جبراً نماز نہیں پڑھواتا: انضمام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے نئے سربراہ ڈاکٹر نسیم اشرف کے ٹیم میں موجود غیرمعمولی مذہبی رجحان کے بارے میں بیان پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ نہ تو ٹیم کے کھلاڑیوں کو زبردستی نماز پڑھنے پر مجبور کررہے ہیں اور نہ ہی انہوں نے مذہب کو ٹیم سلیکشن سے مشروط کر رکھا ہے۔ انضمام الحق کا کہنا ہے کہ جو لوگ اس طرح کی باتیں کررہے ہیں انہوں نے کبھی خود نماز نہیں پڑھی ہے اور نہ ہی ان کا اسلام کا دور دور سے تعلق ہے۔
پاکستانی کپتان نے کہا کہ ان پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ وہ کھلاڑیوں کو داڑھی رکھنے پر مجبور کررہے ہیں اگر ایسا ہے تو یہ دیکھ لیں کہ اس وقت کتنے کھلاڑی ہیں جن کی داڑھیاں ہیں؟ انہوں نے کہا کہ انگلینڈ کے دورے پر گئی ٹیم کے صرف تین کھلاڑیوں کی داڑھیاں تھیں جن میں ان کے علاوہ محمد یوسف اور شاہد آفریدی شامل تھے۔ انضمام الحق نے کہا کہ کھلاڑیوں کی نمازوں سے کبھی میچ نہیں رکا اور نہ ہی ٹیم کی ٹریننگ مثاثر ہوئی ہے۔ | اسی بارے میں مسلمان کھلاڑی اور قوانین میں ترمیم14 June, 2005 | کھیل حلال گوشت اور جائے نماز07 March, 2005 | کھیل انضمام حلیم اور دال چاول27 March, 2004 | کھیل کرکٹر محمد یوسف کی بات چیت14 September, 2006 | کھیل یوسف یوحنا سے محمد یوسف 17 September, 2005 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||