BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈیرل ہیئرکا نسلی امتیاز کا الزام واپس
ڈیرل ہیر کو عالمی کپ کے مقابلوں کے لیے طلب نہیں کیا گیا
کرکٹ امپائر ڈیرل ہیئر نے پاکستان کرکٹ کنٹرول بورڈ کے خلاف نسلی امتیاز کا الزام واپس لے لیا ہے۔

آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے ڈیرل ہیئر نے پاکستان کرکٹ کنٹرول بورڈ اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) دونوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا آغاز کیا تھا۔ واضح رہے کہ انہیں اوول کے میدان میں پاکستان کے خلاف فیصلہ سنانے کے بعد آئی سی سی نے اپنے ایلیٹ امپائروں کے پینل سے خارج کر دیا تھا۔


پی سی بی کے ایک افسر نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہ اب ڈیرل ہیئر نے ان کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے کہا ’ہمیں اس پر حیرت نہیں کہ انہوں نے ہمارے خلاف نسل پرستی جیسا مضحکہ خیز الزام واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

ڈیرل ہیئر نے اگرچہ پاکستانی کرکٹ بورڈ کے خلاف الزام واپس لے لیا ہے لیکن کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے آئی سی سی کے خلاف کارروائی کا فیصلہ ترک نہیں کیا ہے۔

گزشتہ سال اگست میں اوول میں پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان میچ کو ختم کرنے کے بعد آئی سی سی نے انہیں برطرف کر دیا تھا۔ پاکستان نے اس میچ کے دوران اس وقت کھیلنے سے انکار کر دیا تھا جب ڈیرل ہیئر نے پاکستانی بولروں پر بال ٹیمپرنگ کا الزام لگاتے ہوئے مخالف ٹیم کو پانچ اضافی رنز دے دیے تھے۔

ناقابل قبول سلوک
 ہمارا اور ہمارے موکل ڈیرل ہیئر کا خیال ہے کہ ان کے ساتھ ناقابل قبول اور گھٹیا رویہ اپنایا گیا تھا۔ اس معاملے میں سچ یہ ہے کہ اگر وہ سفید فام نہ ہوتے توڈیرل ہیئر کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا جاتا۔‘
وکیل

واقعہ کے بعد آئی سی سی کی ایک انکوائری میں پاکستان پر بال ٹیمپرنگ کا الزام غلط ثابت ہوا تھا، جس پر ڈیرل ہیئر کو ٹیسٹ میچوں میں امپائرنگ کے فرائض سے سبکدوش کر دیا گیا تھا۔ تاہم مذکورہ میچ میں ڈیرل ہیئر کے ساتھ امپائرنگ کرنے والے ویسٹ انڈیز کے بلی ڈوکٹروو بدستور امپائرنگ کر رہے ہیں۔

شروع میں ڈیرل ہیئر کا خیال تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی کو ان کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے ’غیرقانونی طریقے‘ استعمال کیے تھے۔

اگرچہ آئی سی سی کے ساتھ ڈیرل ہیر کے امپائرنگ کے معاہدے کی معیاد مارچ دو ہزار آٹھ تک ہے لیکن انہیں اگلے ماہ ویسٹ انڈیز میں ہونے والے عالمی کپ کے مقابلوں کے لیے طلب نہیں کیا گیا۔

اس دوران چون سالہ آسٹریلوی نے، جو آجکل انگلینڈ میں مقیم ہیں، انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے امپائروں کی لسٹ میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔ اگر وہ اس فہرست پر ہوتے تو وہ فرسٹ کلاس میچوں میں امپائرنگ کر سکتے تھے۔

اس ماہ کے اوائل میں ڈیرل ہیئر کے وکیل نے ایک بیان جاری کیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا ’ ہمارا اور ہمارے موکل ڈیرل ہیئر کا خیال ہے کہ ان کے ساتھ ناقابل قبول اور گھٹیا رویہ اپنایا گیا تھا۔ اس معاملے میں سچ یہ ہے کہ اگر وہ سفید فام نہ ہوتے توڈیرل ہیئر کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا جاتا۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد