نسلی تعصب کا معاملہ نہیں: مانی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے سابق صدر احسان مانی نے آسٹریلوی امپائر ڈیرل ہیئر کے اس الزام کو مایوس کن قرار دیا ہے کہ انہیں بین الاقوامی امپائرنگ سے ہٹانے کا تعلق نسلی تعصب سے ہے۔ احسان مانی کا کہنا ہے کہ نسلی امتیاز کی سوچ کبھی بھی آئی سی سی میں کارفرما نہیں رہی۔ واضح رہے کہ ڈیرل ہیئر نے آئی سی سی اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ کرکٹ کے عالمی ادارے کا انہیں امپائرنگ سے ہٹانے کا فیصلہ نسلی تعصب پر مبنی ہے کیونکہ اوول ٹیسٹ میں ان کے ساتھی امپائر بلی ڈاکٹرو ابھی تک امپائرنگ کررہے ہیں۔ ڈیرل ہیئر نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھی فریق بنایا ہے کیونکہ بقول ان کے پاکستان کرکٹ بورڈ نے نسلی تعصب پر مبنی مہم چلاکر آئی سی سی کو ان کے خلاف کارروائی کے لیے اکسایا ہے۔ احسان مانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ سمجھنے سےقاصر ہیں کہ ڈیرل ہیئر پاکستان کرکٹ بورڈ کے خلاف قانونی چارہ جوئی کیسے کرسکتے ہیں کیونکہ وہ آئی سی سی کے ملازم ہیں۔اگر وہ کسی کے خلاف لیگل ایکشن لے سکتے ہیں تووہ صرف آئی سی سی ہی ہے۔ احسان مانی نے کہا کہ یہ درست ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ڈیرل ہیئر کے خلاف شکایت کی تھی لیکن ایسا کوئی بھی کرسکتا ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے۔
احسان مانی نے کہا کہ آئی سی سی سے طویل وابستگی میں انہوں نے کبھی نسلی امتیاز پر مبنی کوئی بات نہیں دیکھی۔ یہ افسوسناک بات ہے کہ معاملہ یہاں تک پہنچ گیا ہے۔وہ پہلے بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ اس میں غلطی پاکستان کرکٹ بورڈ کی بھی ہے جس نے اگر بہت پہلے ڈیرل ہیئر کے بارے میں آئی سی سی سے تحریری شکایت کردی ہوتی توشاید معاملہ اسی وقت نمٹادیا جاتا۔ان کے خیال میں کرکٹ کے معاملات کا عدالت تک جانا افسوسناک ہے۔ احسان مانی کےخیال میں غورطلب بات یہ ہے کہ عدالت میں جانے کے بعد ڈیرل ہیئر کس طرح آئی سی سی سے آنکھ ملا کر امپائرنگ کرسکیں گے۔اس کا انحصار عدالت کے فیصلے پر ہوگا فی الحال وہ اس پرکوئی تبصرہ کرنا نہیں چاہتے۔ پاکستان کے ایک سابق تجربہ کار امپائر محبوب شاہ بھی ڈیرل ہیئر کے الزام کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ نسلی امتیاز کا نہیں بلکہ آجر اور اجیر کا معاملہ ہے۔ انہیں امپائرنگ سے ہٹانے کا تعلق ان کی کارکردگی سے ہے تاہم یہ ممکن ہے کہ انہوں نے یہ سوچا ہو کہ اوول ٹیسٹ میں ان کے ساتھی امپائر بلی ڈاکٹرو کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں آئی اور صرف انہیں ہی ہٹا دیا گیا۔ محبوب شاہ کا کہنا ہے کہ یہ نکتہ بہرحال اہمیت کا حامل ہے کہ اوول ٹیسٹ میں بال ٹمپرنگ کا فیصلہ صرف ڈیرل ہیئر کا نہیں ہوگا کیونکہ کسی معاملے میں دونوں امپائرز متفق ہوں تب ہی اس پر عملدرآمد ہوتا ہے۔ اس ضمن میں انگلینڈ کے خلاف کراچی ٹیسٹ کی مثال دی جاسکتی ہے کہ کم روشنی میں کھیل جاری رکھنے یا ختم کرنے کے بارے میں سٹیوبکنر اور نذیرجونیئر میں اتفاق نہ تھا لہذا میچ جاری رہا۔ محبوب شاہ کا بھی یہی کہنا ہے کہ ڈیرل ہیئر اس معاملے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو فریق نہیں بناسکتے۔ | اسی بارے میں ڈیرل ہیئر کی ’برطرفی کا فیصلہ‘03 November, 2006 | کھیل انضمام، ٹیمپرنگ کے الزام سے بری28 September, 2006 | کھیل ڈیرل ہیئر کے خط کا متن 25 August, 2006 | کھیل سماعت:تاریخ کا اعلان آج متوقع 25 August, 2006 | کھیل ہیئر پر اعتماد نہیں رہا: آئی سی سی04 November, 2006 | کھیل ڈیرل ہیئر کی تقرری پر اعتراض نہیں16 January, 2007 | کھیل ڈیرل ہیئر: متنازع فیصلوں کے بادشاہ 21 August, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||