شعیب اختر مطمئن ہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان نے لاہور میں ہونے والے دوسرے ٹیسٹ میں اپنے روایتی حریف انڈیا کو نو وکٹوں سے شکست دے کر سیریز برابر کر دی ہے۔ اب تیرہ اپریل کو راولپنڈی میں ہونے والا تیسرا ٹیسٹ میچ فیصلہ کرے گا کہ اس سیریز کا فاتح کون ہے۔ اس میچ کی ایک خاص بات شعیب اختر کی نسبتاً بہتر بولنگ تھی جس میں انہوں نے تیز گیند کے علاوہ اپنی لائن اور لینگتھ پر بھی توجہ دی۔ شعیب نے اچھی کارکردگی پر سکون کا سانس لیا ہے۔ اس میچ میں انہوں نے چار وکٹیں لیں جس میں دوسری اننگز کے ایک ہی اوور میں دو وکٹیں بھی شامل ہیں۔ شعیب نے کہا کہ کپتان نے کہا تھا کہ ’صرف تین چار اوور جتنا تیز کر سکتے ہو کرو اور یہ میرے حق میں بہتر ہوئے‘۔ شعیب اختر اور لیگ سپنر دانش کنیریہ نے جمعرات کو انڈیا کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا۔ دانش نے چودہ رنز دے کر تین کھلاڑی آؤٹ کیے اور انڈیا کی پوری ٹیم 241 رنز پر آؤٹ ہو گئی۔ شعیب نے کہا: ’ملتان میں ہماری اچھی بولنگ پریکٹس ہوئی تھی، جس سے ہمارا ردھم واپس آ گیا ہے‘۔ ’اس مرتبہ ہم نے زیادہ رنز نہیں دیے، ہم نے گیند ٹائٹ رکھی۔‘ ’میرے برے دن بھی آئے ہیں اور اچھے بھی۔ لیکن میں نے کبھی بھی ان سے سیکھنا نہیں چھوڑا۔‘ پاکستان کے کپتان انضمام الحق بھی اپنی ٹیم کی کارکردگی اور جیت سے بہت خوش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی ٹیم 3-2 سے ون ڈے سیریز اور ملتان میں ٹیسٹ ہار کر بہت دباؤ میں تھی۔ لیکن لڑکوں نے بڑی محنت سے کھیل کر میچ جیتا ہے۔ پاکستان کے کوچ جاوید میانداد نے کہا کہ اس میچ کے بعد اب راولپنڈی میں ہونے والا فیصلہ کن اور زیادہ دلچسپ بن جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||