مسلمان کھلاڑی اور قوانین میں ترمیم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں فٹبال ایسوسی ایشن (ایف اے) نے مسلم کھلاڑیوں کے رمضان میں فٹبال کھیلنے سے انکار پر ان کی ٹیم کو لیگ میں سے نکالے جانے کے بعد اپنے قوانین میں ترمیم کی ہے۔ مانچیسٹر کی ٹیم ’ابراہم موس واریئرز‘ کے کھلاڑیوں کے صبح کے وقت ہونے والی کھیلوں میں انکار کے بعد ایف اے نے ان پر جرمانے عائد کیا تھا اور انہیں لنکاشائر لیگ سے نکال دیا گیا تھا۔ کلب کو خدشہ تھا کہ رمضان کی وجہ سے روزہ میں کھلاڑی ’ڈیہائڈریٹ‘ ہو سکتے ہیں کیوں کہ وہ افطار سے پہلے پانی نہیں پی سکتے۔ اب ایف اے نے کہا ہے کہ اگر کسی ٹیم کو مذہبی عقائد کی وجہ سے فرق پڑ رہا ہے تو اسے حق ہے کہ نہ کھیلے۔ اس سے قبل ان قوانین کا اطلاق صرف ان عیسائیوں پر ہوتا تھا جنہیں اتوار، گڈ فرائی ڈے، اور کرسمس کو کھیلنے کے لیے کہا جاتا تھا۔
واریئرز کے مینیجر جون کیلے نے کہا کہ ’یہ صرف ہماری فتح نہیں ہے بلکہ یہ پورے ملک میں سب عقیدوں سے تعلق رکھنے والوں کی فتح ہے جو فٹبال کھیلنا چاہتے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ یہ شرم کی بات ہے کہ قوانین کی ترمیم کے لیے اتنا کچھ کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ پچاس پہلے ان قوانین کی کچھ سمجھ آتی تھی جب بہت کم مسلمان تھے لیکن اب ہم ایک کثیر الاثقافتی سماج میں رہ رہے ہیں اور اب یہ بالکل متروک ہو گئے ہیں۔ مانچیسٹر کے چیتہم ہل سے تعلق رکھنے والی ٹیم کو بری اینڈ ریڈکلف جونیئر لیگ سے مارچ 2004 کو نکال دیا گیا تھا۔ اس کی انڈر 12 ٹیم نے درخواست کی تھی کہ رمضان کے مہینے کے دوران صبح کے کھیلوں کو ملتوی کر کے شام کو دیر سے شروع کیا جائے اور جمعہ کے میچوں کو بھی نماز کے بعد شروع کیا جائے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||