BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 15 May, 2004, 17:40 GMT 22:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شعیب پر پھر شک کی نگاہیں

News image
پاکستان کرکٹ بورڈ نے شعیب اختر کے اچانک فٹ ہوکر کاؤنٹی کرکٹ شروع کردینے کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے ڈرہم کاؤنٹی کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد ہی فاسٹ بولر کے خلاف انضباطی کارروائی کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریارخان نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں حیرت اس بات پر ہے کہ شعیب اختر راتوں رات فٹ کیسے ہوگئے؟ وہ اس بارے میں نہ صرف شعیب اختر سے پوچھیں گے بلکہ ڈرہم کاؤنٹی سے بھی فاسٹ بولر کی فٹنس کے بارے میں رابطہ کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں وہ کاؤنٹی کو خط لکھ رہے ہیں۔

شہریارخان کا کہنا ہے کہ انہیں شعیب اختر کے رویئے سے سخت مایوسی ہوئی ہے کیونکہ انہوں نے انگلینڈ جانے سے قبل ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ وہاں تین ہفتے مکمل آرام کریں گے۔ لیکن وہاں پہنچتے ہوئے وہ مکمل فٹ ہوگئے اور میچ بھی کھیلا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نے کہا کہ ڈرہم کاؤنٹی کے جواب کے بعد ہی وہ شعیب اختر کے خلاف کسی ممکنہ کارروائی کے بارے میں فیصلہ کرینگے لیکن یہ بات واضح ہے کہ فاسٹ بولر کے رویئے سے ٹیم کا مورال متاثر ہوا تھا اور وہ خود موجودہ حالات میں شعیب اختر کے کاؤنٹی کھیلنے سے مایوس ہوئے ہیں کیونکہ انہوں نے جو یقین دہانی کرائی تھی وہ پوری نہیں کی ۔

شہریارخان نے کہا کہ فٹنس کے معاملے میں’ ہم نے شعیب اختر کی اس بات پر یقین کیا تھا کہ وہ فٹ نہیں ہے ۔‘

شہریارخان کے برعکس پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو رمیز راجہ کے شعیب اختر کے بارے میں رویئے میں حیران کن تبدیلی آئی ہے اور انہوں نے ایک اخباری انٹرویو میں فاسٹ بولر کے خلاف سخت ایکشن کو خارج از امکان قرار دے دیا ہے صرف چند روز قبل تک رمیز راجہ شعیب اختر کے بارے میں سخت رویہ رکھے ہوئے تھے ۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد