ہیئر پر اعتماد نہیں رہا: آئی سی سی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انٹرنشینل کرکٹ کونسل نے باضابطہ طور پرسنیچر کے روز اخباری کانفرنس میں اعلان کیا کہ آسٹریلیائی ایمپائر ڈیرل ہیئر اب فرسٹ کلاس کرکٹ کھیل میں ایمپائر نہیں ہوں گے۔ آئی سی سی کے مطابق انہیں اب ایلیٹ ایمپائرز کی فہرست سے بھی خارج کر دیا گیا ہے۔ آئی سی سی نے کہا کہ اب ڈیرل ہیئر پر آئی سی سی کو اعتماد نہیں رہا اور ان کا ایلیٹ فہرست کے لیے معاہدہ کی تجدید نہیں کی جائے گی۔ آئی سی سی بورڈ نے صدر پرسی سون اور چیف ایکزیکیٹو میلکم سپیڈ کے ذریعہ اوول ٹیسٹ میچ معاملہ کی تفتیشی رپورٹ پر یہ فیصلہ لیا ہے۔ کرکٹ ٹیسٹ میچ کی ایک سو انتیس سالہ تاریخ میں اوول معاملہ پہلی مرتبہ ہوا تھا۔ ذرائع کے مطابق آئی سی سی کی دو روزہ میٹنگ میں ڈیرل ہئیر معاملہ میں صرف آسٹریلیا، انگلینڈ اور نیوزی لینڈ نے ڈیرل کی حمایت میں بیان دیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈیرل کے بارے میں بحث اس بات پر تھی کہ انہوں نے اوول ٹیسٹ میچ کے دوران ڈیرل کا رویہ پاکستان کے ساتھ سخت تھا اور بنا ثبوت کے انہوں نے بال سے چھیڑ چھاڑ کا الزام عائد کر دیا تھا جو بعد میں غلط ثابت ہوا۔ ڈیرل کے رویہ پر بھی اعتراض کیا گیا جب انہوں نے ایمپائرنگ سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ لیا لیکن اس کے لیے آئی سی سی سے معاوضے کا مطالبہ کیا تھا۔ ڈیرل ہیئر ہمیشہ سے تنازع کا شکار رہے ہیں اور ان پر نسل پرستی کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں۔ اس سے قبل انہوں نے سری لنکا کے کھلاڑی مرلی دھرن کی گیند بازی کے ایکشن کے خلاف آواز اٹھائی اور ان کے خلاف فیصلہ دیا تھا۔ لیکن پاکستان ٹیم کے خلاف اوول ٹیسٹ میچ میں ڈیرل کے رویہ نے تمام ایشیائی کھلاڑیوں کو برہم کر دیا تھا۔ پاکستان انگلینڈ کے خلاف چوتھے دن اوول ٹیسٹ میچ کھیل رہا تھا کہ ایمپائر ڈیرل نے پاکستان کے کپتان انضمام الحق پر گیند سے چھیڑ چھاڑ کا الزام عائد کیا اپنے ساتھی ایمپائر بلی ڈاکٹروو کے ساتھ مل کر پاکستان کو پانچ رنز کی سزا کا اعلان کیا اور اس کے بعد گیند بھی بدل ڈالی۔ انضمام اور پاکستانی کھلاڑیوں نے اس پر اعتراض کیا اور چائے کے وقفہ کے بعد وہ کچھ دیر تک میدان میں واپس نہیں آئے۔ کرکٹ ضابطوں کے مطابق ایسے میں دوسری ٹیم کو فاتح قرار دے دیا جاتا ہے اور اوول میچ میں یہی ہوا۔ پاکستان نے ڈیرل ہئیر کے فیصلہ کے خلاف انٹرنیشنل کرکٹ کاؤنسل میں تحریری شکایت کی۔ انڈین کرکٹ بورڈ نے بھی پاکستان کی حمایت کی۔ بال ٹیمپرنگ معاملہ میں انضمام کو کلین چٹ مل گئی لیکن کرکٹ ضابطوں کی خلاف ورزی کی سزا کے طور پر ان کے چار ون ڈے گیم کھیلنے پر پابندی عائد کر دی گئی۔ اس تمام تنازع کے دوران ڈیرل ہئیر نے ایمپائرنگ سے ریٹائر ہونے کی پیشکش کرتے ہوئے پانچ لاکھ ڈالر کا مطالبہ کیا تھا لیکن بعد میں اسے واپس لے لیا تھا۔ آئی سی سی نے اس بات کا سخت نوٹس لیا اور اس کے بعد سے ڈیرل ہئیر کو ایمپائرنگ نہیں دی گئی۔ آئی سی سی چیمپئینز ٹرافی میں بھی وہ ایمپائر منتخب نہیں ہوئے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||