شعیب کلیئر نہیں ہوئے: کرکٹ بورڈ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر شعیب اختر کی فٹنس کے معاملے نے متنازعہ صورت اختیار کرلی ہے ۔ شوکت خانم ہسپتال کی میڈیکل رپورٹ میں یہ کہا گیا ہے کہ شعیب اختر کی گیارہویں پسلی میں فریکچر ہے جس کی وجہ سے وہ بھارت کے خلاف پنڈی ٹیسٹ میں بولنگ نہیں کرسکے تھے لیکن دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ شوکت خانم ہسپتال کی یہ رپورٹ حرف آخر نہیں بلکہ اس رپورٹ کی اہمیت ہے جو پاکستان کرکٹ بورڈ کا قائم کردہ میڈیکل کمیشن پیش کرے گا۔ شوکت خانم ہسپتال کی رپورٹ منظرعام پر آنے پر پاکستان کرکٹ بورڈ خوش نہیں ہے اور اس نے ہسپتال کی انتظامیہ سے باقاعدہ احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے کہ یہ اہم نوعیت کی دستاویز پاکستان کرکٹ بورڈ کے قائم کردہ میڈیکل کمیشن کی حتمی رپورٹ کے آنے سے پہلے ہی میڈیا کوکیوں دے دی گئی۔ غیرجانبدار حلقوں نے یہ خیال بھی ظاہر کیا ہے کہ ممکن ہے کہ یہ رپورٹ ہسپتال کے ذرائع کے بجائے شعیب اختر کے ذریعے میڈیا تک پہنچی ہو جو یقینا موجودہ صورتحال سے خوش نہیں اور اپنا نام فورا کلیئر کرانا چاہتے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ضروری نہیں کہ میڈیا میں آجانے والی رپورٹ درست بھی ہو لیکن اس صورتحال سے پی سی بی کے مقررہ کردہ کمیشن کو ضرور دھچکہ پہنچا ہے جس کی رپورٹ آئندہ ہفتے منظرعام پر آنے والی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ شعیب اختر کے معاملے میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے ضرورت سے زیادہ غیرذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے شہرت دی ۔ فٹنس اور رویہ دو الگ معاملے تھے اگر پاکستان کرکٹ بورڈ کو منیجر اور کپتان کی رپورٹس کی روشنی میں شعیب اختر کے مبینہ لاپرواہ رویے پر کارروائی کرنی تھی تو وہ اسی وقت کی جاسکتی تھی جہان تک فٹنس کا تعلق ہے تو یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ پہلے تو پاکستان کرکٹ بورڈ نے ٹیم کے ڈاکٹر کی ابتدائی رپورٹ کی روشنی میں یہ دعوی کیا تھا کہ شعیب اختر کا مسل پھٹ گیا تھا اب شوکت خانم ہسپتال کی رپورٹ پسلی میں فریکچر کی بات کرتی ہے تو اس میں سب سے پہلے جس شخص سے سوال جواب ہونا چاہیئے وہ ٹیم کے ڈاکٹر ریاض احمد ہیں جنہوں نے کس بنیاد پر صرف مسل کے پھٹنے کی تشخیص کی تھی اور اگر یہ معاملہ فریکچر کا تھا تو شعیب اختر نے دھواں دار بیٹنگ کیسے کرلی؟ اور اتنے دنوں وہ کسی تکلیف کے کیسے گھومتے رہے ہیں ؟ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||