شعیب پر پابندی کیوں؟ رائے دیجئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فاسٹ بولر شعیب اختر نے بدھ کی صبح پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان سے ملاقات کی ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ہی پاکستان کرکٹ بورڈ نے منگل کی شب ایک خط کے ذریعے شعیب اختر کو میڈیا سے بات کرنے سے روک دیا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے میڈیکل کمیشن نے شعیب اختر کے بون اسکین کے سلسلے میں شوکت خانم ہسپتال سے رجوع کیا تھا جس کی رپورٹ میڈیا میں آچکی ہے اور جس میں یہ کہا گیا ہے کہ شعیب اختر کی گیارہویں پسلی میں فریکچر ہے۔ یہ صورتحال اس لئے بھی پیچیدہ ہوگئی ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان کا کہنا ہے کہ شعیب اختر کا جو ایم آر آئی کرایاگیا تھا اس میں زخم کا کوئی نشان موجود نہیں تھا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے میڈیکل کمیشن کی رپورٹ کو تسلیم کرے گا لیکن اس کے لئے پریشانی کا سبب یہ ہے کہ وہ شوکت خانم ہسپتال کی رپورٹ کو بھی رد نہیں کرسکتا اس صورت میں اسے عمران خان کی غیرمعمولی تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نے شعیب اختر کو یقین دلایا کہ انہیں اپنا موقف پیش کرنے کا بھرپور موقع دیا جائے گا۔ کیا آپ کے خیال میں شعیب اختر کو قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے؟ کیا پاکستان انڈیا سیریز میں پاکستان کی ہار میں شعیب اختر کا کردار اہم ہے؟ آپ کا ردِّعمل آپ اپنے خیالات اردو، انگریزی یا roman urdu mein bhej سکتے ہیں چوہدری بابر، امریکہ: شعیب اس سیریز پر ایک دھبہ ہیں۔ اسے کے لئے ہمیشہ سرخ قالین بچھایا گیا ہے لیکن اب وقت آگیا ہے کہ اس کے ساتھ رویہ بدلا جائے۔ انڈینز کیوں اپنی لائن اینڈ لینتھ کا خیال رکھ لیتے ہیں اور شعیب کیوں نہیں رکھ سکتے؟ قیصر، بیجنگ: میرے خیال میں شعیب اختر سے زیادہ پاکستان ٹیم کے ڈاکٹر ریاض کا چیک اپ ضروری ہے جنہوں اسے صرف مسل پھٹنے کا مسئلہ بتایا جب کہ شوکت حانم کی رپورٹ فریکچر کا بتاتی ہے۔ پھر بھی اگر فریکچر بھی تھا تو اتنی جارحانہ بیٹنگ؟ مگر بہرحال شکست کی تمام ذمہ داری شعیب پر ڈالنا ناانصافی ہے۔ خائستہ محمد، ابوظہبی: شعیب نے ملک اور قوم کو دھوکہ دیا ہے۔ وہ دنیا کے تیز ترین بولر ہیں لیکن اس سے بہتر تو انڈیا کے ناتکربہ کار بولر رہے۔ انہیں ایک دوسال کے لئے ٹیم سے باہر رکھ کر ان کا دماغ ٹھیک کیا جائے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||