دل چاہتا ہے کھیلتا ہی رہوں: انضمام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق ویسٹ انڈیز کے چیلنج کو نمٹنے کے لئے نہ صرف تیار دکھائی دیتے ہیں بلکہ وہ اپنے مستقبل کے سلسلے میں بھی پرعزم ہیں اور انہوں نے ابھی یہ نہیں سوچا کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز ہوم گراؤنڈ پر ان کی الوداعی سیریز ہے۔ بیشتر مبصرین ان خیالات کا اظہار کر رہے ہیں کہ ممکن ہے انضمام الحق ورلڈ کپ کے بعد بین الاقوامی کرکٹ کو خیرباد کہہ دیں لیکن خود پاکستانی کپتان کی اپنے بارے میں رائے یہ ہے کہ وہ اس مرحلے پر کوئی بات یقین سے نہیں کہہ سکتے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ہر سیریز کو آخری سیریز سمجھ کر کھیلتے ہیں، لیکن ان کے ذہن میں صرف یہی ایک بات ہوتی ہے کہ بہتر سے بہتر کارکردگی دکھانے کی کوشش کریں۔ انضمام الحق کہتے ہیں کہ وہ سولہ سترہ سال سے کھیل رہے ہیں اور دل تو کرتا ہے کہ ساری زندگی کرکٹ ہی کھیلتے رہیں۔ ’اس لیے میں نہیں کہہ سکتے کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز پاکستان میں میری آخری ٹیسٹ سیریز ہوگی‘۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز انضمام الحق کے لیے اس لیے بھی بڑی اہمیت کی حامل ہے کہ ’بال ٹیمپرنگ‘ کے الزام سے بری ہونے کے باوجود پاکستان کرکٹ بورڈ کے موجودہ چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف نے اپنے ایک بیان میں انہیں اوول ٹیسٹ تنازعہ کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔ مبصرین کا خیال ہے کہ پی سی بی کے سربراہ کا بیان انضمام الحق کے لیے یقیناً بہت تکلیف دہ رہا ہوگا کیونکہ ’اوول ٹیسٹ تنازعہ‘ کے موقع پر اس وقت کے پی سی بی چیئرمین
کہا جا رہا ہے کہ اب جب کہ شہریار خان کی کوششوں کے نتیجے میں متنازعہ آسٹریلوی امپائر ڈیرل ہیئر کی برطرفی عمل میں آچکی ہے، پی سی بی کے موجودہ چیئرمین اس کا سہرا اپنے سر باندھ رہے ہیں۔ لیکن اس حقیقت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ ڈیرل ہیئر کی برطرفی نے انضمام الحق کے مؤقف کو درست ثابت کر دکھایا ہے۔ بحیثیت کپتان انضمام الحق کو ٹیم متحد کرنے کے لیے اپنی صلاحیتوں کو بھرپور انداز میں بروئے کار لانا ہوگا، کیونکہ حالیہ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی مایوس کن رہی اور تنازعات اس کا پیچھا کرتے رہے۔ حالیہ برسوں میں پاکستانی ٹیم کی مجموعی طور پر عمدہ کارکردگی میں بطور کپتان اور کھلاڑی انضمام الحق کا کردار بہت اہم رہا ہے۔ انضمام الحق کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم جب متحد ہوکر کھیلتی ہے تو اس کی کارکردگی کا معیار بہت بلند ہوجاتا ہے۔ شعیب اختر اور محمد آصف کے بارے میں پاکستانی کپتان کا کہنا ہے کہ ان دونوں کا نہ ہونا ٹیم کے لیے یقیناً نقصان دہ ہے لیکن ان کے بغیر بھی ٹیم کو کھیلنا ہے اور دستیاب کھلاڑیوں کی مدد سے ’فائٹ‘ کرنی ہے۔ | اسی بارے میں ڈاکٹر نسیم اشرف تنقید کی زد میں24 October, 2006 | کھیل جبراً نماز نہیں پڑھواتا: انضمام23 October, 2006 | کھیل انتظامیہ انضمام سے خوش نہیں: ظہیر09 October, 2006 | کھیل پاکستان کی فتح ہوئی: انضمام28 September, 2006 | کھیل انضمام، ٹیمپرنگ کے الزام سے بری28 September, 2006 | کھیل انضمام الحق کی کپتانی برقرار06 September, 2006 | کھیل ’اب تو بس اعتماد بحال کرنا ہے‘18 February, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||