BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بڑے ناموں کے بغیر بھی جیت رہے ہیں‘

ہم نے بہترین دستیاب کھلاڑیوں کے ساتھ ٹیسٹ جیتا ہے
پاکستانی ٹیم کےکپتان انضمام الحق کی لاہور ٹیسٹ جیتنے پر خوشی بجا ہے۔ فاسٹ بولرز شعیب اختر اور محمد آصف کے نہ ہونے کے بعد مبصرین اور تجزیہ نگار پاکستانی ٹیم، خاص کر اس کی بالنگ کے بارے میں زیادہ پرامید دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ لیکن ان دونوں بالرز کے بغیر بھی پاکستانی ٹیم ویسٹ انڈیز کی بیس وکٹیں حاصل کرکے لاہور ٹیسٹ اپنے نام کرنے میں کامیاب ہوگئی۔

میچ کے بعد جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ پاکستان کی سیکنڈ الیون تھی تو انضمام الحق نے اس کا جواب نفی میں دیتے ہوئے کہا کہ بہترین دستیاب کھلاڑیوں کے ساتھ انہوں نے ٹیسٹ جیتا ہے۔

انضمام الحق اس بات پر بھی مطمئن ہیں کہ ٹیم کسی ایک کھلاڑی پر انحصار کرنے کی سوچ سے باہر نکل چکی ہے اور اس نے نہ صرف اچھی کارکردگی بھی دکھائی ہے بلکہ میچز بھی جیتے ہیں۔

 ہم نے بہترین دستیاب کھلاڑیوں کے ساتھ ٹیسٹ جیتا ہے
انضی

انضمام الحق یہ تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستانی کرکٹ حالیہ دنوں میں جس بحران سے دوچار رہی اس کے بعد ٹیم کو متحد کرکے مطلوبہ نتائج حاصل کرنا آسان نہ تھا لیکن انہیں خوشی ہے کہ تمام کھلاڑیوں نے ٹیم ورک کا مظاہرہ کیا۔

پاکستانی کپتان کہتے ہیں کہ پہلے دن ویسٹ انڈیزکو کم سکور پر آؤٹ کرنے سے میچ پر ان کی گرفت مضبوط ہوگئی تھی جس کے بعد محمد یوسف نے شاندار اننگز کھیلی اور شعیب ملک اور کامران اکمل نے بھی ذمہ دارانہ بیٹنگ کی۔

بہت زیادہ ون ڈے کرکٹ کھیل کر ٹیسٹ میں خود کو ایڈجسٹ کرنا آسان نہیں ہے لیکن یہ شکست کا جواز نہیں
برائن لارا

انضمام نے عمر گل اور شاہد نذیر کی بولنگ کی تعریف کی اور کہا کہ انگلینڈ کے دورے میں شاہدنذیر کوزیادہ وکٹیں نہیں ملیں لیکن اس نے عمدہ بولنگ کی تھی جس کے نتیجے میں اسے یہاں موقع دیا گیا اسی طرح فٹ ہوکر ٹیم میں واپس آنے کے بعد عمر گل اچھی بولنگ کررہا ہے۔

ویسٹ انڈین کپتان برائن لارا یہ مانتے ہیں کہ بہت زیادہ ون ڈے کرکٹ کھیل کر ٹیسٹ میں خود کو ایڈجسٹ کرنا آسان نہیں ہے لیکن اسے وہ شکست کا جواز نہیں سمجھتے۔

 طویل مدت کے منصوبے نہیں بناتا لیکن تادیر پاکستان کے لیئے ضرور کھیلنا چاہتا ہوں
عمر گل

لارا کو یقین ہے کہ ان کی ٹیم بقیہ دو ٹیسٹ میچوں میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی اس سلسلے میں وہ پاکستان کی مثال دیتے ہیں جس نے گزشتہ سال ویسٹ انڈیز میں پہلا ٹیسٹ ہارنے کے بعد سیریز برابر کی تھی۔

مین آف دی میچ عمرگل کو خوشی ہے کہ وہ ٹیم کے اعتماد پر پورے اترے۔ ان کا کہنا ہےکہ ان پر کوئی غیرضروری پریشر نہیں تھا۔ عمرگل نے اسی میدان پر بھارت کے خلاف عمدہ بولنگ کی تھی تاہم وہ وکٹ زیادہ سپورٹنگ تھی۔

مستقبل کے بارے میں عمر گل کا کہنا ہے کہ وہ طویل مدت کے منصوبے نہیں بناتے لیکن تادیر پاکستان کے لیئے ضرور کھیلنا چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں
محمد یوسف وکٹ سے ناخوش
12 November, 2006 | کھیل
اعتماد بحال ہوچکا: اکمل
13 November, 2006 | کھیل
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد