ڈاکٹر نسیم اشرف تنقید کی زد میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کرکٹ ٹیم کی مذہبی سرگرمیوں سے متعلق پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف کے بیان پر مذہبی اور سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ عالم دین جاوید احمد غامدی کا کہنا ہے کہ کسی بھی چیز کے بارے میں فیصلہ اس بنیاد پر ہونا چاہیئے کہ وہ صحیح ہے یا غلط ۔ دنیا کیا تاثر لیتی ہے یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے کہ اس کو کسی درجے میں قابل اعتراض سمجھا جائے۔ ’ہم ایک آزاد قوم ہیں ہمیں اپنے نقطۂ نظر کے مطابق زندگی بسر کرنے کا حق حاصل ہے‘۔ جاوید احمد غامدی کے مطابق کرکٹرز نے جو بھی طریقے اختیار کیے ہیں ہمیں ان سے اختلاف ہوسکتا ہے یا ان کی مذہبی تعبیر کے بارے میں دو رائے ہوسکتی ہیں لیکن دوسروں کو حق حاصل نہیں کہ وہ فیصلہ کریں کہ ہمارے کرکٹرز کو کیسی زندگی گزارنی چاہیئے۔ جاوید احمد غامدی نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ اگر کرکٹرز پاکستان کرکٹ بورڈ کے قواعد وضوابط پر عمل کرتے ہیں، ڈسپلن کی خلاف ورزی نہیں کرتے، اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری بخوبی پوری کرتے ہیں اور اچھی اخلاقی زندگی بسر کرتے ہیں تو کسی کو ان کی مذہبی سرگرمیوں پر اعتراض کا حق حاصل نہیں۔ اس سوال پر کہ کیا پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کے بیان کو روشن خیالی اور بنیاد پرستی کے تناظر میں دیکھا جائے گا؟ جاوید احمد غامدی نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر جو صورتحال پیدا ہوگئی ہے اس میں جس طرح بین الاقوامی طاقتوں کے مفادات ہیں بالکل اسی طرح بعض انتہا پسند مسلمانوں کی غلطیوں کا بھی دخل ہے۔ اس سے خاص فضا بنی ہوئی ہے جس سے اس طرح کے بیانات بھی آتے ہیں اور اس طرح کے اقدامات بھی ہوتے ہیں۔ | اسی بارے میں مسلمان کھلاڑی اور قوانین میں ترمیم14 June, 2005 | کھیل حلال گوشت اور جائے نماز07 March, 2005 | کھیل انضمام حلیم اور دال چاول27 March, 2004 | کھیل کرکٹر محمد یوسف کی بات چیت14 September, 2006 | کھیل یوسف یوحنا سے محمد یوسف 17 September, 2005 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||