’رچرڈز کو سنچری بناتے دیکھا تھا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملتان کے بارے میں مشہور رہا ہے کہ گرد، گدا ، گور اور گرما ۔ لیکن اب اس شہر کی ایک اور پہچان ہے اور وہ ہے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق۔ انضمام الحق کی اپنے آبائی شہر سے وابستہ یادوں کو پھر سے تازہ کرتے ہوئے کہتے ہیں ’بچپن میں جب میں اپنی حویلی کے صحن میں خاندان کے دوسرے بچوں کے ساتھ کرکٹ کھیلتا تھا تو وقفہ ہونے پر دال چاول اور حلیم سے ہماری تواضع ہوتی تھی‘۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان سے جب میں نے پوچھا کہ چھبیس سال قبل ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیم ٹیسٹ کھیلنے ملتان آئی تھی تو کیا اس میچ کی کوئی یاد ہے؟ انضمام الحق بولے ’کیوں نہیں۔ وہ میچ دیکھنے میں قاسم باغ سٹیڈیم گیا تھا اور ویوین رچرڈز کو سنچری بناتے دیکھا تھا‘۔ کیا دوستوں کے ساتھ سٹیڈیم گئے تھے یا گھروالے لے گئے تھے؟ انضمام الحق کہتے ہیں ’بڑے بھائی انتظار الحق مجھے میچ میں لے گئے تھے۔
انضمام الحق کہتے ہیں ’ملتان میں کھیلتے ہوئے بہت خوشی ہوتی ہے۔ لوگوں کی توقعات زیادہ ہونے کی وجہ سے پریشر ضرور ہوتا ہے لیکن کھیلنے میں مزا آتا ہے‘۔ پاکستانی کپتان نے ملتان میں کھیلے گئے چار ٹیسٹ میچوں میں دو سنچریاں اور دو نصف سنچریاں بنائی ہیں اور وہ ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں بھی کارکردگی کے اس سلسلے کو جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ انٹرنیشنل کرکٹ کی بے پناہ مصروفیات میں ملتان کے دوستوں کو کیسے یاد کرتے ہیں؟ انضمام الحق کا کہنا ہے ’یہ درست ہے کہ ان سے بہت کم ملنے کا موقع ملتا ہے لیکن وہ کبھی لاہور آجاتے ہیں اور میں ملتان جاؤں تو ان کے ساتھ بیٹھک ضرور ہوتی ہے‘۔ | اسی بارے میں ’لارامجھ سے بہتر کھلاڑی ہیں‘07 November, 2006 | کھیل ’بڑے ناموں کے بغیر بھی جیت رہے ہیں‘14 November, 2006 | کھیل دل چاہتا ہے کھیلتا ہی رہوں: انضمام10 November, 2006 | کھیل رچرڈز انڈیا کے نئے کوچ؟22 April, 2005 | کھیل ویسٹ انڈیز: برابری کیلیے بیتاب18 November, 2006 | کھیل پاکستان کی نو وکٹوں سے کامیابی14 November, 2006 | کھیل انضمام الحق کے آٹھ ہزار رن02 December, 2005 | کھیل جبراً نماز نہیں پڑھواتا: انضمام23 October, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||