BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 18 December, 2006, 14:02 GMT 19:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کمزور حریف نہیں ہیں: انضمام

انضمام نے جنوبی افریقہ میں پانچ ٹیسٹ میچوں میں دو نصف سنچریاں بنائی ہیں (فائل فوٹو)
پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق پرعزم ہیں کہ جنوبی افریقہ کے دورے کے دوران پاکستانی ٹیم کمزور حریف ثابت نہیں ہوگی۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم جنوری میں جنوبی افریقہ کا دورہ کرے گی جس میں وہ تین ٹیسٹ اور پانچ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں کے علاوہ ٹوئنٹی ٹوئنٹی کا میچ بھی کھیلے گی۔

جنوبی افریقہ میں ہونے والی اس سیریز کو پاکستانی ٹیم کے لیے ایک سخت امتحان قرار دیا جارہا ہے۔ اچھی کارکردگی کے لیے ٹیم اپنے تینوں تجربہ کار بیٹسمینوں انضمام الحق، محمد یوسف اور یونس خان پر نظریں لگائے ہوئی ہے تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ جنوبی افریقہ میں ان تینوں کا ریکارڈ متاثر کن نہیں ہے۔

انضمام الحق نے جنوبی افریقہ میں پانچ ٹیسٹ میچوں میں دو نصف سنچریاں بنائی ہیں۔ محمد یوسف کی تین ٹیسٹ میچوں میں ایک نصف سنچری ہے جبکہ یونس خان دو ٹیسٹ میچوں میں کوئی نصف سنچری نہیں بناسکے ہیں۔

انضمام الحق یہ تسلیم کرتے ہیں کہ یہ سیریز صحیح معنوں میں ایک امتحان ہے۔ جنوبی افریقہ میں کھیل کی صورت مختلف اور سخت ہوگی لیکن وہ یہ ماننے کے لیے بالکل تیار نہیں کہ پاکستانی ٹیم میزبان ٹیم کے لیے آسان حریف ثابت ہوگی۔

انضمام الحق کا کہنا ہے کہ وہ سیریز بہ سیریز اپنی توجہ مرکوز رکھتے ہیں اور جنوبی افریقی ٹور اس وقت ان کی اولین ترجیح ہے۔ انہیں اپنے کھلاڑیوں کی صلاحیتوں پر اعتماد ہے۔ مشکل حالات میں اچھی کارکردگی سے کھلاڑی کا اعتماد بڑھتا ہے اور ان کی ٹیم اس چیلنج کے لیے تیار ہے۔

انضمام الحق کو جنوبی افریقہ میں اپنی پیس بیٹری سے بڑی توقعات وابستہ ہیں ان کا کہنا ہے کہ فٹ ہوکر شعیب اختر اور محمد آصف کے ٹیم میں واپس آنے سے پاکستانی بولنگ مضبوط ہوگی۔ اگر پاکستانی ٹیم کو ویسی ہی وکٹیں ملتی ہیں جو بھارت کے خلاف سیریز میں بنائی گئی ہیں تو انہیں یقین ہے کہ پاکستانی ٹیم اس تاثر کو غلط ثابت کرے گی جو سیریز کے یکطرفہ ہونے کے بارے میں قائم کیا جارہا ہے۔

پاکستان نے جنوبی افریقہ میں چھ ٹیسٹ کھیلے ہیں جن میں سے ایک جیتا ہے چار میں اسے شکست ہوئی ہے جبکہ ایک ڈرا ہوا ہے۔

دورہ جنوبی افریقہ: ناموں کا اعلان

جنوبی افریقہ کے دورے کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ کی سلیکشن کمیٹی نے پچیس کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان کردیا ہے جو چھبیس دسمبر سے لاہور میں شروع ہونے والے قومی کیمپ میں شریک ہوں گے۔ ان کرکٹرز میں فاسٹ بولرز شعیب اختر، محمد آصف اور شبیراحمد بھی شامل ہیں۔

دورہ جنوبی افریقہ
اعلان کردہ کھلاڑیوں میں انضمام الحق، محمد حفیظ، عمران فرحت، یونس خان، محمد یوسف، شعیب ملک، کامران اکمل، عبدالرزاق، عمرگل، دانش کنیریا، رانانویدالحسن، راؤ افتخار، عبدالرحمن، فیصل اقبال، یاسرحمید، محمد سمیع، شاہد نذیر، شعیب اختر، محمد آصف، ذوالقرنین، سلمان بٹ، شاہد آفریدی، عاصم کمال، یاسرعرفات اور شبیراحمد شامل ہیں

شعیب اختر اور محمد آصف ممنوعہ ادویات کے استعمال کے ضمن میں اینٹی ڈوپنگ اپیل کمیٹی سے کلیئر ہونے کے بعد فرسٹ کلاس میچ کھیلے ہیں جبکہ شبیراحمد مشکوک بولنگ ایکشن پر ایک سالہ پابندی پوری کرکے فرسٹ کلاس کرکٹ میں واپس آئے ہیں اور پاکستان کرکٹ بورڈ کو یقین ہے کہ آئی سی سی شبیراحمد کو بائیومکینک ماہرین کی رپورٹ کی روشنی میں انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی کی اجازت دے دے گی۔

میڈیم فاسٹ بولر سمیع اللہ نیازی جو انگلینڈ کے دورے میں پاکستانی ٹیم میں شامل کیے گئے تھے، سلیکٹرز کا اعتماد برقرار نہیں رکھ سکے ہیں۔

قومی کیمپ میں بلائے جانے والے کھلاڑیوں میں وکٹ کیپر ذوالقرنین بھی شامل ہیں۔ سلیکٹرز کا خیال ہے کہ جنوبی افریقہ کے طویل دورے میں دو وکٹ کیپرز کا ہونا ضروری ہے۔ کامران اکمل کی حالیہ میچوں میں غیرتسلی بخش کارکردگی کے بعد دوسرے وکٹ کیپر کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔

قومی کیمپ میں بلائے گئے پچیس کرکٹرز میں انضمام الحق، محمد حفیظ، عمران فرحت، یونس خان، محمد یوسف، شعیب ملک، کامران اکمل، عبدالرزاق، عمرگل، دانش کنیریا، رانانویدالحسن، راؤ افتخار، عبدالرحمن، فیصل اقبال، یاسرحمید، محمد سمیع، شاہد نذیر، شعیب اختر، محمد آصف، ذوالقرنین، سلمان بٹ، شاہد آفریدی، عاصم کمال، یاسرعرفات اور شبیراحمد شامل ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد