اختتام عمران خان جیسا ہو: انضمام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق کا کہنا ہے کہ اپنے کیریئر کے آخری ورلڈ کپ میں وہ اپنی انیس سو بانوے کے ورلڈ کپ جیسی کارکردگی دہرانے کی کوشش کریں گے۔ یاد رہے کہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں کھیلا گیا انیس سو بانوے کا ورلڈ کپ انضمام الحق کا پہلا ورلڈ کپ تھا۔گیارہ مارچ سے ویسٹ انڈیز میں شروع ہونے والا مجموعی طور پر نواں ورلڈ کپ، انضمام کے کیریئر کا پانچواں ورلڈ کپ ہو گا۔ ویسٹ انڈیز کے شہر ٹرینیڈاڈ میں خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے انضمام کا کہنا تھا ’ہر بڑے کھلاڑی کا ایک وقت ہوتا ہے، جس میں وہ اپنے جوہر دکھاتا ہے اور پھر وقت آگے بڑھ جاتا ہے ۔۔۔۔ یہی زندگی ہے‘۔ عمران خان نے انیس سو بانوے کے ورلڈ کپ کی فاتح پاکستانی کرکٹ ٹیم کی قیادت کی تھی اور اس کے بعد کرکٹ کو خیر آباد کہہ دیا تھا۔ اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے انضمام نے کہا کہ وہ اپنے کیریئر کا اختتام عمران خان جیسا چاہتے ہیں۔ ایک روزہ کرکٹ میں بھارت کے سچن تندولکر کے بعد انضمام الحق سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی ہے۔ انہوں نے کرکٹ کی اس صنف میں 375 میچ کھیل کر 11665 رنز بنا رکھے ہیں۔
انضمام کا کہنا تھا ’ مجھے اعتماد ہے کہ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کروں گا، نیٹ پریکٹس کے دوران میں نے کافی محنت کی ہے‘۔ ورلڈ کپ کے لیے آنے والی پاکستانی ٹیم میں شعیب اختر، محمد آصف اور عبدالرزاق کی عدم موجودگی پر بات کرتے ہوئے انضمام نے امید ظاہر کی کہ محمد سمیع، یاسر عرفات اور اظہر محمود ان کی کمی محسوس نہیں ہونے دینگے۔ ’مجھے اپنی ٹیم پر اعتماد ہے اور ہم ورلڈ کپ میں بھر پور کارکردگی دکھائیں گے‘۔ انضمام کا کہنا تھا کہ ایک روزہ کرکٹ میں ہر ٹیم مشکل ہوتی ہے اور کوئی ایک کھلاڑی بھی میچ کا نقشہ بدل سکتا ہے۔ |
اسی بارے میں ’کسی ٹیم کو فیورٹ نہیں سمجھتے‘ 24 February, 2007 | کھیل ’ہم نے فتح کا سنہرا موقع گنوا دیا‘29 January, 2007 | کھیل کمزور حریف نہیں ہیں: انضمام18 December, 2006 | کھیل ورلڈ کپ میں بھی انضمام کپتان17 December, 2006 | کھیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||