پاک بھارت ہسپتالوں کے رابطے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے جنوبی شہر بنگلور میں دِل کے علاج کے ایک مشہور ادارے نرائن ہردیالے نے لاہور میں قائم ایک ہسپتال ک ساتھ ٹیلی میڈیسن یعنی ٹیلی فون کے ذریعے طبی رابطے کا آغاز کیا ہے۔ بنگلور میں واقع اس ہسپتال کو دل کی سرجری یا آپریشن سستے داموں میں کرنے کے سبب گزشتہ چند مہینوں میں خاصی شہرت حاصل ہوئی ہے خاص طور پر یہ ہسپتال اس وقت شہ سرخیوں میں آنے لگا جب دل کے پیدائشی مرض میں مبتلا پاکستانی لڑکی نور فاطمہ کا آپریشن نرائن ہردیالے میں کیا گیا۔ حالیہ مہینوں میں پاکستان اور ہندوستان کے باہمی تعلقات میں فروغ کے سبب زیادہ سے زیادہ لوگوں نے دل کے اس ہسپتال کی سرپرستی شروع کر دی ہے۔ ہسپتال کے چئیرمین ڈاکٹر دیوی شہٹی نے بی بی سی کو بتایا کہ ہسپتال میں پاکستان سے آنے والے دل کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا ہر روز دو سے تین پاکستانی مریض ہسپتال میں داخل کئے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر شہٹی نے کہا کہ ان کا ہسپتال لاہور کے ایک خیراتی ہسپتال سے بھی منسلک ہے اور ہفتے میں دو مرتبہ مریضوں کو ٹیلی میڈیسن کے ذریعے علاج کے بارے میں مشورہ دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمپیوٹر کانفرنسنگ کے ذریعے مریضوں کا بہت کم خرچ میں علاج ممکن ہے۔ بنگلور کے مضافات میں واقع اس ہسپتال میں جنوبی مشرقی ایشیاء کے علاوہ افریقہ ، مشرق وسطیٰ اور دنیا کے دوسرے ملکوں سے تعلق رکھنے والے مریض بھی داخل ہو رہے ہیں۔ اب اس ہسپتال سےغیر ممالک میں آباد ہندوستانی بھی مستفید ہورہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||