BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شعیب اختر کا دوبارہ ایم آر آئی
شعیب اختر
شعیب نے کہا کہ وہ اب محتاط رہیں گے
پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر شعیب اخترنے منگل کو اپنا ایم آر آئی کرایا ہے اس کی رپورٹ انہیں آئندہ دو روز میں مل جائے گی جسے وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھیج دینگے۔ دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین لیفٹننٹ جنرل ( ریٹائرڈ) توقیر ضیاء نے شعیب اختر کا بھرپور انداز میں دفاع کرتے ہوئے بورڈ کے موجودہ حکام پر ان کا معاملہ صحیح طور پر نہ نمٹانےکا الزام عائد کیا ہے۔

شعیب اختر اس وقت انگلینڈ میں ڈرہم کاؤنٹی کی نمائندگی میں مصروف ہیں لیکن ان کے کاؤنٹی کھیلنے پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے سخت اعتراض کیا ہے کہ بھارت کے خلاف پنڈی ٹیسٹ میں ان فٹ ہونے کے بعد انہیں تین ہفتے آرام اور دوبارہ میڈیکل چیک اپ کی جو ہدایت کی گئی تھی اس پر انہوں نے عمل نہیں کیا اور انگلینڈ پہنچتے ہی میچ کھیل لیا۔ اس صورتحال میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے ڈرہم کاؤنٹی اور شعیب اختر کو علیحدہ خطوط میں فاسٹ بولر کی فٹنس کے بارے میں ’محتاط پسندی‘ کے لئے کہا ہے۔

شعیب اختر نے منگل کو چیسٹر لی اسٹریٹ سے فون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس تاثر کو بے بنیاد قرار دیا کہ انہوں نے اپنی تکلیف کے بارے میں غلط بیانی سے کام لیا ہے ۔

شعیب اختر نے انکشاف کیا کہ انہیں کمر کی تکلیف دوبارہ ہوئی ہے جس کے بارے میں انہوں نے اپنی کاؤنٹی کو مطلع کردیا ہے لیکن یہ تکلیف تشویش ناک نہیں ہے۔ تاہم انہوں نے ایم آرآئی کرا لیا ہے جس کی رپورٹ بدھ یا جمعرات کو مل جائے گی اور جسے وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھیج دینگے۔

شعیب اختر نے کہا کہ وہ اگلے میچز کھیلتے ہوئے اپنی فٹنس کے بارے میں زیادہ محتاط رہیں گے۔

شعیب اختر کے لئے یہ بات تقویت کا باعث ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین لیفٹننٹ جنرل ( ریٹائرڈ) توقیرضیاء نے ان کا بھرپور انداز میں دفاع کیا ہے۔ ایک اخباری انٹرویو میں انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے موجودہ حکام پر شعیب اختر کا معاملہ صحیح طور پر نہ نمٹانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ شعیب اختر میچ ونر ہے اسے ڈرا دھمکا کر نتائج حاصل نہیں کئے جاسکتے ۔

انہوں نے کہا کہ ’وہ (شعیب) اتنا برا نہیں جتنا اسے بدنام کیا گیا ہے ۔ انہوں نے اپنے دور میں کبھی ڈانٹ ڈپٹ کر اور کبھی پیار سے سمجھاکر اس سے کام لیا لیکن موجودہ آفیشلز نے معاملے کو پیچیدہ بنادیا ہے‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد