پاکستانی بچی، بھارتی ٹیم کی اپیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی کرکٹ ٹیم کی اپیل پر ایک دس سال کی پاکستانی لڑکی کو کینسر کے لئے بھارت میں مفت علاج کی پیشکش کی گئی ہے۔ بھارتی ٹیم کی اس اپیل پر یہ پیشکش بھارت کے تین ہسپتالوں نے کی ہے۔ یہ اپیل ایک پاکستانی صحافی شاہد چینا کی بیٹی حبا شاہد کے لئےکی گئی تھی ۔ شاہد چینا نے بتایا کہ بھارتی ٹیم یہ اپیل کرنے کے لئے فوراً تیار ہو گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ’میں ہمیشہ بھارتی کرکٹ ٹیم کا شکر گزار رہوں گا۔ اللہ بھارتی کھلاڑیوں کو ہمیشہ خوش رکھے‘ ۔ حبا شاہد کوکینسر کا جو مرض لاحق ہے اس کے علاج پرعموماً ساڑھے چار ہزار امریکی ڈالر کا خرچ آتا ہے۔
شاہد چینا نے لاہور میں دوسرے ٹیسٹ سے پہلے بھارتی کرکٹ ٹیم سے ملاقات کی تھی اور کھلاڑیوں نے پیر کو بھارتی اخبارات میں یہ اپیل شائع کرائی تھی ۔ شاہد چینا نے بتایا کہ وہ مدد کے لئے بےچین تھے کیونکہ ان کی بیٹی موت کی طرف جا رہی ہے۔ پھر انہیں پتہ لگا کہ ان کی بیٹی کا علاج بھارت میں ممکن ہے۔ بھارت میں تین ہسپتالوں نے حبا شاہد کے مفت علاج کی پیشکش کی ہے۔ان میں بنگلور کا منی پال ہسپتال ممبئی کا ٹاٹا میموریل ہسپتال اور ویلور میں کرسچین میڈیکل کالج شامل ہیں۔ کرکٹ ٹیم کے مینیجر رتناکر شیٹی نے بتایا کہ لڑکی کے والدین تک یہ بات پہنچا دی گئی ہے اورپاکستان میں بھارتی ہائی کمیشن نے یقین دلایا ہے کہ ان کے سفر کے ضروری انتظامات کر دیے جائیں گے۔ منیپال ہسپتال ایک پرائیوٹ ہسپتال ہے اس کے ترجمان نے بتایا کہ وہ لڑکی کے والدین کے جواب کا انتظار کر رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||