یورو 2004: چھوٹی ٹیمیں چھا گئیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرانس، جرمنی، برطانیہ، اٹلی اور ہسپانیہ یورو دو ہزار چار سے باہرہو چکی ہیں۔ ٹورنامنٹ کے سیمی فائنل میں ہالینڈ کے ساتھ ان ٹیموں کی جگہ یورپی فٹبال کی چھوٹی ٹیموں نے لے لی ہے۔ یہ نہ سمجھ میں آنے والی بات نہیں۔ دو سال قبل فٹ بال کے عالمی کپ میں ارجنٹائن اور فرانس پہلے راؤنڈ میں سے باہر ہو گئے تھے اور جنوبی کوریا اور ترکی نے سیمی فائنل کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ یورو ٹورنامنٹ میں ترکی کی جگہ یونان نے لے لی ہے۔ ایک ماہر کے مطابق پہلے اگر کوئی ٹیم فِٹ ہوتی تھی اور حوصلہ دکھاتی تھی ماہرین کے مطابق یورپ کے فٹبال ٹورنامنٹ کے کوارٹر فائنل میں پہنچنے والی آٹھ ٹیموں کا اگر جائزہ لیا جائے تو اس میں ملکی سطح پر کھیلنے والے اوسط درجے کے کھلاڑی نظر آئیں گے۔ کیا بڑے کھلاڑی کلب کی سطح پر کھیلنے سے تھک چکے ہیں؟ پرتگال کے خلاف انگلستان کی مِڈ فیلڈ اور یونان کے خلاف فرانس کی ٹیم مکمل طور پر بے بس نظر آئی۔ اگر اس چیز کی وجہ سمجھنے کی کوشش کی جائے تو حیرانی کی کوئی بات نظر نہیں آئے گی جسکی ایک مثال برطانیہ کے فرینک لیمپارڈ ہیں جو صرف اس فٹبال سیزن میں ساٹھ میچ کھیل چکے ہیں۔ لیکن اٹلی اور جرمنی کی ٹیموں کے ساتھ ایسا نہیں ہے۔ ان دونوں ممالک میں کلب کی سطح پر ایک سیزن میں صرف چونتیس میچ کھیلے جاتے ہیں۔ شاید بڑے کھلاڑیوں کے لیے بین الاقوامی ٹورنامنٹوں کی اتنی اہمیت نہیں رہی۔ فٹبال کے ایک سابق کھلاڑی پیٹر شمائکل نے کہا چیک رپبلک کے کھلاڑی جب اپنے ملک کی نمائندگی کرتے ہیں تو ان کے کھیل کا معیار بلند ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ ڈینمارک کے لیے کھیلتے تھے تو انہوں نے تھکان کی کبھی پروا نہیں کی تھی۔ کہیں ایسا تو نہیں کے کھلاڑیوں کی ترجیحات میں کلب فٹبال کو بین الاقوامی مقابلوں سے زیادہ اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔ شاید، لیکن میچ ہارنے کے بعد ڈیوڈ بیکہم، تیری آنری اور راؤل کے چہروں پر نظر آنے والی مایوسی سے ایسا نہیں معلوم ہوتا۔ اور ویسے بھی یورپ میں کلب کی سطح پر کھیلی جانے والی حالیہ چیمپینشپ لیگ میں بھی چھوٹے کلبوں نے بہتر کھیل دکھایا تھا۔ یونان اور پرتگال کی کامیابی میں غیر ملکی کوچوں کی تعیناتی کا بھی ہاتھ ہو سکتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||