BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 10 November, 2006, 09:35 GMT 14:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لارا بمقابلہ انضمام، پہلا ٹیسٹ لاہور میں

برائن لارا
برائن لارا نے پاکستان کے خلاف 9 ٹیسٹ میچوں میں725 رنز بنائے ہیں
نو سال کے طویل عرصے کے بعد ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیم ایک بار پھر پاکستانی سر زمین پر پاکستانی کرکٹ ٹیم کےمد مقابل ہے۔ دونوں ٹیموں کے درمیان تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا پہلا ٹیسٹ ہفتے سے قذافی اسٹیڈیم لاہور میں شروع ہو رہا ہے۔

سنہ 1997 میں پاکستانی میدانوں پر تین صفر کی ہزیمت کے بعد ویسٹ انڈیز کو2002 میں پاکستان کا دورہ کرنا تھا لیکن سکیورٹی کے خدشات کو بنیاد بنا کر اس نے پاکستان آنے سے انکار کر دیا تھا جس کے نتیجے میں پاکستان کو اس کے خلاف دو ٹیسٹ اور تین ون ڈے انٹرنیشنل میچوں کی سیریز شارجہ میں کھیلنی پڑی تھی۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم ایک بار پھر انضمام الحق کی قیادت میں میدان میں اتر رہی ہے جن پر آئی سی سی کی جانب سے چار ون ڈے انٹرنیشنل میچوں کی پابندی کا سامنا ہے اور ویسٹ انڈیز کے خلاف راولپنڈی میں کھیلا جانے والا پہلا ون ڈے بھی اس کی زد میں آئے گا۔

مبصرین اس سیریز کو عصرحاضر کے دو عظیم بیٹسمینوں انضمام الحق اور برائن لارا کی پاکستان ویسٹ انڈیز میچوں میں عمدہ کارکردگی کے تناظر میں بڑی اہمیت دے رہے ہیں۔

برائن لارا ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ 11505 رنز اور سب سے بڑی انفرادی اننگز 400 کے عالمی ریکارڈ کے مالک ہیں جبکہ انضمام الحق پاکستان کی طرف سے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ 8832 رنز کے بعد جاوید میانداد کے ریکارڈ سے صرف 334 رنز کی دوری پر ہیں۔

انضمام الحق کو پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ہونے والی ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ1091 رنز کا ویوین رچرڈز کا ریکارڈ توڑنے کے لیے صرف85 رنز درکار ہیں۔ وہ دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والے ٹیسٹ میچوں میں سب سے زیادہ یعنی چار سنچریاں بنانے والے بیٹسمین بھی ہیں۔

برائن لارا کا بھی پاکستان کے خلاف ریکارڈ متاثرکن ہے۔ انہوں نے9 ٹیسٹ میچوں میں2 سنچریوں کی مدد سے725 رنز بنائے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ برائن لارا نے اپنا اولین ٹیسٹ سولہ سال قبل قذافی اسٹیڈیم لاہور ہی میں کھیلا تھا اور اب وہ اس میدان پر دوبارہ پاکستانی بولنگ کے سامنے ہونگے۔

ویسٹ انڈین ٹیم میں برائن لارا اور شیونرائن چندر پال ہی دو ایسے بیٹسمین ہیں جو اس سے قبل پاکستان کا دورہ کرچکے ہیں تاہم بیٹنگ میں کرس گیل اور رام نریش سروان جبکہ بولنگ میں ڈیرن پاول، فیڈل ایڈورڈز، کوری کولی مور اور براوو کی صلاحیتوں سے کسی کو بھی انکار نہیں۔ براوو بحیثیت بیٹسمین بھی خود کو منواچکے ہیں۔

شعیب اختر اور محمد آصف کی غیرموجودگی میں پاکستانی کپتان انضمام الحق لیگ سپنر دانش کنیریا پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں جن کی پانچ وکٹوں کی عمدہ کارکردگی نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کو گزشتہ سال کنگسٹن ٹیسٹ میں کامیابی سے ہمکنار کیا تھا اور وہ ویسٹ انڈیز کے خلاف 4 ٹیسٹ میچوں میں14 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔

حالیہ دنوں میں ویسٹ انڈیز کی کارکردگی ون ڈے میں بہت اچھی رہی ہے لیکن ٹیسٹ میں اس کا ریکارڈ بہت خراب رہا ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آخری14 ٹیسٹ میچوں میں وہ صرف ایک ٹیسٹ جیت سکی ہے۔

پاکستان میں کھیلے گئے18 ٹیسٹ میچوں میں ویسٹ انڈیز کوصرف4 میچوں میں کامیابی حاصل ہوسکی ہے جبکہ 7 میں اسے شکست ہوئی ہے۔

اسی بارے میں
آصف نے اپیل کر دی
06 November, 2006 | کھیل
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد