BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 08 April, 2004, 10:19 GMT 15:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’تُم دو اوور کے بیٹسمین ہو‘

عاصم کمال
بیٹنگ کے دوران بیٹسمین کو بولرز کی تیز گیندوں کے ساتھ ساتھ بعض اوقات کئی اطراف سے تیزوتند فقرے بھی سننے کو ملتے ہیں جن کا مقصد کھیل سے اس کی توجہ ہٹانا ہوتا ہے۔

اب یہ بیٹسمین پر منحصر ہے کہ وہ ان ’زبانی باؤنسرز‘ کو اپنے اوپر حاوی کرکے مشتعل ہوجائے یا سنی ان سنی کرتے ہوئے اپنی توجہ بیٹنگ پر مرکوز رکھے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان لاہور ٹیسٹ میچ کا ٹریننگ پوائنٹ پاکستان کی دوسری اننگز میں عاصم کمال کی شاندار بیٹنگ تھی جس میں انہوں نے بھارتی کھلاڑیوں کے دوہرے وار یعنی گیند اور زبان دونوں کا اعتماد سے مقابلہ کیا۔

عاصم کمال کو نفسیاتی دباؤ میں لانے کے لئے لیگ اسپنر انیل کمبلے نے میچ کےدوران ان سے مخاطب ہو کر فقرا کسا کہ ’تم تو دو اوورز کے بیٹسمین ہو، نئی گیند آنے والی ہے نہیں بچ سکو گے‘۔ عاصم کمال نے پراعتماد لہجے میں جواب دیا ’ اپنا کام کرو‘۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ عاصم کمال کو اس طرح کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہو اس سے قبل انہوں نے فقرے کسنے میں مشہور جنوبی افریقی کھلاڑیوں کو بھی اپنے قریب نہیں آنے دیا تھا۔

عاصم کمال کا کہنا ہے کہ بیٹسمین ’سلیجنگ‘ پر توجہ دینا شروع کر دے تو اس کے لئے کھیلنا مشکل ہو جائے گا۔

بائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے عاصم کمال کپتان انضمام الحق کی وکٹ گرنے پر کریز پر آئے تھے۔ اس کے صرف نو گیندوں کے بعد انہوں نے یوسف یوحنا کی وکٹ بھی گرتے دیکھی۔

اس وقت پاکستان کی برتری صرف اناسی رنز کی تھی لیکن ان کی بیٹنگ نے پاکستان کو ایک ایسی سبقت دلادی جس سے بولرز کا کام بہت آسان ہوگیا۔

عاصم کمال کا کہنا ہے کہ انہیں اس میچ میں سنچری مکمل نہ کرنے کا افسوس ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ریورس سوِیپ‘ کھیلنا ان کی مجبوری تھی کیونکہ کُمبلے لیگ اسٹمپ پر گیندیں کرارہے تھے۔

ستائیس سالہ عاصم کمال پانچ بھائیوں اور ایک بہن میں سب سے بڑے ہیں۔ ان کی والدہ درس وتدریس کے شعبے سے وابستہ رہی ہیں اور والد ملازمت سے ریٹائر ہوچکے ہیں۔

جنوبی افریقہ کے خلاف دو عمدہ اننگز کے باوجود ٹیم میں شامل نہ ہونے پر عاصم کمال پریشان ہوگئے تھے، لیکن ان کے دوستوں نے انہیں حوصلہ دیا تھا کہ ٹیم میں ان کی واپسی ضرور ہوگی۔

مبصرین نے بھی اس بات پر حیرت کا اظہار کیا تھا کہ جنوبی افریقہ کے خلاف ننانوے رنز کی شاندار اننگز کھیلنے کے باوجود عاصم کمال کو ٹیم سے باہر رکھا گیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد