BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 11 May, 2004, 12:21 GMT 17:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تربیت نہیں جذبے کی کمی ہے: چیپل

گریگ چیپل
آسٹریلیا کے سابق کپتان گریک چیپل کا کہنا ہے پاکستان کے بیٹسمینوں کو اپنی بیٹنگ کو بہتر کرنے کے لیے کسی کوچ کی ضرورت نہیں بلکہ اچھی کارکردگی کے مظاہرے کے لیے جذبے کی ضرورت ہے۔

گریک چیپل جو کے انٹر نیشنل کرکٹ کونسل اور ایشین کرکٹ کونسل کے کرکٹ ڈیویلپمنٹ سیمینار میں شرکت کے لیے لاہور آئے ہوئے تھے۔

گریک چیپل نے اس سیمینار میں سیکرٹس آف دی بیسٹ بیٹسمین کے نام سے مقالہ پڑھا۔

گریک چیپل کا کہنا تھا کہ جب کوئی کھلاڑی انٹرنیشنل سطح کا کھلاڑی بن جاتا ہے تو اسے کوچنگ کی نہیں بلکہ مینیجمنٹ کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ اس سطح کے کھلاڑی کہ جس کی عمر بائیس تئیس سال ہو چکی ہواس کی بنیادی ٹیکنیک اور سٹائل کو بدلا نہیں جا سکتا۔

گریک چیپل نے کہا کہ کسی بیٹسمین کی کوچنگ تبھی ممکن ہے جب وہ بہت کم عمر ہو اور اس کے لیے پاکستان میں کرکٹ کے ڈھانچے کو درست کرنا ضروری ہے تاکہ بچوں کو اس وقت تربیت دی جا سکے جب وہ انڈر 13 یا انڈر 15 ہو۔ ’جب بچا کھیلنا شروع کرے اسی وقت اسے بہترین کوچز مہیا کیے جائیں۔‘

گریک چیپل نے کہا کا گزشتہ کئی سالوں سے آسٹریلیا کی ٹیم دنیائے کرکٹ پر حکمرانی کر رہی ہے اس کی وجہ یہ ہے آسٹریلین کرکٹ نے زبردست نظام تخلیق کیا ہے اور دوسرے کرکٹ کھیلنے والے ممالک کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ ایسا ہی نظام وضع کریں تب ہی ان کے کھیل کے معیار اور آسٹریلین کرکٹ کے معیار کےدرمیان موجودہ خلیج کم ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر چہ حال ہی میں ہونے والی پاک بھارت سیریز میں پاکستانی بیٹس مینوں کی آخری ٹیسٹ میچ میں ناقص کارکردگی کی بناء پر پاکستان یہ میچ ہار گیا تاہم اس بنیاد پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ پاکستانی بیٹسمینوں کا معیار بہت پست ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی بیٹسمین کافی ٹیلینٹ کے حامل ہیں اور ان میں اچھی بیٹنگ کی قدرتی صلاحیت موجود ہے۔

بھارت کی ٹیم اس لیے جیتی کہ وہ زیادہ تجربہ کار تھی ان کی بیٹنگ تکنیک اور مہارت پاکستان سے بہتر تھی پھر بھی آخری ٹیسٹ میچ کے علاوہ پاکستانی ٹیم کی کارکردگی کو ناقص نہیں کہا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ اگر پاکستانی بیٹسمینوں کی بہتر کارکردگی کو یقینی بنانے کے لیے کسی غیر ملکی کوچ کی خدمات کی ضرورت نہیں۔ ’اس کے لیے ضروری ہے کہ خود کھلاڑی کے اندر جذبہ اور خواہش پیدا ہو کہ وہ اپنی کارکردگی بہتر کرے اور یہ منوائے کہ وہ اچھا کھلاڑی ہے اور اسے اپنی ٹیم کے لیے بہتر سے بہتر کھیلنا ہے۔‘

گریک چیپل نے اس سوال کے جواب میں کہ آیا اگر انہیں پاکستانی ٹیم کی کوچنگ کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ پیشکش کرے تو کیا وہ مثبت جواب دیں گے تو گریک چیپل نے کہا کہ مجھے ابھی ایسی کوئی پیشکش نہیں ہوئی اور مستقبل قریب میں تو ایسی کسی پیشکش کا میں مثبت جواب نہیں دے سکتا کیونکہ میں اور معاملات میں مصروف ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد