رونالڈو فلسطین کے دورے پر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایمانداری کی بات ہے کہ انتہائی افراتفری کا عالم تھا۔ لیکن جب آپ دنیا کے ایک مشہور ترین فٹبالر کو ایسی جگہ بلائیں گے جسے زیادہ تر لوگ خطرناک سمجھ کر وہاں جانا نہیں چاہتے تو ایسا ہی ہوگا۔ رملّہ نے بہت دکھ دیکھے ہیں۔ فلسطینی انتفادہ کے دوران اسرائیلی کارروائیاں معمول تھا۔ جب یاسر عرفات زندہ تھے تو ان کو اسرائیلی فوج نے شہر میں ان کے صدر دفتر میں محصور رکھا۔ لیکن پیر کو شہر کے لوگوں نے ایک سپر سٹار کا استقبال کیا۔ فلسطینی ٹیم کے نشان والی قمیض پہنے ہوئے ایک لڑکے نے کہا کہ اس کی خوشی کی انتہا نہیں۔ اس نے کہا کہ اسے یقین نہیں تھا کہ وہ واقعی رونالڈو کو دیکھ پائے گا۔ رونالڈو جہاں بھی گئے لوگوں کے ہجوم نے ان کا استقبال کیا۔ ان کو دیکھنے کے لیے لوگوں کا اتنا رش تھا کہ سیکیورٹی اہلکار کم پڑ گئے اور تمام انتظام دھرا رہ گیا۔ رونالڈو اقوام متحدہ کے خیر سگالی کے سفیر کے طور پر مشرق وسطیٰ کا دورہ کر رہے ہیں۔ انہیں رملّہ میں اقوام متحدہ کے نوجوانوں اور غربت کے خاتمے کے پروگرام دیکھنے کی دعوت دی گئی تھی۔ رونالڈو نے شہر میں نوجوانوں کی فلاح کے لیے اپنے نام سے ایک مرکز بھی قائم کیا۔ رونالڈو نے کہا کہ ’میں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ مجھے اس دورے سے بہت خوشی ہوئی ہے اور مجھے اپنے گرد لوگوں کو اتنا خوش دیکھ کر فخر محسوس ہو رہا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’میں اتنے زبردست استقبال پر آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں اور بار بار امن کے مشن پر یہاں آنے کی امید کرتا ہوں‘۔ رملّہ کے لوگوں کا انتفادہ شروع ہونے کے بعد سے باہر کی دنیا سے رابطہ منقطع ہے۔ رونالڈو جیسے سپر سٹار کو وہ صرف ٹی وی پر ہی دیکھنے کی امید کر سکتے تھے۔ اقوام متحدہ کے مطابق غرب اردن اور غزہ میں دو تہائی فلسطینی دو ڈالر یومیہ کی آمدنی پر گزارا کرتے ہیں۔ رونالڈو کو لوگوں کی بھیڑ میں اس موضوع پر بات کرنے کا موقع نہیں مل سکا۔ وہ لوگوں کی بھیڑ میں کھوئے رہے۔ رملّہ کے لوگ کچھ دیر کے لیے اپنی مشکلات بھول گئے۔ وہ ایک عرصے تک اس دن کو یاد رکھیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||