شعیب پر بات نہ کرنے کی پابندی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فاسٹ بولر شعیب اختر نے بدھ کی صبح پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان سے ملاقات کی ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ہی پاکستان کرکٹ بورڈ نے منگل کی شب ایک خط کے ذریعے شعیب اختر کو میڈیا سے بات کرنے سے روک دیا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ہیڈکوارٹر قذافی اسٹیڈیم میں ہونے والی 45 منٹ کی یہ ملاقات کی شعیب اختر کی فٹنس کے بارے میں کی جانے والی میڈیکل انکوائری کے تناظر میں بڑی اہمیت ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کو شعیب اختر کی انجری کے بارے میں میڈیکل انکوائری کمیشن کی رپورٹ بھی موصول ہوچکی ہے۔ یہ کمیشن پاکستان کرکٹ بورڈ نے قائم کیا تھا جس کا مقصد شعیب اختر سمیت متعدد کرکٹرز کے بھارت کے خلاف سیریز کے دوران ان فٹ ہونے کی وجوہات کا پتہ لگانا تھا۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق سمیت پاکستان کرکٹ کے مختلف حلقوں نے بھارت کے خلاف پنڈی ٹیسٹ میں شعیب اختر کے ان فٹ ہوکر بولنگ نہ کرنے لیکن بیٹنگ کرنے پر حیرانگی ظاہر کی تھی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے میڈیکل کمیشن نے شعیب اختر کے بون اسکین کے سلسلے میں شوکت خانم ہسپتال سے رجوع کیا تھا جس کی رپورٹ میڈیا میں آچکی ہے اور جس میں یہ کہا گیا ہے کہ شعیب اختر کی گیارہویں پسلی میں فریکچر ہے۔ یہ صورتحال اس لئے بھی پیچیدہ ہوگئی ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان کا کہنا ہے کہ شعیب اختر کا جو ایم آر آئی کرایاگیا تھا اس میں زخم کا کوئی نشان موجود نہیں تھا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے میڈیکل کمیشن کی رپورٹ کو تسلیم کرے گا لیکن اس کے لئے پریشانی کا سبب یہ ہے کہ وہ شوکت خانم ہسپتال کی رپورٹ کو بھی رد نہیں کرسکتا اس صورت میں اسے عمران خان کی غیرمعمولی تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شعیب اختر کی پسلی میں اگر فریکچر پنڈی ٹیسٹ میں ہوا تھا تو انہوں نے جارحانہ انداز میں بغیر کسی تکلیف کے بیٹنگ کیسے کرلی؟ اور اسوقت پاکستان ٹیم کے ڈاکٹر ریاض احمد نے اس بارے میں منیجمنٹ کو صرف یہ کیوں بتایا کہ یہ صرف مسل پھٹنے کا معاملہ ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نے شعیب اختر کو یقین دلایا کہ انہیں اپنا موقف پیش کرنے کا بھرپور موقع دیا جائے گا۔ دریں اثناء پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھارت کے خلاف سیریز کے بارے میں منیجر ہارون رشید سے بھی رپورٹ طلب کرلی ہے جو عام طور پر ہوم سیریز میں طلب نہیں کی جاتی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||