشکوک بولنگ ایکشن پر ایک سالہ پابندی پوری کرکے فرسٹ کلاس کرکٹ میں واپس آئے ہیں اور پاکستان کرکٹ بورڈ کو یقین ہے کہ آئی سی سی شبیراحمد کو بائیومکینک ماہرین کی رپورٹ کی روشنی میں انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی کی اجازت دے دے گی۔ میڈیم فاسٹ بولر سمیع اللہ نیازی جو انگلینڈ کے دورے میں پاکستانی ٹیم میں شامل کیے گئے تھے، سلیکٹرز کا اعتماد برقرار نہیں رکھ سکے ہیں۔ قومی کیمپ میں بلائے جانے والے کھلاڑیوں میں وکٹ کیپر ذوالقرنین بھی شامل ہیں۔ سلیکٹرز کا خیال ہے کہ جنوبی افریقہ کے طویل دورے میں دو وکٹ کیپرز کا ہونا ضروری ہے۔ کامران اکمل کی حالیہ میچوں میں غیرتسلی بخش کارکردگی کے بعد دوسرے وکٹ کیپر کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ قومی کیمپ میں بلائے گئے پچیس کرکٹرز میں انضمام الحق، محمد حفیظ، عمران فرحت، یونس خان، محمد یوسف، شعیب ملک، کامران اکمل، عبدالرزاق، عمرگل، دانش کنیریا، رانانویدالحسن، راؤ افتخار، عبدالرحمن، فیصل اقبال، یاسرحمید، محمد سمیع، شاہد نذیر، شعیب اختر، محمد آصف، ذوالقرنین، سلمان بٹ، شاہد آفریدی، عاصم کمال، یاسرعرفات اور شبیراحمد شامل ہیں۔ | اسی بارے میں انضمام سے معاہدہ 06 تک ہے:اشرف09 October, 2006 | کھیل دل چاہتا ہے کھیلتا ہی رہوں: انضمام10 November, 2006 | کھیل ورلڈ کپ میں بھی انضمام کپتان17 December, 2006 | کھیل انضمام اور یوسف کی ٹیم میں واپسی15 December, 2006 | کھیل ٹیم انضمام، یوسف، یونس کے بغیر11 December, 2006 | کھیل انضمام :’ ڈرا سے اعتماد ملا ہے‘23 November, 2006 | کھیل انتظامیہ انضمام سے خوش نہیں: ظہیر09 October, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||