پاکستان، بھارت فٹبال ٹیمیں پشاور میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری فٹبال سیریز کے سلسلے میں دنوں ممالک کی ٹیمیں پیر کے روز پشاور پہنچی جہاں وہ جمعرات کو اپنا دوسرا میچ کھیلیں گی۔ پشاور پہنچنے پر صحافیوں سے بات چیت میں دنوں ٹیموں کے کپتانوں نے اگلے میچ میں زیادہ بہتر کھیل پیش کرنے کے عظم کا اظہار کیا ہے۔ تین میچوں کی اس سریز میں کوئٹہ میں پہلے مقابلے میں میچ ایک ایک گول سے برابر رہا تھا۔ پاکستان اور بھارت کی ٹیموں کا پشاور پہنچنے پر صوبائی حکام اور فٹبال ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے استقبال کیا۔ انہیں ہار پہنائے گئے اور پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں۔ بنگلور سے تعلق رکھنے والے بھارتی ٹیم کے کپتان وینکٹیش کا کہنا تھا کہ کوئٹہ کا میچ پہلا ہونے کی وجہ سے وہ زیادہ اچھا کھیل پیش نہیں کر سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیم اپنی صلاحیت کا ساٹھ فیصد کھیل بھی پیش نہیں کر سکی۔ اس کی وجہ انہوں نے پاکستان میں اسے اپنا پہلا میچ قرار دیا۔ وینکٹیش کا کہنا تھا کہ کوئٹہ کا میدان بھی کچھ زیادہ آرام دے نہیں تھا اس لیےانہیں تھوڑی بہت دقت رہی۔ تاہم انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پشاور کا میچ فلڈ لائٹس میں ہونے کی وجہ سے انہیں برتری حاصل ہوسکتی ہے۔ دوسری جانب پاکستانی ٹیم کے کپتان جعفر خان نے کوئٹہ میں کی جانے والی غلطیوں کو نہ دہرانے کا وعدہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیم کی کوشش ہوگی کہ ان سے گول کرنے کے مواقع ضائع نہ ہوں۔ ان کا بھی کہنا تھا کہ پشاور کا میچ زیادہ کانٹے دار ثابت ہوسکتا ہے۔ سرحد فٹبال ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ جمعرات کی رات قیوم سپورٹس سٹیڈیم میں فلڈ لائٹس میں کھیلے جانے والے میچ کے لیےتمام تیاریاں مکمل ہیں۔ پندرہ ہزار نشستوں کے سٹیڈیم میں شائقین کے لیےداخلہ مفت ہے۔ میدان کی تیاری کے علاوہ بھارتی ٹیم کو پشاور میں قیام کے دوران تانگوں پر شہر کی سیر کرانے کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||