وقار یونس ریٹائر ہو رہے ہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وقار یونس بین الاقوامی کرکٹ کو خیرباد کہنے والے ہیں۔ انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان لاہور ٹیسٹ کے اختتام پر ریٹائرمنٹ کا باقاعدہ اعلان کرنے کا فیصلہ کیاہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ انہیں شایان شان انداز میں الوداع کہنے کی تیاری کررہا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو رمیزراجہ نے بی بی سی کو بتایا کہ وقاریونس جو اس وقت بھارت میں ہیں، لاہور ٹیسٹ کے پانچویں دن وطن واپس پہنچ رہے ہیں جس کے بعد ایک پریس کانفرنس میں وہ ریٹائرمنٹ کا باقاعدہ اعلان کریں گے۔ اس موقع پر پاکستان کرکٹ ٹیم کے موجودہ اور سابق کرکٹرز بھی انہیں زبردست خراج تحسین پیش کریں گے۔ وقاریونس ورلڈ کپ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان تھے جس میں وہ پہلے مرحلے سے آگے نہ بڑھ سکی۔ ورلڈ کپ کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے تشکیل نو کا نعرہ بلند کرتے ہوئے وقار یونس، وسیم اکرم، شعیب اختر، انضمام الحق، سعید انور اور ثقلین مشتاق کو ٹیم سے ڈراپ کردیا تھا۔ اس دوران وسیم اکرم اور سعید انور نے انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا لیکن دوسری جانب ورلڈ کپ میں ٹیم کی ناکامی کے ذمہ دار بقیہ کھلاڑی ایک ایک کرکے ٹیم میں واپس بلا لیے گئے۔ عام خیال تھا کہ وقار یونس صورتحال سے دلبرداشتہ ہوکر انٹرنیشنل کرکٹ کو چھوڑ دیں گے لیکن وہ کھیلنے پر بضد رہے۔ یہ اور بات ہے کہ وہ سلیکٹرز کا اعتماد حاصل نہ کرپائے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ورلڈ کپ میں ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کا پوسٹ مارٹم کرنے کے لئے کمیٹی بھی قائم کی جس نے حسب روایت گول مول سی رپورٹ کرکٹ بورڈ کے حوالے کردی جو داخل دفتر کردی گئی اس رپورٹ میں ٹیم کی شکست کا ایک سبب وقار یونس اور کھلاڑیوں کے درمیان رابطے کا فقدان بھی بتایاگیا۔ وقاریونس نے پندرہ سال کے طویل عرصے کے بعد پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی بھارتی ٹیم کے خلاف کھیلنے کی خواہش ظاہر کی تھی لیکن ان کی یہ خواہش پوری نہ ہوسکی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وقاریونس نے اپنے ٹیسٹ کریئر کا آغاز پندرہ سال قبل بھارت کے خلاف کراچی میں کیا تھا۔ اپنی تیزرفتار گیندوں اور سوئنگ ہوتے ہوئے خطرناک یارکر سے وہ حریف بیٹسمینوں کے لئے دہشت کی علامت بنے رہے۔ ایک مبصر نے کاؤنٹی کرکٹ میں بیٹسمینوں کی ان کے خلاف بے بسی کو دیکھتے ہوئے کہا تھا کہ موت ان سے صرف بائیس گز دور رہتی ہے۔ بورے والا ایکسپریس کے نام سے مشہور وقاریونس نے وسیم اکرم کے ساتھ ملکر پاکستان کرکٹ ٹیم کی اہم کامیابیوں میں کلیدی کردار ادا کیا۔ٹیسٹ کرکٹ میں 373 اور ون ڈے انٹرنیشنل میں 416 وکٹیں ان کی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد اس بات کا امکان ہے کہ وقاریونس کو پاکستان کرکٹ بورڈ بولنگ کوچ یا اکیڈمی کوچ کی ذمہ داری سونپے گا۔ لیکن دنیا وقاریونس کو ایک خوبصورت رن اپ کے ساتھ بولنگ کرتے ہوئے بیٹسمینوں کے دفاع کو چیرنے والے ورلڈ کلاس بولر کے طور پر ہمیشہ یاد رکھے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||